میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی یونیورسٹی، قائم مقام وائس چانسلر کی تعلیمی امور میں عدم دلچسپی

کراچی یونیورسٹی، قائم مقام وائس چانسلر کی تعلیمی امور میں عدم دلچسپی

جرات ڈیسک
بدھ, ۲ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایڈوانس اسٹڈیز ریسرچ بورڈ میں بادل نخواستہ شرکت، مقالے غلط ممتحن کے حوالے

مرحومین کے کوٹے کی منظوری کے فیصلے میں عجلت ، یونیورسٹی پر شکوک کے سائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی یونیورسٹی اپنے مستقل وائس چانسلر سے تاحال محروم ہے۔ سابق وائس چانسلر خالد عراقی کی چار سالہ مدت کے 28 ؍ جولائی کے خاتمے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے این ای ڈی یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو کو کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا منصب بھی عارضی طور پر تفویض کر دیا تھا۔

جامعہ کراچی کے مستقل وائس چانسلر کے لیے ‘‘تلاش کمیٹی ’’ سے تین ناموں کی سفارش اور ان کی کلیئرنس کے باوجود تاحال جا معہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہیں ہو سکی۔

اس دوران میں قائم مقام وائس چانسلر طفیل جوکھیو نے کراچی یونیورسٹی میں مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک طرف وہ یونیورسٹی کے روزمرہ امور جن کی بنیادی ذمہ داری اُن پر عارضی منصب کی وجہ سے عائد ہوتی ہے، کتراتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جس کااثر یونیورسٹی پر اُن کی رخصتی کے بعد بھی موجود رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق قائم مقام وائس چانسلر اپنی عارضی مدت کے ایک ماہ کے دوران ہی جنوبی کوریا کے پانچ روزہ دورے پر چلے گئے ہیں۔ جس کے باعث دو یونیورسٹیز یعنی این ای ڈی اور کراچی یونیورسٹی میں ایڈہاک ازم کو فروغ مل رہا ہے۔ پہلے سے ہی مختلف نوعیت کے مسائل کی شکار کراچی یونیورسٹی چلانے کی ذمہ داری شعبہ علوم الادویات میں پروفیسر ڈاکٹر حارث شعیب کے سپرد کر دی گئی ہے۔ یوں ایک عارضی وائس چانسلر نے اپنی ذمہ داری عارضی طور پر ایک پروفیسر کے حوالے کی ہے۔

یونیورسٹی کے روزمرہ امور چلانے کے حوالے سے اُن کا رویہ ایک روز پہلے اس وقت بھی دھچکے کا باعث بنا جب انہوں نے ایڈوانس اسٹڈیز ریسرچ بورڈ کے ایک اجلاس میں (جو اعلیٰ ترین قابلیت یعنی ایم فل اور پی ایچ ڈی ایوارڈ دینے کا سب سے ممتاز ترین بورڈ سمجھا جاتا ہے)بادل نخواستہ شرکت کرتے ہوئے یہ کہا کہ اس اجلاس میں میری کیا ضرورت تھی، اس کی ایک ڈین بھی صدارت کر سکتا ہے۔

قائم مقام وی سی کے اسی رویے کے باعث بورڈ نے پی ایچ ڈی کا ایک مقالہ امریکا میں ایک ایسے ممتحن کو بھیج دیا جو نہ تو سرے سے پی ایچ ڈی ہیں اور نہ ہی وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے منسلک ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے کیس میں قواعد کے مطابق بیرون شہربھیجا جانے والا ایم فل کا مقالہ کراچی میں ہی ایک ممتحن کے حوالے کر دیا گیا۔ جس سے اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ قائم مقام وائس چانسلر کی تعلیمی امور میں فیصلہ لینے کی صلاحیت کتنی کمزور اوردلچسپی کتنی محدود ہے۔

اس کے برعکس وائس چانسلر نے اپنی عارضی مدت کے باوجود یونیورسٹی کے مرحومین کے کوٹے پر تقرریوں کے معاملے کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور کوئی ہنگامی حالت نہ ہونے کے باوجود چھٹی پر جانے سے ایک روز قبل اس کی منظوری دے ڈالی ۔ یہ کام اس قدر عجلت میں کیا گیا کہ خود یونیورسٹی کے اندر اس پر شکوک پھیلنے شروع ہو گئے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں