لیاری یونیورسٹی میں مبینہ رشوت ستانی، گریڈ 17 کا افسر معطل، جامعہ کے احاطے میں داخلہ روک دیا گیا
شیئر کریں
آغا عدنان احمد پر غیر قانونی مالی منفعت طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزامات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں مبینہ رشوت ستانی کے معاملے پر پرو وائس چانسلر کے دفتر میں تعینات گریڈ 17 کے افسر آغا عدنان احمد کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ویڈیو کلپس میں آغا عدنان احمد پر غیر قانونی مالی منفعت طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے، جن کے باعث لیاری یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ جامعہ لیاری کے وائس چانسلر نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی منظوری سے آغا عدنان احمد کو فوری طور پر معطل کر کے انھیں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ معطلی کے دوران آغا عدنان احمد کی تمام سرکاری ذمہ داریاں، اسائنمنٹس اور عہدے واپس لے لیے گئے ہیں۔ انھیں یونیورسٹی کے احاطے، سرکاری ریکارڈ، آفیشل ای میل اور سسٹم اکاؤنٹس تک رسائی سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق آغا عدنان احمد کو 24 گھنٹوں کے اندر تمام سرکاری املاک، فائلیں، چابیاں اور سرکاری دستاویزات رجسٹرار آفس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جاری تحقیقات اور انکوائری مکمل ہونے تک ان کی تنخواہ اور دیگر قابلِ قبول الاؤنسز بھی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آغا عدنان احمد پر بہ یک وقت 2 سرکاری نوکریاں کرنے کے بھی الزامات ہیں، جب کہ ان کے خلاف بہت ساری مالی بدعنوانی کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی معاملے کی جاری تحقیقات اور انکوائری کے تناظر میں کی گئی ہے، جب کہ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔


