آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش
شیئر کریں
ب نقاب/ایم آر ملک
کیا ایسا نہیں کہ وائٹ ہائوس میں ایک احمق سفید آدمی بر اجمان ہے ؟ ایک حواس باختہ کارٹون کی شکل میں!
ٹرمپ کی حماقت یہ ہے کہ نیتن یاہو کی ناقص اطلاعات کے جھانسے میں آکرآئو دیکھا نہ تاؤ ایران پر ہلہ بول دیا۔ ٹرمپ خوش فہمی میں ایران کو
تر نوالہ سمجھتا رہا جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ثابت ہوا کہ ایران تر نوالہ نہیں لوہے کا چنا ہے۔ اس لوہے کے چنے نے امریکہ کے صرف دانت
ہی نہیں توڑے بلکہ اس کے سپر پاور ہونے کا بھرم بھی توڑ کر رکھ دیا۔ معدوے چند غلامانہ ذہنیت اور فدویانہ سرشت رکھنے والے ممالک کے
علاوہ اکثر ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کا مکین ایران کے خلاف ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ جنگ کے بعد اب ہیرو سے زیرو
ہو چکا ہے۔ ایران کے سستے ترین ڈرونز نے امریکا کے تین تین اور چار چار ملیں ڈالرز کے پیٹریاٹ اور انٹر سیپٹر میزائلوں کے پرخچے فضائے بسیط میں اڑا کر رکھ دیے۔ ایران نے سعودی عرب اور کھاڑی کے دیگر ممالک کو باور کرا دیا کہ امریکہ ان کا دفاع اور حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ مشرق وسطی میں موجود امریکی اڈے اور تعینات فوجی مسلم عرب ممالک کے دفاع کے لیے نہیں بلکہ ان کی یہاں موجودگی اور تعیناتی کا کلیدی مقصد اور جوہری ہدف نسل پرست صہیونی ریاست اسرائیل کا تحفظ ہے۔
پاکستانی رولنگ ایلیٹ پیش پا افتادہ مفادات اور ناجائز اقتدار کی طوالت کے لیے ٹرمپ کا مرغ دست اموز بنی ہوئی ہے۔ اس وقت
ٹرمپ کو دنیا بھر میں ایک ناقابل اعتبار اور غیر متوازن شخصیت کی حیثیت سے جانا جارہاہے۔ ایران کے خلاف حالیہ غیر قانونی مسلط کردہ
جنگ کے دوران اس کا امیج ایک مخبوط الحواس کارٹون کا بنا ہے۔ ایرانی قیادت کی استقامت اور استقلال نے ٹرمپ کو بدترین اعصابی
ریزہ کاری اور ناگفتہ بہ نفسیاتی شکست و ریخت سے دوچار کر دیا ہے۔ امن مذاکرات کے نام پر وہ فیس سیونگ اور آنرایبل ایگزٹ چاہتا
ہے۔ سنجیدہ فکر اور بالغ نظر امریکی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سٹیٹ آف مائنڈ(ذہنی حالت) لائق اعتنا نہیں۔ تاریخ
گواہ ہے کہ امریکہ جس بھی ملک یا مقتدر کا دوست یا حامی ہونے کا دعوی کرتا ہے، اسی کو وقت آنے پر نشان عبرت بنانے سے بھی دریغ
نہیں کرتا۔ ٹرمپ ہر کام کی انجام دہی کے لیے طاقت کی منطق کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے۔ پسماندہ معاشی حالت کے حامل
ممالک کے حکمرانوں کو ڈالروں اور ہتھیاروں کی چمک دکھا کر مرعوب کرنا امریکی حکام کا پرانا شیوہ ہے۔ اس وقت امریکہ کی شاہرات پر
ایک طوفان برپا ہے۔ لاکھوں عوام ایک ہی آواز میں نعرہ لگا رہے ہیں”No Kings!”نہ کوئی بادشاہ، نہ کوئی مطلق العنان حکمران۔ یہ
تحریک نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہے بلکہ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی
فوجی کارروائی کے خلاف ایک زبردست عوامی ردعمل بھی بن چکی ہے۔ مظاہرین نے ان حملوں کو”غیر ضروری جنگ ”اور”جارحیت ”قرار دیا ، جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو آتش فشاں بنا یا بلکہ امریکی معیشت پر بھی براہ راست دباؤ ڈالا۔
28 مارچ کو اس تحریک کا سب سے بڑا احتجاج ہوا جبکہ اس کے بعد بھی پورے امریکہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔”نو کنگز”تحریک کے تیسرے بڑے احتجاج میں امریکہ کی تمام ریاستوں میں ساڑھے تین ہزار سے زائد ریلیاں اور مظاہرے ہوئے۔ 80 لاکھ سے 90 لاکھ افراد نے شرکت کی، جسے امریکہ کی تاریخ کے بڑے پُرامن مظاہروں میں شمار کیا گیا ۔
نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، شکاگو، لاس اینجلس، فلاڈیلفیا اور منیسوٹا کے سینٹ پال جیسے بڑے شہروں میں عوام کا سیلاب امڈ آیا۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے نعرے لگا رہے تھے:
No King
Stop the War on Iran
Democracy Has No Kings
ان نعروں نے صرف جنگ کی مخالفت نہیں کی بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار کے مطلق العنان رجحانات، آئین پر مبینہ حملوں اور”بادشاہت”
کی طرف بڑھتے ہوئے طرزِ حکمرانی پر بھی سوال اٹھا دیئے۔ عوامی غصے کی گہری جڑیں ان مظاہروں کی بڑی وجوہات میں شامل ہوگئیں ، جو
وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتی گئیں ۔ایران جنگ کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہوئے ،تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی نئی لہر اور
معاشی غیر یقینی نے عام امریکی کی زندگی کو متاثر کیا ۔”نو کنگز”تحریک میں امیگریشن پالیسیوں کی سختی، ICE کی کارروائیوں کے دوران
ہونے والی فائرنگ اور اموات نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا جس نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی۔ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی پر کھل
کر تنقید ہوئی۔ کئی مظاہرین ٹرمپ انتظامیہ کو”King Trump”کہہ کر مخاطب کر تے رہے اور اسے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی
قرار دیتے رہے ،امریکی عوام کے مطابق جمہوری نظام میں کسی بھی فرد کو مطلق اختیار حاصل نہیں،ٹرمپ کی حکمرانی امریکی معاشرے میں
بڑھتی ہوئی تقسیم کی علامت ہے۔ اس عوامی بے چینی نے ”ہمیں سنو”کی آواز کو مزید بلند کر دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ اس جنگ کو دفاعی اور ضروری
قرار دیتی رہی ، جبکہ لاکھوں عوام اسے ”بے وجہ خونریزی” سمجھتے ہیں۔
امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد اب خاموش رہنے کو تیار نہیں۔ وہ کھل کر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ
جمہوریت میں کوئی بادشاہ نہیں ہوتا۔ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکی سپر میسی کے زعم پر جو ضرب لاگئی ہے اس نے امریکی چودھراہٹ کا پت
پاش پاش کردیا ہے ، ٹرمپ کی حکمرانیصرف امریکہ کی داخلی سیاست ، عالمی سفارتی اور معاشی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر رہی
ہے۔ نیٹو سے لیکر تمام یورپ اس کی دوستی کو خیر باد کہہ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ بندی کیلئے آبرومندانہ بھیک مانگ رہا ہے مگر ایک
سپرپاور کا زوال اور ایک نئی پاور کی ابتدا اس جنگ نے رکھ دی ہے اور ٹرمپ کا امن کارڈ بھی اپنی موت آپ مرچکا ہے۔
٭٭٭


