میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کہاں ہے ہمارے رومان کا پاکستان؟

کہاں ہے ہمارے رومان کا پاکستان؟

جرات ڈیسک
بدھ, ۲ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

رات کے پچھلے پہر اس سوال نے بے چین رکھا ، کیا ہم اپنا خوبصورت ملک کھو رہے ہیں؟ ملک سے ہمارے رومان کا کیا ہوگا؟وہ معاشرہ جو خیر وشر کے تصور کی اخلاقی بنیادکھو دے، اس کی زندگی کتنی رہ جاتی ہے؟ کیا سادہ لفظوں میں یہ سماجی علوم کا سوال ہے، یا کسی نظریۂ تاریخ سے جڑا ہے؟

تاریخ و علوم کی پیچیدہ پگڈنڈیوں اور فلسفے کی گتھیوں سے زیادہ جلدی اس کا جواب ڈی ایچ اے چھوٹا بخاری کی ایک عمارت سی۔ 14 کے ایک فلیٹ کے دروازے پر مل جاتا ہے۔ مریم نامی خاتون بارسوخ ہے،ایک پولیس افسر سے رشتہ داری ہے، بس یہ کافی ہے کہ وہ اپنی ہی جیسی ایک دوسری خاتون نورالعین کے بنیادی حقوق سے انکار کر دے، کیونکہ وہ اس کی طرح کوئی رسوخ نہیں رکھتی۔ مریم صرف اس لیے ڈمبل اُٹھا کر نورالعین پر تشدد کرسکتی ہے، کیونکہ وہ طاقت کی نفسیات پر قائم سماج میں کوئی مضبوط روابط کا جال نہیں رکھتی۔ یہ اس کا نقد نتیجہ ہے کہ وہ تشدد برداشت کرکے بھی ایک مقدمہ بھگتے گی، گرفتار ہوگی، ضمانت کرانے پر مجبور بھی ہوگی۔ دوسری طرف مریم اپنے رسوخ کے باعث تمام ظلم کے باوجود متاثرہ خاندان کو مجبور ِمحض بنائے رکھے گی۔ اُسے مقدمہ قائم کرانے سے لے کر متاثرہ خاندان کو صلح پر مجبور کیے جانے تک ہر قسم کی ‘‘سہولت کاری’’ قانونی نظام سے میسر آسکے گی۔ مریم اور نورالعین کے درمیان کا فاصلہ ظلم پر قائم معاشرتی نفسیات اور ہماری قومی ریاست کی بناؤٹ کا خلاصہ ہے۔

ہمارے سماج کا تصور حق وباطل، طاقت کے بہاؤ میں کہیں بہہ گیا ہے۔ اب یہاں اہمیت کسی کے حق پر ہونے کی نہیں‘ طاقت ور’ ہونے
یا اس سے تعلق رکھنے کی ہے۔ اسی نفسیات نے ہر طاقت ور کے گرد روابط کا ایک جال بُن دیا ہے۔ رشتے ناطے اسی بنیاد پر بننے لگے ہیں۔ دوستیاں اسی اُصول پر پروان چڑھنے لگی ہیں۔دن اور رات کے دھندے اسی پر پنپتے ہیں۔ دوستی دشمنی کے دائرے اسی سے بنتے ہیں۔ یوں سماج میں موجود ظلم اب ایک ظالم تک محدود نہیں ،اس کے روابط کے جال (نیٹ ورک) تک پھیلتا جاتا ہے۔ گویا ایک ایس ایچ او کا ‘دوست’ اپنے محلے میں خود ایک ایس ایچ اوبن جاتا ہے۔

اس نفسیات میں خوف ناک سوال یہی نہیں رہ گیا کہ پاکستان میں ظلم کیوں ہوتا ہے؟ اب سوال یہ بھی ہے کہ ظلم کرنا اتنا آسان کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟پھر ہر ظالم قانونی نظام سے ہی کیوں بچنے میں کامیاب ہوتا ہے؟ خرابیاں کہاں نہیں ہوتیں، مگر خرابیوں کی قانونی سرپرستی سماج پر عدم اعتماد کا پہلا ردِ عمل پید اکرتی ہے۔ پاکستانی، اس ردِ عمل سے بھی اب آگے جا چکے ہیں۔ اگر چہ ڈیفنس واقعے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم ہو چکی ہے۔ مگر کسی بھی تحقیقاتی کمیٹی پر کسی کابھی کب کوئی اعتبارباقی رکھا گیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ کسی تحقیقاتی کمیٹی کی متوقع رپورٹ سے زیادہ بڑا سوال یہاں ڈمبل سے زیادہ وزنی آلے کے ساتھ کھڑا ہے کہ ایک عام شہری اگر طاقتور لوگوں سے ٹکرا جائے تو کیا اسے قانون پر اتنا ہی اعتماد ہوتا ہے جتنا طاقتور شخص کو اپنے تعلقات پر؟ مریم یہاں آپ کو مسکراتی ہوئی نظر آئے تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔ نور العین کی چوٹیں اور آنسو ہمارے مشترک درداورآنسو ہیں۔

ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری‘ مسکراتی’ مریم سے اپنے کسی تعلق کی تردید کرتے ہیں۔درست! مگر سوال دوسرا ہے۔ مریم کے
ساتھ موجود سیکیورٹی اہلکار ضلع کورنگی پولیس سے تعلق رکھتے تھے ، تو پھر وہ درخشاں تھانے کی حدود میں واقع اپارٹمنٹ میں کس حیثیت سے
موجود تھے، اُ نہیں تکبر اور غصے میں گندھی خاتون کی سیکیورٹی پر کس کے حکم سے مامور کیا گیا ؟ مریم کا نور العین پر تشددایک واقعہ ہے اورروابط کے جال میں جکڑے قانون کے اس نظام کی کسی عورت کی چوکھٹ پر سجدہ ریزی ،دوسرا مقدمہ ہے۔ سندھ پولیس مریم کی خاطر ایک پورے خاندان کو خوف زدہ کرنے کے غیر قانونی عمل کا حصہ کیوں بنی؟ پولیس اہلکارکس اُصول پر گاڑی ہٹانے کا مطالبہ کرتا ہے؟ ایک پولیس اہلکار اپنے سرکاری اسلحے کو سی سی ٹی وی کیمرا توڑنے کے لیے کسی کو کیسے دے سکتا ہے؟ یہ محض ایک پولیس اہلکار علی حسن نہیں ہے، غور سے دیکھیں ، یہ فدا حسین جانوری ہی ہیں۔ یہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو ہیں۔یہ چیف سیکریٹری سندھ ہیں۔ یہ خود وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہیں۔ امام غزالی ‘‘نصیحۃ الملوک’’ میں توریت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ‘‘اہلکار کی ہروہ بے انصافی اور ظلم جو حکمران کی نظر میں آئے اور وہ چپ رہے، خود اُسی کے ظلم اور بے انصافی میں شمار ہوگا’’۔

تشدد، ظلم کی صرف ایک شکل ہے۔کسی کو دھمکانا بھی ظلم ہی ہے۔ اس کے خلاف طاقت استعمال کرنا بھی ظلم ہے۔ مظلوم و مضروب کو مقدمے اور گرفتاری کے خوف میں مبتلاکر دینا بھی ظلم ہے۔اس واقعے میں ظلم کی سب سے خوف ناک شکل یہ ہے کہ متاثرین اپنے ہی گھر کو غیر محفوظ سمجھ کر اُسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ جب کوئی شہری اپنے ہی گھر سے خوفزدہ ہو کر نکل جائے تو معاملہ صرف دو خاندانوں کا نہیں رہتا۔ یہ ریاست کی ساکھ کا سوال بن جاتا ہے ۔ریاست کا بنیادی وعدہ یہی تو ہے کہ شہری کو اپنی حفاظت کے لیے کسی بااثر شخص، سیاسی تعلق، پولیس افسر یا جتھے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اگر ریاست یہ اعتبار بھی قائم نہ رکھ سکے تو پھر ایک عام آدمی کا سہار ا روایتی اداروں سے اُٹھ جاتا ہے۔ کراچی کے باب میں واضح ہے، یہ بھروسا اکثر لوگوں میں نہیں رہا۔

کیا کوئی اندازا کر سکتا ہے کہ ایک طاقت ور شخص کسی مظلوم کو انصاف کی تمنا سے اس طرح بھی محروم کر دے کہ اُسے اپنی رضامندی سے نہیں ، مبتلائے خوف کرکے صلح پر آمادہ کرے۔ صلح کا مبارک عمل کسی کا اختیار نہ رہے، مجبوری بن جائے۔ اُف اس بے بسی کی کیفیت میں کوئی اپنے سماج سے محبت کیسے کرے؟صلح ہمیشہ انصاف نہیں ہوتی۔ یہ ہمیشہ انتخاب بھی نہیں ہوتی۔طاقت وروں کے معاشرے میں یہ محض بقا کا ایک حیلہ ہوتی ہے۔ زندگی دھکیلنے کی بے بسی ہوتی ہے۔ انسانی ارادے کو منظم جبر سے جکڑنے کی روش بھی ہوتی ہے۔پیچھے سے‘‘ طاقت ور سے نہ اُلجھو’’ کی آواز اور آگے جبڑے پھیلائے بے رحم قانون و انصاف کا مکروہ بندوبست۔ اس کے درمیان متاثرہ شخص صلح نہیں کرتا، اپنی زندگی سے دستبردار ہوتا ہے۔اس عمومی منظر نامے میں یہ معاشرہ قانون پسند شہریوں کا معاشرہ نہیں رہا۔یہ تعلقات، خوف اور طاقت کے حساب سے چلنے والا ایک شورش انگیز اور چکرا دینے والا چکر بن گیا ہے۔ شاہ زیب خان کی مثال اسی نظام سے اُبھری ہے۔ اور میررضا کی لاش تاحال اسی چکرمیں گھوم رہی ہے۔ جسے دسترخوان بنا کر صحافت بھی اپنے لقمے توڑتی ہیں۔

ڈیفنس کا جھگڑا محض ایک واقعہ نہیں۔ ہماری قومی ریاست اور سماج کی پوری بُنت و بناوٹ کی تشریح ہے۔پاکستان میں طاقت ،دولت ، عہدے اور رسائی کی تثلیث کا نام ہے، جس کے گرد بُنے ہوئے تعلقات کے چھوٹے بڑے جالوں نے پوری ریاست کا چہرہ داغ دار کر دیا ہے۔ اس نے ریاستی اداروں کی چھتری تلے تحفظ پا کر ایسے دائرے بنا دیے ہیں کہ ظلم خُرسند رہتا ہے اور مظلوم بے بس۔ یہ وہ عمومی تجربہ ہے جس نے شہریوں کا پورا تصورِ ریاست تباہ کردیا ہے۔کہاں ہے، ہمارے رومان کا پاکستان؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں