میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زحل اپنے بیٹے کو کھا رہا ہے!

زحل اپنے بیٹے کو کھا رہا ہے!

جرات ڈیسک
جمعرات, ۳ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

فرانسسکو گویا کی مشہور پینٹنگ زحل اپنے بیٹے کو کھا رہا ہے” Saturn Devouring His Sonـ”انسانی تاریخ کے چہرے پر بنا ہوا شاید سب سے خوفناک زخم ہے۔ یہ محض ایک دیومالائی منظر کی تصویر نہیں، یہ انسان کے اندر چھپی ہوئی اس وحشت کا پورٹریٹ ہے جسے
تہذیب، قانون، مذہب، اخلاق اور فلسفہ صدیوں سے قابو کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں، مگر مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ تصویر میں زحل
اپنے ہی بیٹے کو کھا رہا ہے، مگر غور سے دیکھا جائے تو وہاں زحل اکیلا نہیں؛ اس کے چہرے میں جنگجو بھی ہے، بادشاہ بھی، آمر بھی، فاتح بھی،
سرمایہ دار بھی، مذہبی جنونی بھی، اور وہ عام انسان بھی جو اپنے خوف کے ہاتھوں اپنے ہی مستقبل کو تباہ کر دیتا ہے۔گویا نے اس تصویر میں
ایک دیوتا کو نہیں، انسان کے خوف کو پینٹ کیا ہے۔زحل کو خوف تھا کہ اس کی اولاد میں سے کوئی ایک دن اس کا اقتدار چھین لے گا۔ چنانچہ
اس نے اپنے بچوں کو پیدا ہوتے ہی نگلنا شروع کردیا۔ اساطیر میں یہ ایک واقعہ ہے، مگر انسانی تاریخ میں یہی واقعہ بار بار مختلف شکلوں میں
دہرایا گیا ہے۔ ہر وہ حکمران جو اپنے بعد آنے والی نسل سے خوفزدہ ہوا، ہر وہ ریاست جس نے اپنے نوجوانوں کو سوال کرنے کی اجازت نہ
دی، ہر وہ معاشرہ جس نے نئی فکر کو کچل دیا، وہ کسی نہ کسی صورت میں زحل ہی تھا۔

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ انسان نے جنگیں لڑیں؛ المیہ یہ ہے کہ انسان نے اکثر جنگیں اپنے خوف سے بچنے کے
لیے لڑیں۔اقتدار کا خوف، شناخت کا خوف، شکست کا خوف، غربت کا خوف، موت کا خوف، آزادی کا خوف، دوسرے انسان سے خوف،
اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر موجود کمزوری کا خوف۔ انسان نے ان خوفوں سے فرار ہونے کے لیے سلطنتیں بنائیں، سرحدیں کھینچیں،
فوجیں بنائیں، جیلیں بنائیں، نظریات بنائے اور کبھی کبھی خدا کے نام پر بھی انسان کو انسان سے لڑایا۔گویا کے زحل کی آنکھیں دیکھیں تو
محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے شکار کو نہیں دیکھ رہا؛ وہ اپنے مستقبل کو دیکھ رہا ہے۔یہی انسانی تاریخ کا سب سے تلخ فلسفہ ہے۔انسان اکثر اس
چیز کو تباہ کر دیتا ہے جس سے اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے، خواہ وہ چیز دراصل اس کی بقا کے لیے کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہو۔ باپ بیٹے سے
خوفزدہ ہوجاتا ہے، بوڑھی نسل نوجوان نسل سے، حکمران عوام سے، ریاست اپنے شہریوں سے، اکثریت اقلیت سے اور ماضی مستقبل سے۔ پھر خوف ایک نظریہ بن جاتا ہے اور نظریہ ایک ہتھیار۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اقتدار کو اپنے خاتمے کا یقین ہونے لگتا ہے تو وہ عقل کھو
دیتا ہے۔رومن سلطنت کے آخری ادوار سے لے کر جدید آمریتوں تک، تاریخ میں ایسے بے شمار حکمران گزرے ہیں جنہوں نے اپنے
اقتدار کو بچانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو دشمن سمجھ لیا۔ انہیں ہر اختلاف میں سازش نظر آئی، ہر سوال میں بغاوت، ہر نوجوان میں خطرہ اور
ہر آزاد ذہن میں اپنے زوال کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے مخالفین کو قتل کیا، کتابیں جلائیں، زبانیں خاموش کیں، شہر اجاڑے، مگر تاریخ کا
عجیب مذاق دیکھیے کہ جن لوگوں کو انہوں نے ختم کرنا چاہا، ان کے نام اکثر تاریخ میں زندہ رہے اور خود ظالم حکمران تاریخ کے حاشیے میں ایک
خوفناک مثال بن کر رہ گئے۔زحل نے اپنے بچوں کو کھا لیا، مگر اس سے زحل ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں ہوگیا۔یہی ہر ظالم اقتدار کا المیہ ہے۔

وہ سمجھتا ہے کہ مخالف کو ختم کرکے اپنا مستقبل محفوظ کرلے گا، مگر حقیقت میں وہ اپنے مستقبل کی بنیاد ہی کھود رہا ہوتا ہے۔یونانی فلسفے سے لے
کر جدید سیاسی فکر تک ایک سوال مسلسل انسان کا تعاقب کرتا رہا ہے: طاقت انسان کو بدلتی ہے یا انسان کی اصل طاقت کے ذریعے ظاہر
ہوتی ہے؟شاید دونوں۔طاقت کسی انسان کو ہمیشہ نیا نہیں بناتی؛ اکثر وہ اس کے اندر چھپی ہوئی چیزوں کو بے نقاب کردیتی ہے۔ معمولی
اختیار رکھنے والا انسان معمولی ظلم کرسکتا ہے، مگر جب خوف زدہ انسان کے ہاتھ میں بے پناہ طاقت آجائے تو اس کا خوف اجتماعی تباہی بن
سکتا ہے۔اسی لیے تاریخ میں سب سے خطرناک شخص ہمیشہ سب سے طاقتور شخص نہیں رہا؛ کبھی کبھی سب سے خطرناک وہ شخص رہا ہے جو اپنی
طاقت کھونے سے ڈرتا تھا۔گویا کی پینٹنگ ہمیں یہی دکھاتی ہے۔زحل کے ہاتھ میں طاقت ہے، مگر اس کے چہرے پر اطمینان نہیں۔ وہ
فاتح ہے مگر خوش نہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو کھا رہا ہے مگر محفوظ نہیں۔ اس کے پاس طاقت ہے مگر سکون نہیں۔یہ منظر آج بھی ہمارے لیے اجنبی
نہیں۔ہر وہ معاشرہ جہاں حکمران اپنی قوم کے نوجوانوں سے خوف کھانے لگیں، جہاں سوال پوچھنے والا دشمن قرار پائے، جہاں اختلاف کو
غداری سمجھا جائے، جہاں کتاب سے خوف آئے، جہاں قلم کو خاموش کرنے کی کوشش ہو، جہاں تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق لکھنے کی
خواہش پیدا ہو، وہاں گویا کا زحل دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔اور پھر ایک عجیب عمل شروع ہوتا ہے۔قومیں اپنے ہی بچوں کو کھانا شروع کردیتی
ہیں۔کوئی نوجوان تعلیم سے محروم ہوتا ہے، کوئی روزگار سے، کوئی آزادی اظہار سے، کوئی انصاف سے۔ کوئی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے،
کوئی اپنی صلاحیت دفن کردیتا ہے، کوئی خواب ترک کردیتا ہے اور کوئی اپنے ہی معاشرے سے اتنا مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے اپنے مستقبل پر
یقین نہیں رہتا۔یہ بھی ایک طرح کی نسل کشی ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں انسان ہمیشہ گولی سے نہیں مرتا، کبھی کبھی امید کے ختم ہوجانے
سے مر جاتا ہے۔اور شاید یہی جدید زحل کی سب سے نفیس شکل ہے۔وہ اپنے بچوں کو دانتوں سے نہیں کھاتا؛ وہ ان کے خواب کھا جاتا
ہے۔ وہ ان کے سوال کھا جاتا ہے۔وہ ان کی آزادی کھا جاتا ہے۔وہ ان کا مستقبل کھا جاتا ہے۔انسانی تہذیب کی پوری تاریخ دراصل
وحشت سے انسانیت کی طرف سفر کی ایک کوشش ہے۔ غار سے شہر تک، تلوار سے قانون تک، انتقام سے عدالت تک، بادشاہت سے
جمہوریت تک، غلامی سے آزادی تک-97 یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔انسان اب بھی زحل کے اندر موجود ہے۔مگر انسان کے اندر ایک اور
قوت بھی ہے: ضمیر۔وہ قوت جو کہتی ہے کہ طاقت کا مقصد حفاظت ہے، تباہی نہیں؛ اولاد مستقبل ہے، خطرہ نہیں؛ اختلاف دشمنی نہیں؛ اور
انسان کی سب سے بڑی فتح دوسرے انسان کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنے اندر کے درندے کو شکست دینا ہے۔گویا کی پینٹنگ کے سامنے
کھڑے ہوکر شاید ہمیں زحل سے زیادہ اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے۔کیونکہ تاریخ کا سب سے خوفناک سوال یہ نہیں کہ زحل نے اپنے بیٹے کو
کیوں کھایا؟اصل سوال یہ ہے:ہم آج اپنے مستقبل کو کس شکل میں کھا رہے ہیں؟کیا ہم اپنے بچوں کے خواب کھا رہے ہیں؟کیا ہم اپنی
آنے والی نسلوں کی آزادی کھا رہے ہیں؟کیا ہم تعصب، نفرت، لالچ، جھوٹ، اقتدار اور خوف کے ذریعے اس دنیا کو نگل رہے ہیں جو
ہمیں ابھی ملی بھی نہیں؟اگر جواب ہاں ہے تو گویا کی پینٹنگ ہمارے ماضی کی تصویر نہیں۔وہ ہماری تصویر ہے۔اور شاید اسی لیے اس کی
آنکھیں آج بھی ہمیں گھورتی ہیں۔وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہمیشہ باہر نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وہ اس کے اندر بیٹھا ہوا وہ
خوف ہوتا ہے جو اقتدار کی حفاظت کے نام پر محبت کو کھا جاتا ہے، مستقبل کے نام پر حال کو تباہ کرتا ہے اور اپنی بقا کے نام پر دوسروں کی زندگی
چھین لیتا ہے۔زحل اپنے بیٹے کو کھا رہا ہے۔صدیاں گزر گئیں، مگر تصویر ابھی ختم نہیں ہوئی۔کیونکہ زحل اب بھی زندہ ہے۔اور اس کا سب
سے بڑا شکار ہمیشہ آنے والی نسل ہوتی ہے۔اگر اس تصویر کو پاکستانی تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بھی اقتدار
کے زحل نے کئی مرتبہ اپنے ہی بچوں، یعنی عوام، جمہوریت، اداروں، تعلیم، معیشت اور مستقبل کو کھایا ہے۔پاکستانی تاریخ کا سب سے تلخ
باب یہ ہے کہ یہاں اقتدار اکثر خدمت نہیں بلکہ بقا کی جنگ بن گیا۔ اقتدار میں آنے والا طبقہ اپنے بعد آنے والے سے خوفزدہ رہا، اور
طاقت سے محروم ہونے والا طاقت واپس حاصل کرنے کے لیے بے چین۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور معاشرتی قوتیں
ایک دوسرے کو شریکِ اقتدار سمجھنے کے بجائے حریف سمجھنے لگیں۔پاکستان کے پہلے ہی عشرے میں جمہوری عمل کو کمزور کیا گیا۔ پھر 1958ء
کا مارشل لا آیا۔ اس کے بعد اقتدار اور آئین کے درمیان کشمکش ایک طویل تاریخی روایت بن گئی۔ 1971ء میں ملک ٹوٹا، مگر ہم نے اس
سانحے سے صرف اتنا سبق لیا جتنا ہماری طاقت کے مفاد میں تھا۔ پھر آمریتیں آئیں، جمہوری حکومتیں آئیں، حکومتیں ختم ہوئیں، پارٹیاں
توڑی گئیں، جوڑی گئیں، اور ہر دور میں ایک ہی بنیادی سوال موجود رہا: اقتدار کس کے پاس ہوگا؟مگر بہت کم پوچھا گیا: اقتدار کس کے لیے
ہوگا؟یہی پاکستانی نفسیات کا ایک بڑا المیہ ہے۔ہم طاقتور شخص کو اکثر قابلِ احترام سمجھ لیتے ہیں، خواہ اس کی طاقت قانون سے باہر کیوں نہ
ہو۔ ہم عہدے کو کردار پر ترجیح دیتے ہیں، تعلق کو اصول پر، وفاداری کو میرٹ پر اور خوف کو دلیل پر۔ ہمارے معاشرے میں طاقتور کے سامنے خاموشی کو دانش اور کمزور کے سامنے سختی کو بہادری سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا۔ یوں زحل صرف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں رہا؛ وہ ہماری اجتماعی نفسیات کا حصہ بھی بنتا گیا۔اقتدار کے بھوکے صرف سیاست دان نہیں ہوتے۔

کبھی وردی میں، کبھی سول لباس میں، کبھی سرمایہ کی طاقت میں، کبھی مذہبی اختیار میں اور کبھی گروہی عصبیت میں طاقت اپنا چہرہ بدلتی رہی
ہے۔ مسئلہ لباس کا نہیں، ذہنیت کا ہے۔جو شخص اقتدار کو خدمت کے بجائے ملکیت سمجھتا ہے، وہ زحل بن جاتا ہے۔پھر اسے ہر نیا چہرہ خطرہ
لگتا ہے، ہر آزاد آواز بغاوت، ہر سوال سازش اور ہر مخالف دشمن۔ وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے راستہ نہیں بناتا؛ راستے بند کرتا ہے۔
اسے ادارے مضبوط نہیں چاہیے ہوتے، کیونکہ مضبوط ادارے اس کی شخصی طاقت کو محدود کرتے ہیں۔ اسے آزاد انسان نہیں چاہیے، کیونکہ
آزاد انسان سوال پوچھتا ہے۔اور سوال اقتدار کے خوف کی پہلی گھنٹی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست کسی فرد، خاندان، جماعت، ادارے
یا طبقے کی ملکیت نہیں؛ یہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔گویا کی پینٹنگ میں زحل اپنے بیٹے کو کھا کر بھی اپنے انجام سے نہیں بچ سکا۔
پاکستانی تاریخ کا سبق بھی یہی ہے:جو اقتدار اپنے مستقبل کو کھاتا ہے، وہ آخرکار اپنا مستقبل کھو دیتا ہے۔قومیں صرف دشمنوں سے نہیں
مرتیں؛ کبھی کبھی وہ اپنے ہی خوف، اپنی ہی ہوسِ اقتدار، اپنی ہی خاموشی اور اپنی ہی اجتماعی منافقت سے اندر ہی اندر مر جاتی ہیں۔اور شاید
آج پاکستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے:ہم اپنے مستقبل کو بچائیں گے، یا اسے بھی زحل کے جبڑوں کے حوالے کردیں گے؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں