میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
2 ماہ میں تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا

2 ماہ میں تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا

جرات ڈیسک
جمعه, ۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

برآمدات کی شرح نمو درآمدات کے مقابلے میں نصف، بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھنے کا خدشہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران 18 فیصد اضافے سے 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں تقریباً دگنی رہی، جس کے باعث بیرونی شعبے پر دباؤ بڑھنے اور بیرونی قرضوں پر انحصار میں اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست 2026 کے دوران ملکی درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق 7.1 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر یا 18 فیصد زیادہ ہے۔

یہ تجارتی خسارہ حکومت کی جانب سے بیرونی ادائیگیوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے حال ہی میں حاصل کیے گئے 3 ارب ڈالر کے قرض سے بھی دگنا سے زیادہ ہے۔

حکومت نے یہ قرض ساڑھے پانچ سے 10 سال کی مدت کے لیے حاصل کیا ہے، جس پر موجودہ مارکیٹ شرح کے مطابق تقریباً 7.9 سے 8.25 فیصد حقیقی منافع ادا کرنا ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی دو ماہ کے دوران درآمدات 12.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک ارب 50 کروڑ ڈالر یا 13 فیصد زیادہ ہیں۔

دوسری جانب برآمدات میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہوسکا اور ان کی شرح نمو درآمدات کے مقابلے میں تقریباً نصف رہی۔جولائی میں برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد اگست میں دوبارہ اپنی روایتی ماہانہ سطح تقریباً 2.5 ارب ڈالر پر آگئیں۔

ماہرین کے مطابق برآمدات میں مطلوبہ رفتار سے اضافہ نہ ہونا ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت برآمد کنندگان کو مالی سہولتیں، رعایتی قرضے اور دیگر مراعات فراہم کررہی ہے۔

برآمد کنندگان کا مؤقف ہے کہ برآمدات میں جمود کی بڑی وجوہ میں پاکستانی روپے کی مضبوط قدر بھی شامل ہے، جس سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت متاثر ہورہی ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) کے اشاریے کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 8 فیصد کمی ہوئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے بیرونی شعبے کا استحکام مسلسل غیر ملکی قرضوں کی آمد پر انحصار کرتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات جیسے قرض پیدا نہ کرنے والے اہم ذرائع میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کے باوجود خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق درآمدات میں تیز رفتار اضافہ اور برآمدات میں محدود نمو کا یہ رجحان جاری رہا تو بیرونی کھاتے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور حکومت کو مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی قرضوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑسکتا ہے۔

عالمی بینک، آئی ایم ایف اور غیر ملکی ماہرین کی رہنمائی میں تیار کی گئی قومی ٹیرف پالیسی کے تحت حکومت نے ملکی معیشت کو غیر ملکی مسابقت کے لیے مزید کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عالمی بینک نے توقع ظاہر کی تھی کہ نئی ٹیرف پالیسی کے نتیجے میں برآمدات میں 14 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں صرف 7 فیصد اضافے کا امکان ہے۔تاہم پالیسی کے پہلے سال کے نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے اور دوسرے مالی سال کے ابتدائی اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کررہے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ برآمدات کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے ہورہا ہے، جس سے تجارتی توازن بہتر بنانے کے لیے پالیسی اقدامات کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں