حق مانگنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا!
شیئر کریں
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم، طبقے یا فرد کے حقوق سلب کیے گئے تو اس نے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند
کی۔ حق مانگنا انسان کا فطری، اخلاقی اور قانونی حق ہے ۔ دنیا کے تمام مہذب معاشرے اسی اصول پر قائم ہیں کہ ہر فرد کو اپنی بات کہنے ،
اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض اوقات طاقت ور حلقے
اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حق کی آواز بلند کرنے والوں کو مختلف القابات سے نوازنے لگتے ہیں۔ کبھی انہیں باغی کہا جاتا ہے ، کبھی ملک
دشمن، کبھی انتشار پسند اور کبھی دہشت گرد۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حق مانگنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق کے
حصول کے لیے جدوجہد کرنے والا فرد ہوتا ہے ۔
دہشت گردی اور حق کے مطالبے میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ دہشت گردی کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، انسانی جانوں کو نقصان
پہنچانا، امن کو تباہ کرنا اور ریاستی یا سماجی نظام کو تشدد کے ذریعے یرغمال بنانا ہوتاہے ۔ اس کے برعکس حق مانگنے والا شخص اپنے جائز مطالبات
کے لیے پرامن ذرائع اختیار کرتا ہے ۔ وہ انصاف، مساوات، آزادی اور انسانی وقار کی بات کرتا ہے ۔ اگر کوئی مزدور اپنے جائز معاوضے کا
مطالبہ کرے ، کوئی طالب علم بہتر تعلیمی سہولیات مانگے ، کوئی کسان اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے یا کوئی قوم اپنے آئینی اور قانونی
حقوق کی بات کرے تو اسے دہشت گرد قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے ۔
تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جہاں حق مانگنے والوں کو ابتدا میں مجرم اور باغی قرار دیا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ حق
اور انصاف کے علمبردار تھے ۔ برصغیر کی آزادی کی تحریک ہو، افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد ہو یا دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی
حقوق کی تحریکیں، ہر جگہ حق کے متوالوں کو الزامات، قید و بند اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر تاریخ نے بالآخر انہی لوگوں کو عزت بخشی جنہوں
نے ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔
اسلام بھی حق اور انصاف کے قیام کا درس دیتا ہے ۔ قرآن مجید بار بار عدل، انصاف اور مظلوم کی حمایت کا حکم دیتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی
پوری حیاتِ طیبہ حق کے لیے جدوجہد اور مظلوموں کی حمایت کا روشن نمونہ ہے ۔ مکہ مکرمہ میں جب کمزور اور بے بس لوگوں پر ظلم ہوتا تھا تو
آپ ﷺ ان کے حق میں آواز بلند کرتے تھے ۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں ہر فرد کے حقوق محفوظ تھے ۔ اسلام
نے ظالم کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم کی مدد کو عبادت قرار دیا ہے ۔ لہٰذا حق کے لیے آواز بلند کرنا نہ صرف ایک انسانی حق ہے بلکہ اسلامی
تعلیمات کا بھی تقاضا ہے ۔
معاشروں میں اس وقت بگاڑ پیدا ہوتا ہے جب حق مانگنے والوں کی آواز دبائی جاتی ہے ۔ جب لوگوں کو اظہارِ رائے کی آزادی نہ ملے ، جب انصاف کے دروازے بند کر دیے جائیں، جب شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام موجود نہ ہوں تو بے چینی اور اضطراب جنم لیتا ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظات سنے ، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ
اقدامات کرے ۔ مسائل کو حل کرنے کے بجائے آواز اٹھانے والوں کو مجرم قرار دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دینا ہے ۔
آج کی دنیا میں انسانی حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے ۔ اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں ہر فرد کو آزادیِ
اظہار، آزادیِ اجتماع اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا حق دیا گیا ہے ۔ جمہوری نظام کی اصل روح ہی یہ ہے کہ عوام اپنی رائے کا اظہار کر
سکیں اور حکمران ان کی بات سنیں۔ اگر عوام کے جائز مطالبات کو محض طاقت کے زور پر دبایا جائے تو جمہوریت اپنی روح کھو بیٹھتی ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض عناصر حق کی تحریکوں میں شامل ہو کر تشدد کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، جس سے اصل مقصد متاثر ہوتا ہے ۔ تاہم
چند افراد کے غلط طرزِ عمل کی بنیاد پر پوری تحریک یا تمام مطالبہ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا انصاف نہیں۔ کسی بھی مسئلے کا جائزہ حقائق، شواہد اور قانون کی روشنی میں لیا جانا چاہیے ، نہ کہ جذبات، تعصبات یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے دور میں حق اور باطل کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ آج رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے مختلف بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات حق مانگنے والوں کی کردار کشی کی جاتی ہے ، ان کی جدوجہد کو مشکوک بنایا جاتا ہے اور ان کے مطالبات کو منفی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں معاشرے کے باشعور طبقے ، دانشوروں، صحافیوں اور اہلِ قلم کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ حقائق کو سامنے لائیں اور انصاف پر مبنی موقف اختیار کریں۔
حق کا مطالبہ دراصل انسانی وقار کا مطالبہ ہے ۔ ایک مزدور جب اپنے پسینے کی کمائی مانگتا ہے ، ایک ملازم جب اپنے جائز حقوق کی بات
کرتا ہے ، ایک طالب علم جب معیاری تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے ، ایک شہری جب قانون کی مساوی عمل داری چاہتا ہے یا کوئی محروم طبقہ اپنی
شناخت اور حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے تو یہ سب حق کے مطالبے کی مختلف صورتیں ہیں۔ ان مطالبات کو سننا، سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا
مہذب معاشروں کی پہچان ہے ۔
حقیقی امن طاقت کے زور پر خاموشی مسلط کرنے سے نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنے سے قائم ہوتا ہے ۔ جب لوگوں کو یقین ہو کہ ان کی
آواز سنی جائے گی، ان کے ساتھ انصاف ہوگا اور ان کے حقوق محفوظ ہوں گے تو معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس جب
حق کی آواز کو دبایا جاتا ہے تو محرومی، بے اعتمادی اور اضطراب بڑھتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ حق اور دہشت گردی کے درمیان واضح
فرق کو سمجھا جائے اور ہر جائز مطالبے کو سنجیدگی سے لیا جائے ۔
پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہے جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز مساوی حقوق حاصل ہیں۔ خواہ کوئی فرد یا گروہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر یا پاکستان کے کسی بھی کونے سے اپنے آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرے ، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی بات کو سنجیدگی سے سنے اور اسے عدل و انصاف فراہم کرے ۔ شہریوں کے جائز مطالبات کو طاقت، تعصب یا سیاسی وابستگی کی عینک سے دیکھنے کے بجائے آئین اور قانون کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے ۔ ایک مضبوط ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ وہ اختلافی آوازوں کو دبا دے ، بلکہ یہ ہے کہ وہ محرومیوں کا ازالہ کرے ، شکایات کا ازالہ کرے اور ہر شہری کو یہ یقین دلائے کہ اس کے حقوق، عزت اور وقار کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ۔ جب انصاف سب کے لیے یکساں ہوگا اور حقوق کی فراہمی میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جائے گا تو قومی یکجہتی، اعتماد اور پائیدار امن کو فروغ ملے گا۔
حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ حق مانگنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا۔ دہشت گرد وہ ہے جو ظلم، تشدد اور خوف کو اپنا ہتھیار بنائے ، جبکہ حق مانگنے والا انصاف، مساوات اور انسانی وقار کا علمبردار ہوتا ہے ۔ ایک مہذب، جمہوری اور اسلامی معاشرے کی بنیاد اسی اصول پر قائم ہوتی ہے کہ ہر فرد کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد کا حق حاصل ہو۔ جب تک یہ اصول زندہ رہے گا، انصاف کی شمع روشن رہے گی اورمعاشرہ امن، ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہے گا۔
٭٭٭


