میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ستمبر یا ستم گر

ستمبر یا ستم گر

جرات ڈیسک
جمعرات, ۳ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسان اپنی تقدیر سے نہیں بھاگ سکتا۔ زرداری اور نوازشریف بھی نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور میرمرتضیٰ بھی اپنے مقدر سے فرار نہ ہوسکے تھے۔
آشکار تھا کہ ستمبر کامہینہ سخت ہونے والا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے چند روز قبل 27؍ اگست کو آسٹریا کی پرواز لی۔ اندازا تھا کہ وہاں سے ملک واپس لوٹیں گے، مگروہ لندن جا پہنچے اور اہتمام سے خبر شائع ہوئی کہ صدر مملکت نے دو ہفتے اپنا قیام طویل کر دیا ہے۔ اندازا ہے کہ یہ مزید طویل بھی ہو سکتا ہے۔ خطرات بھانپنے اور جیل سے بیماری کے بہانے بیرون ملک جا بسنے والے نوازشریف کہاں رُکنے والے تھے؟ وہ 31؍ اگست کو بیرونِ روانہ ہوئے۔ ابھی تو یہ صرف چار روزہ دورہ ہے، جو سنگاپور اور چین تک محدود ہے، مگر یہ دورہ بھی طول پکڑ سکتا ہے، وہ بھی لندن رخ کر سکتے ہیں۔دونوں اپنے ذاتی معالجین ساتھ لے گئے ہیں۔ پنڈی سے ایک ‘پرندے ’نے پرواز لی ہے اور گزشتہ روز لندن میں زرداری کی منڈیر پر قیام فرمایا ہے۔ طاقت ورحلقوں کی سیاست کرنے والے محسن نقوی جب آصف زرداری سے ملاقات کرتے ہیں، تو مسئلہ لین دین اور کھینچا تانی کا ہی ہوتا ہے۔ستم گر ستمبر کی تمہید بن رہی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ماہ ستمبر نے کیا کیا قیامتیں ڈھا رکھی ہیں۔ سال 1977ء میں یہ آج (3؍ستمبر)ہی کی تاریخ تھی جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا اُن پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک منحرف نواب محمد احمد خاں قصوری کے قتل کا الزام عائد کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کبھی نہیں بھولتی کہ جنرل ضیاء نے جولائی 1977ء میں مارشل لاء نافذ کیا تھا، مگر جنرل ضیاء نے ‘‘صدر’’ بننے کے لیے اسی ماہ ستمبر کو منتخب کیا تھا، جب 16؍ستمبر 1978ء کو باضابطہ صدرِ پاکستان کا حلف اٹھایا۔ بھٹو خاندان پر ایک اور قیامت بھی اسی ماہ ٹوٹی تھی۔میر مرتضیٰ بھٹو ، 20؍ستمبر 1996ء کو کراچی میں قتل کر دیے گئے تھے۔

تاریخ کے تاریک روزن سے اُچھالے واقعات حال کو بھی روشن کر دیتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں صوبوں کے قیام پر تحریک التواء زیر بحث ہے، جس میں پیپلزپارٹی کے وہ ارکان بھی نومسلموں والے جوش کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ جن کے‘‘ بُلاؤں’’ پر اُن کی ٹانگین کانپتی ہیں۔جن کے ماتھوں پر اخبار کی سرخی کی طرح لکھا ہے‘‘صوبہ نہیں بنے گا مگر ہمارا کیا بنے گا’’؟ اگلے چند دنوں میں سندھ کے اندر ایک ‘‘آپریشن ’’کی تیاری ہے۔ صوبائی حکومت کے متوازی کام کرنے والا ‘‘سسٹم’’ جس کا نشانہ ہے۔ پیپلزپارٹی کی جس سے جان جاتی ہے۔ کرپشن کا خاتمہ ہدف نہیں بلکہ ایجنڈا منوانے کا سب سے بڑا آلہ ہے، جو حرکت میں آچکا ہے۔ نیب کے پاس واضح اہداف اور کھلی مِسلیں ہیں۔ ‘‘سسٹم’’ کے لیے کام کرنے والا ہر افسر نشانے پر ہے۔جناب زرداری یہ تماشا لندن میں بیٹھ کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں خدشہ لاحق ہے کہ اگر صوبوں پر سودا ہوبھی جائے تو کیا یہ موثر ثابت ہوگا؟ عاشقی میں عزت سادات جانے کا خطرہ اسی کو کہتے ہیں۔

صورت حال کچھ بھی ہو!پیپلزپارٹی دو طرفہ دباؤ میں ہے۔ طاقت ور حلقے اُسے صوبوں پر قرار نہیں لینے دے رہے۔ دوسری طرف نون لیگ کی اتحادی حکومت میں بھی اُس کا دم گھٹتا جا رہا ہے۔جسے اٹھائیسویں ترمیم پر آمادہ کیا جا چکا۔ اب صوبوں کے قیام ، وفاق کے مالیاتی حصے میں اضافہ اور کچھ دیگر معاملات پر پیپلزپارٹی کی حمایت ہی وہ ہدف ہے جو گردوپیش میں دھول اڑانے کا باعث بن رہا ہے۔صدر زرداری اگر ملک سے باہر رہتے ہیں تو اس کا کوئی دوسرا مطلب باقی نہیں رہ جاتا کہ طاقت ور حلقوں سے معاملات طے نہیں ہو سکتے۔ اور جناب صدر مستعار زمین و آسمان پھونک ڈالنے کو تیا رہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے لکھا تھا کہ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔اس پرلطف فقرے میں ایک چیز پیپلزپارٹی کی جھاگ رہ گئی تھی، جو آخر میں بیٹھے گی۔

ایک متبادل کھیل کے آثار بھی ہویدا ہیں۔نون لیگ نے لات پڑنے سے پہلے حکومت سے باہر نہ نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مگر محسن نقوی کو یہ رضامندی مکمل سازگار نہیں۔ چنانچہ وہ اُس‘ لات’ کو طاقت دے رہے ہیں جو پڑنے پر نون کا ناس مار سکے۔ محسن نقوی اسی صورت حال میں ‘امید سے ہو سکتے ہیں’۔اُن کی‘ امید’ کچھ اتنی غیر واضح بھی نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اسی لیے جب بھی اُنہیں دیکھتے ہیں، ٹیڑھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ہم بستر صحافی کی خبر تھی کہ حکومت تحریک انصاف کو اب کوئی راحت نہیں دینا چاہتی۔ مگر زرداری کے شہرنواب شاہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ بسیر ا کرنے والے جج خادم حسین سومرو نے یکم ستمبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ 18؍اگست کے بعدیکم ستمبرکے فیصلے تک قومی سیاست کی فضا میں کافی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ ایک قومی حکومت کی سرگوشی بھی کانوں میں چپکے چپکے ہو رہی ہے۔ نون لیگ کو یہ صورت حال سازگار نہیں۔ جس کے باعث پیپلزپارٹی کی طرف اُن کی عاشقانہ نگاہیں اُٹھتی رہتی ہیں۔ طاقت ور حلقے اس امکان کو بھی دھیان میں رکھتے ہیں کہ کوئی نیا ‘لندن پلان’ بھی بن سکتا ہے۔چنانچہ ایک دفاعی منصوبے کی بھنک بھی موجود ہے۔ پاک فوج اپنا یوم دفاع بھی اسی ماہ 6؍ ستمبرکو مناتی ہے۔ یہاں سیاست کا ایک دفاعی منصوبہ بھی کام کر رہا ہے۔ چنانچہ عمران خان کی طرف سے بیرون ملک منتقل ہونے کی پیشکش مسترد کرنے کے باوجود اُنہیں رابطوں اور واسطوں تک رسائی دیے جانے کا ذہن بن رہا ہے ۔ کیونکہ اُن کو ملنے والی سہولتیں ہی دونوں جماعتوں کے خلاف خوف کا ایک فطری توازن پیدا کرتی ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں ہم بستر صحافی انگاروں پر لوٹتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ‘ ہونی، ہونے کو ہے ، ہونی ہو کر رہتی ہے ’۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ستم گر مہینہ اپنی قیامت خیزیوں کے باعث قدیم رومی سلطنت کی روش اختیار کرتا جا رہا ہے۔ رومی سلطنت کی تاریخ میں متعدد حکمرانوں نے ستمبر کا نام بدلنے کی کوشش کی، لیکن وہ تاریخ کا حصہ نہ بن سکیں۔ ظالم رومی سیزر کیلپو نے ستمبر کا نام بدل کر اپنے لشکری اعزاز کی مناسبت سے ‘جرمنیکس’رکھنے کا حکم دیا۔ ڈومیٹیان نے ستمبر کا نام بدل کر اپنی ذات پر ‘ڈومیٹیانوس’رکھ دیا تھا۔ بادشاہ مرتے یا قتل ہوتے رہتے اور عوام ناموں کو منسوخ کر کے پھراس ماہ کا نام ستمبر رکھ دیتے۔ طاقت ور حلقے اسی ماہ میں پاکستان کی سیاسی حقیقتیں بدل رہے ہیں۔ یہ رومی شہنشاہوں کی طرح نام بندلنے کی مانند پانی پر بنائی لکیریں ثابت ہوتا ہے یا پتھر پر بنی لکیر۔ اگلے چند ہفتوں میں یہ واضح ہوگا۔ مگر ایک حقیقت ناقابل تغیر ہے کہ انسان اپنی تقدیر سے نہیں بھاگ سکتا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں