لطیف آباد میں غیر قانونی تعمیرات، تحقیقات کا مطالبہ
شیئر کریں
یونٹس ایک سے چھ تک گراؤنڈ پلس ٹو، تھری تعمیرات کی جامع جانچ کا مطالبہ
اورنگزیب رضی کے بعد ساجد قائم خانی کے کردار پر بھی سوالات اٹھ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) حیدرآباد میں مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینے کے الزامات کے حوالے سے ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے بعد اب ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری و سماجی حلقوں نے دونوں افسران کے متعلقہ ادوار اور دائرہ اختیار میں ہونے والی تعمیرات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
ذرائع اور شہری حلقوں کے مطابق لطیف آباد کے مختلف یونٹس میں تعمیراتی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے گراؤنڈ پلس ٹو اور گراؤنڈ پلس تھری عمارتوں کی تعمیرات جاری ہیں۔ بعض تعمیرات کے منظور شدہ نقشوں، قانونی اجازت ناموں اور تعمیراتی حیثیت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔شہری حلقوں کا الزام ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے دور میں بھی بعض غیر قانونی یا اضافی تعمیرات کو نظر انداز کرنے کے الزامات سامنے آتے رہے ، جبکہ اب ساجد قائم خانی کے دور میں لطیف آباد کے مختلف یونٹس میں جاری گراؤنڈ پلس ٹو اور گراؤنڈ پلس تھری تعمیرات کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ڈپٹی ڈائریکٹرز کے متعلقہ ادوار کا ریکارڈ حاصل کرکے لطیف آباد یونٹ نمبر 1 سے 6 تک تمام گراؤنڈ پلس ٹو اور گراؤنڈ پلس تھری عمارتوں کی ایک ایک کرکے جانچ کی جائے ۔ ہر عمارت کے منظور شدہ نقشے ، تعمیراتی اجازت نامے ، معائنہ رپورٹس اور متعلقہ افسران و انسپکٹروں کی کارروائی کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ تعمیرات مقررہ قوانین اور منظور شدہ نقشوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ذرائع کی جانب سے بعض بلڈنگ انسپکٹروں اور تعمیراتی معاملات میں مبینہ طور پر سرگرم نجی افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ صرف ڈپٹی ڈائریکٹرز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ متعلقہ انسپکٹروں، اہلکاروں، بلڈرز اور دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے ۔
شہری و سماجی حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سامنے آنے والے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور متعلقہ علاقوں میں ہونے والی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی افسر، اہلکار، بلڈر یا نجی فرد کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت، ملی بھگت یا تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے ۔شہری حلقوں کے مطابق ایس بی سی اے کی بنیادی ذمہ داری تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام ہے ۔ اس لیے لطیف آباد یونٹس 1 سے 6 میں جاری گراؤنڈ پلس ٹو اور گراؤنڈ پلس تھری تعمیرات کی جامع جانچ ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی بروقت روک تھام کی جاسکے ۔


