میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میررضا قتل کیس، جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل

میررضا قتل کیس، جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل

جرات ڈیسک
پیر, ۲۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکومت میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی

کمیشن 30 دن میں رپورٹ پیش کرے گا ، میٔر کراچی کی پریس کانفرنس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میٔر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میر رضا قتل کیس میں ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہ میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ جو 30 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔

میٔر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میر رضا قتل کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 19 اگست کو میر رضا کے وکیل نے وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ، آئی جی سندھ مکمل طور پر فیل ہو گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے میٹنگ میں پولیس سے خط کے متعلق پوچھا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جس نے بھی جرم کیا اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ انصاف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

میررضا سے متعلق واقعہ 28 جولائی کو پیش آیا اور 29 جولائی کو منظرعام پر آیا، جس کے بعد کراچی پولیس چیف نے تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ تاہم پولیس کی ابتدائی تفتیش کے حوالے سے تحفظات سامنے آنے پر تفتیشی ٹیم تبدیل کرکے نئی ٹیم بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 9 اگست کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا اور وزیر داخلہ سندھ کے ہمراہ مرحوم میررضا کے گھر جا کر اہلخانہ کو حکومتی موقف سے آگاہ کیا گیا۔

اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی گئی کہ کیس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میر رضا کی والدہ کا موقف تھا کہ پولیس معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی تھی، جس پر اہلخانہ کو یقین دلایا گیا کہ ان کے تحفظات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بعد ازاں میررضا کی والدہ نے پیغام دیا کہ اہلخانہ فی الحال جوڈیشل کمیشن نہیں چاہتے، جس پر وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ نے فیصلہ کیا کہ معاملہ اہلخانہ کی خواہش کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 12 اگست سے تفتیشی ٹیم نے اہلخانہ کے ساتھ مل کر کام شروع کیا، اہلخانہ کی جانب سے جن افراد پر شک کا اظہار کیا گیا انہیں طلب کیا گیا جبکہ پولیس افسران نے اہلخانہ کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔

پولیس ٹیم روزانہ کی بنیاد پر اہلخانہ سے رابطے میں رہی۔ میٔر کراچی نے کہا کہ 19 اگست کو اہلخانہ کے وکیل نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر پولیس، آئی جی اور وزیر داخلہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا اور پولیس کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔

21 اگست کو وزیراعلیٰ سندھ نے تفتیشی ٹیم کو طلب کیا، جس اجلاس میں چیف سیکرٹری، آئی جی اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مناسب سمجھا کہ معاملہ جوڈیشل کمیشن کو بھیجا جائے تاکہ ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں نہ صرف حقائق سامنے آئیں بلکہ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کی خامیاں بھی واضح ہوسکیں۔

کابینہ سے منظوری کے بعد 22 اگست کو معزز چیف جسٹس کو خط ارسال کیا گیا، جس میں تمام متعلقہ محکموں اور افسران کے کردار کا جائزہ لینے کی درخواست کی گئی۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے اور کمیشن 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ مرتضیٰ وہاب کے مطابق پولیس جوڈیشل کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کرے گی اور حکومت کی جانب سے بھی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

اہلخانہ کی درخواست پر پنجاب فرانزک لیبارٹری سے تین چیزوں کا معائنہ کرایا جا رہا ہے، جبکہ سم کارڈز، آئی واچ اور موبائل فون کی رپورٹ جلد متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایپل اور میٹا سے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ڈی آئی جی عامر فاروقی نے رابطہ کیا ہے جبکہ سیکرٹری داخلہ بھی معاونت کریں گے۔

چار ٹی او آرز کے حوالے سے رپورٹ تحقیقات میں مدد فراہم کرے گی۔ میٔر کراچی نے کہا کہ تفتیشی ٹیم عامر فاروقی کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور سراج لاشاری کا نام بھی اہلخانہ کے وکیل کی درخواست پر شامل کیا گیا ہے۔

انصاف کے لیے تمام حقائق کا منظرعام پر آنا ضروری ہے اور حکومت میررضا کے اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں