میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میچ شروع ہوچکا!

میچ شروع ہوچکا!

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۱ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے عدالت کا فیصلہ کم اوروقت کا اشارہ زیادہ محسوس ہوتا ہے ۔ فیصلہ چند سطروں کا ہوتا ہے ، مگراس کے پیچھے چھپی کہانی برسوں بعد سمجھ آتی ہے ۔ پاکستان کی سیاست ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے ۔ کچھ فیصلوں نے حکومتیں بدلیں، کچھ نے سیاسی جماعتوں کا راستہ بدل دیا اور کچھ ایسے سوال چھوڑ گئے جن کے جواب آج تک تلاش کیے جا رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے عمران خان کو جیل سے نکال کرنجی اسپتال منتقل کرنے کا راستہ کھول دیا۔عدالتی فیصلہ سنا توذہن میں پہلا سوال یہ نہیں آیا کہ عمران خان اسپتال جائیں گے یا نہیں؟ سوال کچھ اورتھا، یہ فیصلہ اچانک کیوں ؟ کیونکہ سیاست میں ‘‘کب’’کبھی کبھی ‘‘کیا’’ سے زیادہ اہم ہوتا ہے ۔ اورجب عدالت اچانک ایسا دروازہ کھول دے جس کے کھلنے کی کسی کو توقع نہ ہو تو دروازے کے باہر کھڑے ہونے کے بجائے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ دروازے کے پیچھے کون کھڑا ہے ؟

اللہ کرے میرا خدشہ غلط ہو، لیکن اس فیصلے میں کچھ ایسا ضرورہے جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے ۔ عدالت کے سامنے عمران خان کی مکمل میڈیکل فائل تھی؟ تمام طبی رپورٹس پیش کی گئی تھیں؟ اگرنہیں توپھر عدالت نے کس بنیاد پرحکم دیا کہ انہیں نجی اسپتال منتقل کیا جائے ؟ کپتان کی صحت کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات معمولی نہیں۔ اینگزائٹی کی کیفیت، بلڈ پریشر، نبض میں کمی، سرمیں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن میں تیزی کی شکایات۔ حکومت این جیو گرافی بھی کرانا چاہتی ہے ۔ پھرعدالت نے عمران خان کی بیماری اورطبی رپورٹس کوعام کرنے پرپابندی کیوں لگائی؟ ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کیوں روک دی گئی؟ میڈیکل رپورٹس کے بارے میں باقاعدہ حلف کیوں لیا گیا؟یہ پابندیاں اپنی جگہ، مگر سوال اپنی جگہ کھڑا ہے ۔کیا ہم صرف ایک مریض کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ دیکھ رہے ہیں، یا کسی بڑے سیاسی کھیل کی پہلی چال؟مجھے ابھی جواب معلوم نہیں،مگراتنا ضرور معلوم ہے کہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی،اصل کہانی تو شاید اب شروع ہوئی ہے ۔

کہانی کا دوسرا رخ،یہاں سے معاملہ صرف عمران خان کی صحت تک محدود نہیں رہتا، سیاست بھی اس میں داخل ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ اگر کپتان کو اسپتال منتقل کرنا محض طبی ضرورت ہے تو پھر مسلم لیگ ن کی اس قدر شدید مزاحمت کیوں؟ اوراگرحکومت واقعی اس فیصلے کو خطرناک سمجھتی ہے تو سوال یہ ہے کہ خطرہ کس چیز کا ہے ؟ممکن ہے ن لیگ کی چیخ و پکا بھی اسی کھیل کا ایک حصہ ہو۔ ممکن ہے حکومت کو پہلے ہی معلوم ہو کہ آگے کیا ہونے والا ہے ، اس لیے آج ہی اپنا دامن صاف رکھنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ کل کو خدانخواستہ کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش آئے تو کہا جائے گا کہ ہم تو پہلے ہی فیصلے کے خلاف تھے ۔ہماری سیاست میں ایسے کھیل پہلے بھی کھیلے گئے ہیں۔اورعدالتوں کا کردار بھی تاریخ میں ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا۔ کبھی فیصلے نے حکومتیں بچائیں، کبھی حکومتیں گرائیں، کبھی سیاست کا رخ بدلا اور کبھی برسوں بعد خود عدالت کو اپنے ماضی کے کسی فیصلے پرسوال اٹھانا پڑا،تو پھرکیا یہ ممکن ہے کہ آج بھی کسی بڑے کھیل کی بساط بچھائی جا رہی ہو؟ یہ تھی پہلی تھیوری۔ہاں یاد آیا،اس تھیوری میں ایف آئی اے کے ڈاکٹر رضوان اورمقصود چپڑاسی کو ذہن میں رکھنا،آپ کو اس تھیوری کی جلد سمجھ آجائے گی۔

کہانی کا دوسرا رخ دلچسپ ہے ۔پہلے ن لیگ کو پیپلزپارٹی سے ڈرایا جاتا تھا، پھر پیپلزپارٹی کو ن لیگ سے ۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنا سب سے بڑا سیاسی خطرہ سمجھتی رہیں۔ وقت بدلا، حالات بدلے ، دشمنی کم ہوئی اور دونوں جماعتیں ایک ہی صف میں آکھڑی ہوئیں۔لیکن اب میدان میں تیسرا فریق بھی موجود ہے ۔اور یہ تیسرا فریق پہلے دونوں سے زیادہ طاقتورہے ۔اب ممکن ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو تیسرے فریق سے ڈرایا جا رہا ہو۔ کیوں؟ طاقوردوست کچھ بڑا سوچ رہے ہیں، اور حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتیں،انہیں ‘‘چکر ’’ دے رہی ہوں۔ممکن ہے عمران خان کو یہ محدود سا ریلیف دراصل ایک ‘‘سیاسی وارننگ’’ ہو؟ ایک پیغام۔

‘‘ بندے دے پتر بن جاؤ۔۔ ورنہ کپتان آرہا ہے ’’۔

کیونکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں جانتی ہیں، کپتان اگرواقعی باہر آگیا تو سیاست پہلے جیسی نہیں رہے گی،پھرسوال یہ نہیں ہوگا کہ کون حکومت میں ہے ،سوال یہ ہوگا کہ ‘‘کون پاکستان میں رہ پائے گا ’’؟اوریہی وہ مقام ہے جہاں یہ چھوٹا سا عدالتی ریلیف ایک بہت بڑے سیاسی کھیل میں تبدیل ہوسکتا ہے ،لیکن ابھی کہانی مکمل نہیں ہوئی،اصل امتحان اگلے چند ہفتوں کا ہے ۔

اگر یہ صرف ایک طبی معاملہ ہے تو پھر سوالات اتنے زیادہ کیوں ہیں۔۔۔؟ اوراگر یہ محض ایک عدالتی ریلیف ہے توعمران خان کے تمام مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔؟ممکن ہے آنے والے دنوں میں اس سوال کا جواب خود سامنے آجائے ۔ اگر کپتان کے اسپتال ہوتے ہوتے دونوں پارٹیاں کان پکڑ کر سڑک پر بیٹھ جاتی ہیں،اور آوازیں لگاتی ہیں،حکم کریں !! ظل سبحانی،ہم جان قربان کرنے کیلئے تیار ہیں، پھر کپتان کو دوبارہ جیل لے جایا جاسکتا،اگر نواز،زرداری کوئی کھیل کھیلنے کی کوشش کریں گے تو ‘‘عظمیٰ ’’ کپتا ن کو ضمانت پر رہا کردی گئی۔ اور شاید یہی اصل پیغام ہو،دوجون کوایک کالم لکھا تھا، ’’ ایک تجربہ اورسہی ‘‘ اس میں عرض کیا تھا
کہ اگلے پینتالیس دن انتہائی اہم ہیں، یہ بھی لکھا تھا کہ ستمبر، ستمگر ہوسکتا ہے ۔اب اس وقت کو سامنے رکھ کرآج کے واقعات دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ گھڑی کی سوئیاں تیزہوگئی ہیں۔کپتان کو ریلیف ملا ہے ، مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ، سیاسی جماعتیں بے چین ہیں، حکومت وضاحتیں دے رہی ہے اورعدالت ایک بار پھر سیاسی منظرنامے کے عین وسط میں کھڑی ہے ،یہ سب محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے ،لیکن اگریہ اتفاق نہیں تو پھرآنے والے دن بہت کچھ طے کرنے والے ہیں،کیونکہ سیاست میں کبھی کبھی ایک چھوٹا سا دروازہ کھولا جاتا ہے ، تاکہ دیکھا جاسکے کہ اندر بیٹھے لوگ کیا ردعمل دیتے ہیں۔

اوراگرانہوں نے ردعمل میں غلطی کردی تو وہ دروازہ پورا کھل جاتا ہے ۔مجھے لگتا ہے کھیل شروع ہوچکا ہے ،اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ ستمبر کیا لے کر آتا ہے ۔ستمبر واقعی ستمگر ہوگا۔ یا کسی نئی سیاسی صبح کا آغاز؟فیصلہ آنے والے دن کریں گے ،فی الحال اتنا سمجھ لیجیے ۔ میچ شروع ہوچکا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں