پاکستانی کھجور کی عالمی منڈی میں مانگ بڑھنے لگی، برآمدی صلاحیت میں اضافے کے امکانات
شیئر کریں
مختلف اقسام، بہتر معیار اور جدید پیکیجنگ سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی کھجور کی مسابقت بڑھ رہی ہے، ماہرین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانی کھجور نے اپنی متنوع اقسام اور معیار کے باعث عالمی منڈی میں نمایاں مقام بنانے کی صلاحیت پیدا کرلی ہے، جبکہ عالمی سطح پر کھجور کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستان کے لیے برآمدات میں اضافے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
پاکستان میں پیدا ہونے والی کھجور کی مختلف اقسام، جن میں عسیل، ڈھکی، بیگم جنگی، کْپرو اور مزواتی نمایاں ہیں، اپنی ذائقے، معیار اور غذائی خصوصیات کے باعث عالمی صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کھجور کی کاشت پاکستان کے زرعی تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔
ان علاقوں میں پیدا ہونے والی مختلف اقسام ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدی منڈیوں تک بھی پہنچ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی کھجور کی عالمی منڈی میں رسائی مزید بڑھانے کے لیے معیاری پیداوار، صفائی و گریڈنگ، جدید پیکیجنگ، کولڈ اسٹوریج اور برآمدی معیار کے مطابق پراسیسنگ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
بہتر معیار اور جدید پیکیجنگ کے ذریعے پاکستانی کھجور عالمی مارکیٹ میں دیگر پیداواری ممالک کے ساتھ مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکومتی سطح پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تعاون سے کاروباری اور برآمدی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں، جن کا مقصد برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنا اور ملکی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی کھجور کے لیے عالمی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئی منڈیوں تک رسائی، مصنوعات کی بہتر تشہیر اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدی حجم اور آمدن میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
کھجور کی برآمدات میں اضافہ نہ صرف زرِمبادلہ کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتا ہے بلکہ اس سے دیہی معیشت کو بھی فروغ ملے گا، کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور کھجور کی کاشت سے وابستہ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
زرعی شعبے سے وابستہ ماہرین نے کہا کہ اگر پیداوار کے معیار کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ، برآمدی نظام کو مؤثر اور کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی و سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستانی کھجور عالمی منڈی میں ملک کی اہم زرعی برآمدی مصنوعات میں شامل ہوسکتی ہے۔


