سندھ بلڈنگ، گھروں کے درمیان کمرشل یونٹس ، شہری مشکلات کا شکار
شیئر کریں
شاہ فیصل ٹاؤن میں شمسی سوسائٹی پلاٹ C58پر قائم کمرشل یونٹس، کارروائی کا مطالبہ
کاشف، عمران رمضان آرائیں کی تعمیراتی ٹھیکیداروں کو رعایتیں ،لین دین کے الزامات
ضلع کورنگی شاہ فیصل ٹاؤن میں رہائشی پلاٹوں پر مبینہ طور پر کمرشل یونٹس کے قیام کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ، جہاں شمسی سوسائٹی کے پلاٹ نمبر C58 پر قائم کمرشل یونٹس کے باعث علاقہ مکینوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کے حوالے سے قوانین اور منظور شدہ نقشوں کی جانچ پڑتال کرکے حقائق سامنے لائے جائیں اور خلاف ضابطہ تعمیرات کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی کی جائے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق رہائشی پلاٹوں کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے نہ صرف علاقے کا رہائشی ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ آمدورفت، پارکنگ اور دیگر شہری مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ گھروں کے درمیان کمرشل یونٹس کے قیام سے اہلِ علاقہ کو روزمرہ زندگی میں دشواریوں کا سامنا ہے ، جس کے باعث متعلقہ اداروں کی توجہ فوری طور پر اس معاملے کی جانب مبذول کرائی گئی ہے ۔دوسری جانب ذرائع کی جانب سے بلڈنگ انسپکٹر کاشف اور عمران رمضان آرائیں پر تعمیراتی ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر خصوصی رعایتیں فراہم کرنے اور اس ضمن میں خطیر رقم کے لین دین کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ متعلقہ حکام اور نامزد افراد کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں پر کمرشل نوعیت کی تعمیرات کی اجازت، نقشوں کی منظوری، تعمیراتی سرگرمیوں اور استعمالِ اراضی سے متعلق ریکارڈ کی مکمل جانچ ضروری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ یونٹس کس قانونی و انتظامی بنیاد پر قائم کیے گئے ۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کروا کر ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے ۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں قواعد و ضوابط کی یکساں پاسداری نہ ہونے سے شہریوں میں تشویش بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ پلاٹ C58 سمیت دیگر مشتبہ تعمیرات کا موقع پر معائنہ کرایا جائے ، متعلقہ دستاویزات طلب کی جائیں اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


