لطیف آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹرز اورنگزیب رضی اور ساجد قائم خانی کے ادوار میں تعمیرات کی کا ریکارڈ طلب
یونٹ 1تا 6اور 10میں بلند و بالا عمارتیں زیر تعمیر، پرائیویٹ سطح پر مبینہ وصولیوں کی شکایات
حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں مبینہ غیر قانونی اور اضافی منزلوں والی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہنے پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہری و سماجی حلقوں نے یونٹ نمبر 1 سے 6 اور یونٹ نمبر 10 میں ہونے والی گراؤنڈ پلس ٹو، گراؤنڈ پلس تھری اور بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات کی مکمل اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بعض تعمیرات میں مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں سے تجاوز اور اضافی منزلوں کی تعمیر کی شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ شہریوں نے ڈپٹی ڈائریکٹرز اورنگزیب رضی اور ساجد قائم خانی کے ادوار میں ہونے والی تعمیرات، نقشوں کی منظوری اور متعلقہ کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے پرائیویٹ سطح پر تعمیراتی معاملات میں مبینہ وصولیوں اور غیر رسمی طور پر معاملات طے کیے جانے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض معاملات میں مبینہ طور پر سرکاری کارروائی کے بجائے نجی سطح پر لین دین یا وصولی کے ذریعے معاملات نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ افسران، بلڈنگ انسپکٹروں اور تعمیراتی معاملات سے وابستہ افراد کے کردار کے ساتھ مبینہ مالی معاملات کا بھی ریکارڈ چیک کیا جائے ، تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور معلوم ہوسکے کہ کہیں قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے غیر رسمی طریقہ کار تو استعمال نہیں کیا گیا۔شہری و سماجی حلقوں نے اینٹی کرپشن حکام اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر یونٹ نمبر 1 تا 6 اور یونٹ نمبر 10 کی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے اور آزادانہ انکوائری کرائی جائے ۔ اگر تحقیقات میں کسی افسر، اہلکار، بلڈر یا نجی فرد کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت، مبینہ ملی بھگت یا غیر قانونی وصولیوں کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


