میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد فرنیچر مارکیٹ میں پرانی عمارتوں میں ردوبدل

سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد فرنیچر مارکیٹ میں پرانی عمارتوں میں ردوبدل

جرات ڈیسک
پیر, ۲۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

نمبر 4پلاٹ نمبر 1118 اور 1146 پر اتھارٹی کے نوٹسز غیر موثر، تعمیرات جاری

اویس شاہ کی ملی بھگت ،کمزور و خستہ حال عمارتوں میں تعمیرات ،انسانی جانوں کو خطرات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وسطی میں رائج سسٹم کے تحت میں لیاقت آباد فرنیچر مارکیٹ میں پرانی عمارتوں میں مبینہ غیرقانونی ردوبدل اور تعمیرات کا سلسلہ جاری رہنے پر شہریوں اور مکینوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

ذرائع کے مطابق پلاٹ نمبر 1118 اور 1146 پر متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے نوٹسز جاری کیئے جانے کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہ ہو سکیں، جبکہ ایک عمارت تعمیر کے آخری مراحل تک پہنچ چکی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارتوں میں بنیادی ڈھانچے اور پرانی تعمیرات میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جس کے باعث عمارتوں کی مضبوطی اور حفاظتی معیار سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مکینوں کا مؤقف ہے کہ پرانی عمارتوں میں بغیر مکمل تکنیکی جانچ کے تعمیراتی ردوبدل کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مقامی حلقوں کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اویس شاہ کی غفلت، چشم پوشی یا ملی بھگت کے باعث تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں تو اس کے باوجود تعمیراتی کام کس طرح جاری رہنے دیا گیا۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد میں جاری تمام تعمیرات کا غیرجانبدارانہ تکنیکی معائنہ کرایا جائے ، تعمیراتی اجازت ناموں اور نقشوں کی جانچ کی جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد اور متعلقہ افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ حادثے کے بعد کارروائی کے بجائے پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں