میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فرقہ واریت کس کے فائدے میں ؟

فرقہ واریت کس کے فائدے میں ؟

منتظم
پیر, ۳ اکتوبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

syed-amir-najeeb
سید عامر نجیب
مسائل کی تفتیش میں ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے ایک بہت اہم ذریعہ یہ بات بنتی ہے کہ زیر تفتیش مسائل کی موجودگی اور بقاء سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے ۔ کرائم کی تفتیش کرنے والے اکثر اوقات اس زاوئیے سے تفتیش کو آگے بڑھاتے ہیں اور اکثر حقائق تک پہنچ بھی جاتے ہیں ، یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ مسائل سے کئی لوگوں یا کئی قوتوں کے مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ مسائل برقرار رہیں ۔ مثلاً جو عالمی قوتیں پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں انکی کوشش یہ رہے گی کہ نہ پاکستان کی سیاست میں استحکام آئے نہ معیشت و معاشرت میں اور نہ ہی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کنٹرول میں ہو ۔ کچھ قوتیں پاکستان کو ناکام ریاست بنانا چاہتی ہیں تا کہ جب اس کے حصے بخرے ہوں تو وہ بھی اپنا حصہ لے سکیں ۔ لہٰذا پاکستان کی بد خواہ ایسی تمام بیرونی قوتوں کا مفاد اس میں ہوگا کہ پاکستان میں لسانی سیاست فروغ پائے ، فرقہ واریت کا گراف بڑھے ، نسلی عصبیتوں کو تقویت ملے ، نفرتیں اپنے عروج پر پہنچیں اور قومی وحدت پارہ پارہ ہو کر رہ جائے ۔ لہٰذا ان مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان بیرونی قوتوں کے کردار کو بھی زیر تفتیش لانا ہوگا اور ان بیرونی قوتوں اور مسائل کے ذمہ دار داخلی عناصر کے درمیان کنکشن بھی تلاش کرنا ہوگا ۔
فرقہ واریت وطن عزیز کے سر فہرست مسائل میں سے ایک ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ صرف ملکی استحکام ہی کے لئے نقصان دہ نہیں بلکہ ملکی سالمیت کے لئے بھی خطرہ ہے ۔ مذہبی فرقوں کا وجود ایک حقیقت ہے یہ ماضی میں بھی تھا اور آئندہ بھی رہے گا کسی بھی فرقے کو ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ فرقے بھی رہیں اور فرقہ واریت بھی نہ ہو ۔ تقسیم کے بعد تین عشروں تک فرقہ واریت پاکستان کے سر فہرست مسائل میں شامل نہیں تھا ۔ چھوٹے موٹے تنازعات اور لڑائی جھگڑے تو ہوتے تھے لیکن اس وقت مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔ اس وقت تک فرقوں کی قیادت بھی اعتدال پسند علماء کے ہاتھوں میں تھی۔ اس وقت یہ منظر بھی دیکھنے کو ملتے تھے کہ گلی محلے میں منعقد ہونے والے سیرت کے جلسوں میں تمام مکاتب فکر کے علماء تقاریر کر رہے ہوتے ۔ فرقوں کے اختلاف کے باوجود علماء کا ایک دوسرے سے ملنا یہ بھی دیکھنے میں آتا تھا ۔ اختلاف رائے میں بھی علماء ایک دوسرے کا احترام برقرار رکھتے تہذیب و شائستگی کا دامن نہ چھوڑتے گویا اس وقت فرقے موجود تھے لیکن فرقہ واریت نہیں تھی ۔
آخری دو تین عشروں میں آخر ایسا کیا ہوا کہ فرقہ واریت ایک جن بن کر ریاست کے قابو سے بھی باہر ہونے لگا ؟ کئی عوامل ہیں لیکن ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ فرقہ واریت کا فائدہ کس کس کو پہنچ رہا ہے ۔ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ فرقہ واریت سے ملک دشمنوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں ، قوم تقسیم ہورہی ہے ، نفرتیں عروج پر پہنچ رہی ہیں فرقوں کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمیوں اور بد گمانیوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔ فرقے ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور اپنے اپنے دفاع کے لئے تشدد کا راستہ اختیا رکر رہے ہیں۔ فرقوں میں اعتدال اور امن کی آوازیں کمزور ہو رہی ہیں اور تعصب ، نفرت اور انتہا پسندی کی آوازوں کو پزیرائی مل رہی ہے۔ یوں افرا تفری ، غیر یقینی صورتحال اور بد امنی کی کیفیت ملک کے دشمنوں کی خواہشات کے عین مطابق ہے گویا پاکستان کی دشمن وہ قوتیں جو ملک کے اندر ہوں یا باہر وہ افراد کی صورت میں ہوں یا ریاستوں کی صورت میں فرقہ واریت کے فروغ سے ان کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ لہٰذا فرقہ واریت کے فروغ میں ملک دشمن قوتوں کایقینی طور پر ہاتھ ہے اور جو لوگ ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہے ہیں وہ ملک دشمن قوتوں کے معاون و مددگار ہیں ۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں بھی یہ سمجھنا آسان ہے کہ فرقہ وایت کا فائدہ ملک کو نہیں ملک دشمنوں کو ہوتا ہے ۔ وہ تمام گروہ اور عناصر جو فرقہ واریت پیدا کرتے ہیں وہ قطعی ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے بلکہ وہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر ملک دشمنوں کے ساتھی ہو تے ہیں ۔
داخلی طور پر فرقہ واریت کا فائدہ فرقہ پرستی پھیلانے والے خطیب اور ذاکر اُٹھاتے ہیں ۔ متعصب مذہبی رہنمائوں کی شہرت اور آمدنی کا انحصار تعصبات اور نفرتوں کے فروغ پر ہوتا ہے ۔ تعصبات کے ماحول میں آگ لگانے والے خطیب اور ذاکرین اپنے اپنے فرقوں میں ہیرو کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہو جاتی ہیں اور اگر کوئی بیرونی قوت اپنے مقاصد کے لئے موصوف کے سر پر دست شفقت رکھ دے تو بات کروڑوں تک بھی پہنچ جاتی ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ریاست کی عمل داری ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی رہی ہے۔ اسی لئے خطباء اور ذاکرین کو نفرتوں کا کھیل کھیلنے سے روکا نہیںجاسکا۔ فرقہ واریت سے فائدہ اٹھانے میں دوسرا نمبر فرقہ پرست سیاسی قیادت کا ہے جو لیڈرز علاقائی سطح پر قیادت کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ تعصبات کا سہارا لے کر ملک گیر سطح کی قیادت کے مناصب پر فائز ہیں ۔ وہ جن کے لہجے سے جہالت ٹپکتی ہے ۔ جن کے خیالات انتہائی عامیانہ ہیں اور جن کے کردار کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں اور جو اپنی قیادتیں منوانے کے لئے جبر اور تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے وہ فرقہ وارانہ تعصب کی آڑ لے کر سیاست کر رہے ہیں ۔ جس قدر فرقہ واریت فروغ پاتی ہے اُسی قدر فرقہ پرست قیادت کو استحکام ملتا ہے ۔ اپنی قیادت کے استحکام کے لئے فرقہ پرست قیادت اپنے فرقے کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے اور اس مقصد کے لئے ملک کے دشمنوں کے ہاتھوں بک بھی سکتی ہے ۔
فرقہ وایت کے تدارک کے لئے اگر حکومت سنجیدہ ہو تو فرقہ پرستوں پر اپنی رٹ قائم کر کے مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے لیکن ایک اور بد قسمتی یہ ہے کہ حکومتیں بھی فرقہ واریت سے مفاد حاصل کرتی رہی ہیں ۔ مذہبی لوگوں کی توجہ حکومتی نا اہلیوں اور حکمرانوں کی سیاہ کاریوں سے ہٹانے کا ایک ذریعہ فرقہ واریت بھی ہے ۔ جب صورتحال یہ ہو تو فرقہ واریت کے خاتمے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا ؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں