سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد میں عمودی تعمیرات ، انسانی زندگیاں خطرے میں
شیئر کریں
بلاک 4، پلاٹ نمبر 589اور 794پر کمزور عمارتوں کی تعمیر سے مکینوں میں تشویش
تعمیراتی لاقانونیت برقرار ،مکینوں کا ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے کارروائی کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیاقت آباد کے بلاک 4 میں تنگ گلیوں کے درمیان بلند اور مبینہ طور پر کمزور عمارتوں کی تعمیر نے علاقہ مکینوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے ۔ مکینوں کے مطابق پلاٹ نمبر 589 اور 794 پر تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف گنجان آبادی میں حفاظتی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ کسی ممکنہ حادثے کی صورت میں امدادی اداروں کے لیے بھی جائے وقوعہ تک رسائی مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد کی گلیاں پہلے ہی انتہائی تنگ اور آبادی کا دباؤ زیادہ ہے ، ایسے میں بلند عمارتوں کی تعمیر سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے ۔ مکینوں کے مطابق بعض عمارتوں میں تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جس کے باعث قریبی گھروں میں رہائش پذیر خاندان خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ افسران کی موجودگی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے باوجود تعمیراتی لاقانونیت برقرار رہنے سے شہریوں میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ تعمیراتی قوانین اور حفاظتی ضوابط پر مؤثر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی عمارت کی تعمیر میں نقشے ، منظور شدہ تعمیراتی اجازت، ساختی مضبوطی یا دیگر لازمی ضوابط کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو متعلقہ حکام کو فوری طور پر موقع کا معائنہ کرکے صورتحال واضح کرنی چاہیئے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ زیر تعمیر عمارتوں کا تکنیکی اور ساختی معائنہ کرایا جائے اور اگر تعمیرات منظور شدہ قوانین کے برخلاف پائی جائیں تو فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ علاقہ مکینوں نے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد میں جاری بلند عمارتوں کی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ ریکارڈ اور نقشوں کی جانچ کرائی جائے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ لیاقت آباد جیسے گنجان علاقوں میں غیر محفوظ اور بے ہنگم عمودی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے ۔


