کراچی میں جعلی امیگریشن اسٹیمپ کی خفیہ لیب پکڑی گئی،40 ممالک کی جعلی مہریں برآمد
شیئر کریں
کراچی ائیرپورٹ پر جنوبی کوریا جانیوالے دو مسافروں تیمور احمد اور سید امان مشکوک سفری ریکارڈ پر آف لوڈکردیا
جدید آلات سے مختلف ممالک کی انٹری، ایگزٹ مہریں تیار کرکے پاسپورٹس پر لگائی جاتی تھیں، ایف آئی اے
(رپورٹ: افتخار چوہدری) صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جعلی امیگریشن سٹیمپس کی خفیہ لیب پکڑی گئی، ایف آئی اے نے 40 ممالک کی جعلی مہریں برآمد کرلیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کراچی ایٔرپورٹ پر جنوبی کوریا جانے والے دو مسافروں کو مشکوک سفری ریکارڈ پر آف لوڈ کیے جانے کے بعد مختلف کاررو ائیوں میں جعلی امیگریشن سٹیمپس تیار کرنے والا منظم نیٹ ورک بے نقاب کر لیا، اس کیس میں پہلی بار باقاعدہ سٹیمپ لیب کا انکشاف ہوا ہے جہاں جدید آلات کی مدد سے مختلف ممالک کی انٹری اور ایگزٹ مہریں تیار کرکے پاسپورٹس پر لگائی جاتی تھیں۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ جنوبی کوریا جانے والی پرواز سے آف لوڈ کیے گئے مسافروں تیمور احمد اور سید امان کے پاسپورٹس پر لگی سٹیمپس کو ریکارڈ سے ملا کر دیکھا گیا تو واضح تضادات سامنے آئے، جس پر دونوں کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل منتقل کیا گیا کیوں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں اس قدر منظم انداز میں جعلی امیگریشن سٹیمپس بنانے اور استعمال کرنے کی لیب پکڑی گئی، اس نیٹ ورک کے ذریعے شہریوں کو من پسند ممالک کے جعلی سفری ریکارڈ کے ساتھ بیرون ملک بھجوانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کا کہنا ہے کہ ادارے کی کارروائیوں میں 2 ملزمان محمد اسلم اور آصف الرحمان سے تقریباً 100 پاکستانی پاسپورٹس، ایک افغانی اور ایک انڈین پاسپورٹ برآمد ہوئے، ملزمان سے 40 ممالک کی جعلی امیگریشن مہریں، مختلف قونصل خانوں کی سیلیں اور ویزہ سٹیکرز بھی ضبط کیے، اس نیٹ ورک کے کچھ افراد پاسپورٹس پر لگے پرانے ریجیکشن مٹانے یا صفحات واش کرنے میں مہارت رکھتے تھے، ملزمان دوسرے ممالک کی وہ مہریں تیار کرتے جو بالکل اصلی جیسی دکھائی دیتی تھیں۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک ملزم مکمل پاسپورٹ صفحے تبدیل کرنے تک کا کام کرتا تھا، دوسرا جنوبی افریقہ، بھارت، بحرین اور دبئی سمیت متعدد ممالک کی انٹری اور ایگزٹ سٹیمپس تیار کرتا تھا، یہ نیٹ ورک کینیڈا میں مقیم ایک بھارتی خاتون کے لیے بھی جعلی پاسپورٹ تیار کرتا تھا، جس پر بھارت کی جعلی انٹری اور ایگزٹ سٹیمپس لگا کر اسے اسائلم کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔


