میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایچ ای سی تعلیم کے راستے میں رکاوٹ

ایچ ای سی تعلیم کے راستے میں رکاوٹ

جرات ڈیسک
پیر, ۷ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈاکٹر نیاز صاحب آج کل ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئر مین ہیں۔ اس ادارے کو پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کے فروغ کے لئے قائم کیا تھا۔ اس ادارے کی کچھ خدمات پر فخر کیا جا سکتا ہے مگر عملی طور پر یہ ادارہ پاکستان میں ریسرچ اور تعلیم کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن کر کھڑا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے ادارے یونیورسٹیوں کی مدد کے لئے ہوتے ہیں اور ان کا کردار مشورہ دینے کا ہوتا ہے مگر گزشتہ سالوں میں یہ ایک ایسے جابر اور بے رحم ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے یونیورسٹیوں پر غیرمعمولی کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کے کلرک پنجاب یونیورسٹی جیسے اداروں کے وی سی سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرتی ہے مگر اس کی اس وقت تک کوئی وقعت نہیں ہے جب تک ایچ ای سی کا کلرک اس کی جانچ پڑتال کرکے اس پر مہر نہیں لگاتا۔ یہ پنجاب یونیورسٹی جیسے صدیوں پرانے ادارے کی تذلیل ہے ۔ ایچ ای سی نے یہ اختیار کچھ نئی یونیورسٹیوں کی مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد حاصل کیا تھا۔اس کے بعد معتبر یونیورسٹیوں کو بھی غیر معتبر یونیورسٹیوں کی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹیاں ریسرچ کرتی ہیں اور قوم کو آگے لے کر جاتی ہیں ریسرچ کے لئے ایچ ای سی نے ریسرچر کی آزادی محدود کر دی ہے اسے اسی طرح سوچنا ہے جس طرح ایچ ای سی کی خواہش ہے اس لئے یونیورسٹیاں ایسی پی ایچ ڈی نہیں کروا رہی ہیں جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو جس سے علم میں اضافہ ہو۔ کیونکہ ایچ ای سی کی پہنائی ہوئی زنجیریں ذہنوں کی سوچ کو مخصوص دائروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتی۔پی ایچ ڈی کے لئے سروے ریسرچ کو جو فروغ ملا ہے اس پر ایچ ای سی پر ایک بڑا قومی مجرم ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کا ڈگری جاری کرنے کا اختیار ہی اپنے کلرکوں کی مہر سے مشروط نہیں کیا۔ یونیورسٹیوں کے نصاب کی تیاری نیں ایچ ای سی کا اختیار بھی بہت افسوسناک ہے۔اب اس سلسلے نیں یونیورسٹیاں ایچ ای سی کے ہدایت نامے کی پابند ہوکر رہ گئی ہیں ۔

ڈاکٹر نیاز احمد زبردست انسان ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے ہر دلعزیز وائس چانسلر رہے۔قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنی انتظامی اور علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی باتوں میں دانش مہک اٹھتی ہے۔ مشکل مسئائل کو حکمت سے حل کرتے ہیں عزم ویقین کی دولت سے مالامال ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات برسوں پہلے وائس چانسلر ہاوس پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے ساتھ ہوئی تھی۔ گزشتہ دنوں برادر محترم سلمان غنی کے ساتھ گوجرانوالہ میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ان کے ساتھ ملاقات بھی ہوئی اور ان کی پرمغز تقریر سننے کا موقعہ ملا انہوں نے مستقبل کے پاکستان کی روشن تصویر دکھائی ۔پنجاب یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر سر جیمز براڈ ووڈ لیال تھے اور اس وقت اس کا رقبہ 300 ایکٹر پر محیط تھا۔

جامعہ کا آغاز اورینٹل لرننگ کی ڈگریز سے ہوا۔شروع میں تو اورینٹل لرننگ لیکن بعد میں ہر طرح کی فیکلٹی جامعہ پنجاب کا حصہ بن گئی۔ اب تو یہاں کوئی ایسا مضمون نہیں جو نہ پڑھایا جاتا ہو۔ محترم ڈاکٹرنیاز احمد نے جب اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو پنجاب یونیورسٹی میں 13 فیکلٹیز، 10کانسٹیٹیونٹ کالجز، 73ڈیپارٹمنٹس تھے جو کہ موجودہ دور کی تعلیمی ضروریات کے مطابق ناکافی تھے۔ انہوں نے آئندہ پچاس سال کے لئے ملکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام فیکلٹیوں اور شعبہ جات کے ڈھانچے کو جدید دور کی تعلیمی و تحقیقی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لئے کام شروع کیا۔ ان کی محنت اور توجہ کی بدولت آج پنجاب یونیورسٹی میں کل 19 فیکلٹیاں قائم ہو چکی ہیں جبکہ شعبہ جات کی تعداد اور سنٹر 150 ہو چکے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹیوں اور شعبہ جات کی تنظیم ِ نو سے ملکی سطح پر تعلیمی قیادت کے فقدان سے نمٹنے اور جدید تمام شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق بین الاقوامی معیار کے گریجوایٹس پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز صاحب نے اپنی تقرری کے فوراً بعد یہ بات واضح کر دی کہ آئندہ یونیورسٹی میں ہر کام قانون، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کسی استاد کو ذاتی پسند یا ناپسند پر نہ ترقی ملے گی اور نہ عہدے ملیں گے۔ آئندہ ایک پروفیسر ایک ہی عہدے پر کام کرے گا۔ پنجاب یونیورسٹی میں قائم تمام شادی ہالز کو بند کر دیا گیا کیونکہ تعلیمی اداروں کی زمین کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنا بالکل غلط ہے۔ یونیورسٹی کو بین الاقوامی رینکنگ میں لانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کام شروع کیا گیا۔ اس وقت یونیورسٹی میں33فیصد اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں۔ آنے والے چار برسوں میں یہ تعداد 80 فیصد ہو جائے گی۔ڈاکٹر نیاز سے امید ہے کہ وہ ان معاملات کو ہمدردی سے دیکھیں گے۔ ْپنجاب یونیورسٹی کے وی سی کے طور پر انہیں ایچ ای سی پر جو غصہ آتا تھا وہ انہیں یاد ہوگا۔ ان سے یہ امید وابستہ کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے کہ یونیورسٹیویوں کی عزت اور اختیار انہیں واپس کریں گے ۔ اور پاکستان میں اعلی تعلیم کو ایچ ای سی کے کلرکوں کی ذہنی آمریت سے نجات دلائیں گے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں