سندھ بلڈنگ، سرکاری سیل کے باوجود تعمیرات، ناقص کارکردگی بے نقاب
شیئر کریں
پی ای سی ایچ ایس میں پلاٹ نمبر208-N، بلاک 2، پرسیل کے باوجود تعمیراتی کام جاری
ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی ،شہریوں کاڈائریکٹر وسیم شمشاد سے ایکشن کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور اصل لیز کی شرائط کی خلاف ورزی پر سیل کیے گئے پلاٹ پر مبینہ طور پر تعمیراتی کام جاری رہنے سے اتھارٹی کی کارکردگی اور قانون پر عملدرآمد کے دعوے سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق سندھ بلڈنگ نے پی ای سی ایچ میں پلاٹ نمبر 208-N، بلاک 2،کو غیر قانونی تعمیرات پر سیل کیا تھا۔ سیلنگ آرڈر میں واضح کیا گیا کہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر یا منظور شدہ اجازت کے برخلاف تعمیرات قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہیں۔
اتھارٹی نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ اوکو بھی ہدایت کی تھی کہ سیل شدہ احاطے کی سخت نگرانی کی جائے اور سیل ٹوٹی ہوئی پائی جانے کی صورت میں مالک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
اس کے باوجود مبینہ طور پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہنے پر شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ سرکاری سیل کے باوجود تعمیراتی کام آخر کس طرح جاری ہے؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سیل شدہ مقام پر بھی قانون کی خلاف ورزی جاری رہے تو سندھ بلڈنگ کی نگرانی اور عملدرآمد کا نظام بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔شہریوں نے ڈائریکٹر وسیم شمشاد سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موقع کا معائنہ کرایا جائے ، تعمیراتی کام فوری بند کرایا جائے اور سیل توڑنے یا خلاف ورزی جاری رکھنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
ساتھ ہی یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ سرکاری سیل کی موجودگی میں تعمیراتی سرگرمیاں کیسے جاری رہیں اور نگرانی پر مامور اداروں نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی۔ شہری حلقوں کے مطابق قانون کی رٹ صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر بھی نظر آنی چاہئے ۔


