میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گھپ اندھیری رات کا ایک اور ٹمٹماتا چراغ گل ہوگیا!

گھپ اندھیری رات کا ایک اور ٹمٹماتا چراغ گل ہوگیا!

جرات ڈیسک
جمعه, ۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

آہ! شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! آپ ایک طویل عرصہ سے علیل چلے آرہے تھے۔ ایک طرف عمر کا تقاضا اور طرح طرح کے امراض کا گھیراؤ اور دوسری طرف رائے ونڈ جیسے عالمی تبلیغی مرکز اور مدرسہ کی عالم گیر دعوتی وتدریسی ذمہ داریاں ، یقینا یہ بڑا جان جوکھوں کا کام تھا۔

مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۷؍جنوری ۱۹۴۲ء کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لائل پور موجودہ فیصل آباد کے ایک نواحی
علاقہ میں پیدا ہوئے ۔ اور ابتدائی تعلیم وہیں ایک مڈل سکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں حاجی عبد الوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ کو مولانا
محمد احمد بہاول پوری رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی مفتی محمد فاروق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس دینی تعلیم کے لیے ‘‘فقیر والی’’ میں چھوڑ
آئے، جہاں آپ نے فارسی سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک چار سال کے مختصر عرصہ میں موصوف سے انفرادی استفادہ کیا اور اس کے بعد شیخ
الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے دورۂ حدیث کرکے مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور سے ۱۹۶۰ء میں سند فراغت حاصل کی۔

درسِ نظامی سے فراغت کے بعد آپ نے ۱۹۶۳ء میں مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز رائے ونڈ میں درس و تدریس کا آغاز کیا ، جہاں مختلف علوم و
فنون کی کتب آپ کے زیر درس آئیں۔ آپ کے درس کا انداز عام فہم ، دلچسپ اور معیاری تھا۔ مغلق اور پیچیدہ مسائل کو چٹکیوں میں سمجھانے
کا ملکہ آپ میں موجود تھا۔ مختلف فیہ مسائل میں ائمہ کے اختلافات و مستدلات کو نہایت ہی آسان انداز میں آپ بیان فرماتے تھے۔

دعوت و تبلیغ کی عالم گیری اور تعلیم و تعلم کی ہمہ گیری کے سبب آپ کو باقاعدہ تصنیف و تالیف کا موقع تو میسر نہیں آیا تاہم اسی دعوتی کام کی
ضرورت کے پیش نظر حضرت جی ثانی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز تصنیف ‘‘حیاۃ الصحابہ’’ کا اردو ترجمہ آپ نے کیا۔ اس کے بارے میں آپ خود لکھتے ہیں: ‘‘گزشتہ چند سالوں سے مخدوم گرامی حضرت مولانا محمد عمرصاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ بندہ سے
تقاضا فرما رہے تھے کہ اس مبارک کتاب کا اردو میں ترجمہ کرڈالو! مگر یہ ناکارہ اپنی کم مائیگی، بے بضاعتی، ناتجربہ کاری، تصنیف و تالیف سے
عدم مناسبت، نیز رائے ونڈ کی مسجد و مدرسہ کی دعوتی و تدریسی مصروفیات کی وجہ سے اِس خدمت کی ہمت نہ کرسکا۔ لیکن رائے ونڈ کے سالانہ
اجتماع نومبر ۱۹۹۰ء کے بعد دہلی واپسی کے موقع پر لاہور ہوائی اڈہ پر حضرت جی (مولانا انعام الحسن) رحمۃ اللہ علیہ نے محترم الحاج محمد عبد
الوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے صراحتاً حکم فرمایا کہ احسان ‘‘حیاۃ الصحابہؓ’’ کا اردو ترجمہ کرے۔ چناں چہ موصوف نے کہا کہ حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم وارشاد کے بعد اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بندہ یہ سن کر ششدر رہ گیااور اپنی نا اہلی کی وجہ سے بہت بوجھ محسوس ہوا ۔ اور طبیعت آمادہ نہیں ہورہی تھی، مگر امتثالِ امر میں اِس اُمید پر قلم اُٹھالیا کہ جن مبارک نفوس کے حکم اور تقاضے سے یہ کام شروع کیا جارہا ہے اُن کی سرپرستی، توجہ اور دُعاء کی برکت سے ان شاء اللہ تعالیٰ! تکمیل ہوجائے گی۔ چناں چہ بہ نام خدا ۲۱؍نومبر۱۹۹۰ء سے ترجمہ شروع کیا۔(عرضِ مترجم حیاۃ الصحابہؓ: جلد اوّل ص۱۷)

اس کے علاوہ اپنے شیخ و مربی حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر بخاری کا بھی ایک بڑا حصہ آپ کا جمع کیا ہوا ہے ۔ چنانچہ حضرت شیخ خود لکھتے ہیں: ‘‘اسی سلسلہ میں اِس ناکارہ نے ۱۳۹۰ھ میں یہ خبر سنی کہ عزیز (شاہد) موصوف نے میری بخاری شریف کی تین تقاریر سب سے اوّل میرے مخلص دوست الحاج مولوی احسان الحق لائل پوری (حال مدرس مدرسہ عربیہ رائے ونڈ ضلع لاہور) جنہوں نے ۱۳۷۹ھ میں اِس سیہ کار سے بخاری شریف پڑھی اور بہت اہتمام سے اِس کی تقریر لکھی۔ ’’ (تقریر بخاری شریف: جلد اوّل ص۱۸ طبع: مکتبۃ الشیخ بہادر آبادکراچی)
اسی طرح آپ کے سنن ابی داؤد کے دروس کو بعض طلباء نے قلم بند کیا تھا جو بعد میں ‘‘تقریر ابوداؤد’’ کے نام سے ایک جلد میں چھپے تھے
اور راقم الحروف کو دورۂ حدیث کے سال ۲۰۰۷ء میں اس کتاب کے تین سو سے لے کر تین سو پچاس صفحات کی تصحیح کی سعادت بھی نصیب
ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ آپ کے مشکوٰۃ المصابیح کے دروس کو بھی بعض طلباء نے قلم بند کیا تھا جو بعد میں ‘‘التقریر الصبیح علیٰ مشکاۃ المصابیح’’ کے نام سے دو جلدوں میں چھپے تھے ۔

درسِ نظامی کے بعد تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے دعوت و تبلیغ کی محنت کے لیے بھی اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ چناں چہ
مستورات کے تبلیغی کام کی دیکھ بھال ، شعبہ تشکیل کی نگرانی ، شعبہ اختلاط کی خدمتوں نگرانی اور عشاء کی نماز کے بعد ‘‘حیاۃ الصحابہؓ’’ کی تعلیم
کرانی جیسے اہم اور بڑے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں آپ نے اندرون و بیرون مختلف ممالک کے اسفار کیے ہیں۔ سب سے پہلے ۱۹۶۱ء میں ۱۹ سال کی عمر میں
آپ مصر جانے والی جماعت کے امیر مقرر ہوئے تھے۔ اور اسی سفر میں آپ کو بیت المقدس میں نماز پڑھانے اور وہاں بیان کرنے کی
سعادت نصیب ہوئی تھی۔ دورانِ سفر آپ نے امام ابو جعفر الطحاوی، اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ کے مراقد اطہار کی بھی زیارت فرمائی تھی۔
اس کے علاوہ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور افریقہ ، جرمنی، فرانس، اٹلی، ناروے، پرتگال، ہالینڈ، سپین وغیرہ بیسیوں ممالک کے اسفار کیے
ہیں۔

الباقیات الصالحات میں آپ نے اپنے پیچھے اپنے ہزاروں روحانی فرزند تلامذہ کی صورت میں چھوڑے ہیں جو آپ کی دعوتی و تدریسی
کام کو صدقہ جاریہ کی شکل میں آگے بڑھاتے رہیں گے۔ آپ چند مشہور اور اہم تلامذہ میں راقم الحروف سمیت مولانا عبد الرحمن خان
صاحب، مولانا محمد احمد بٹلہ صاحب، مولانا عبید اللہ خورشید صاحب، مولانا طارق جمیل صاحب، مولانا محمد اسحاق صاحب، مولانا عمر احمد صاحب وغیرہ حضرات کے نام شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دُعاء ہے کہ وہ مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مغفرت فرمائے،آپ کی محنت کو قبول فرمائے، سیآت سے
درگزر فرمائے، آپ کی آخرت کی منازل آسان فرمائے، اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور پیچھے ہمیں آپ کے نقش
قدم پر صحیح طرح سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں