میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آزمائش ؟

آزمائش ؟

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۰ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی شعور کے ارتقاء اور فکری بلوغت کا سفر کبھی بھی بند کمروں کی خاموشی یا محض سنی سنائی پر اندھا یقین کر لینے سے طے نہیں ہوتا،عوام کا
نام لے کر مسلسل عوام کے مفادات کے خلاف حکمرانی کرنے والی اشرافیہ سیاسی شعور کے حوالے سے عوامی شعور سے بہت پیچھے رہ گئی ہے۔
عمران خان کو عارضی یا مستقل ریلیف دینے کیلئے حکمران اشرافیہ کو پاکستان کی سیاسی تاریخ ذہن نشین رکھنی چاہئے۔ جب وطن کی ہیئت
حاکمہ سیاسی بندوبست کرنے کیلئے کوئی نیا منصوبہ لاگو کرنا چاہتی ہے تو پھر ریلیف دہلیز پر دیا جاتا ہے۔ جس طرح میاں نواز شریف کو ملا ۔یہ
انتہائی سطحی ذہنیت کا تجزیہ ہے کہ عمران خان بیرون ملک منتقل ہو جائے گا، عمران خان بنی گالہ جائیں گے یا پھر عمران خان نے ڈیل کر لی
ہے، یہ وطن تو ہمارا ہی ہے لیکن یہ مت بھولا کریں کہ ہم ہیں خواہ مخواہ اس میں۔ بس ایک سوال چھوڑ نا چاہتا ہوں ۔ چند مہینوں سے پاکستان
میں نیا سیاسی سوال کیا ہے؟ اس سیاسی سوال پر پیپلز پارٹی، ن لیگ کا کیا نکتہ ہے؟ کیا چند مہینوں پہلے عوامی سطح پر پھیلایا گیا سوال جمہوریت
کے بطن سے پیدا ہوا یا پھر کہیں اور سے؟ حالیہ پیش رفت صرف ایک چھوٹی سی جھلکی ہے یہ ابھی نہ تو عارضی ہے اور نہ ہی مستقل ہے۔

نارووال کے ارسطو کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تو پھر ہر قیدی اسپتال جانے کی درخواست کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ جب نواز شریف کو جیل سے علاج کے نام پر لندن جانے کی اجازت ملی ، تب کیا ملک میں دوسرے قیدی موجود نہیں تھے؟ کیا
اُس وقت کسی اور قیدی کو بیماری یا علاج کی بنیاد پر درخواست دینے کا حق حاصل نہیں تھا؟اصل مسئلہ اسپتال جانا نہیں، اصول کا ایک جیسا
ہونا ہے۔ اگر قانون اور انسانی ہمدردی کسی ایک سیاسی رہنما کے لیے قابلِ قبول ہے تو وہی معیار دوسرے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہماری سیاست میں مخالفین کے لیے برداشت اور ظرف کا مظاہرہ بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیاسی رویے پر
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ اپنے مخالف کے لیے بھی وہی سیاسی اور انسانی معیار تسلیم کرنے کو تیار ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں؟
عمران خان کے معاملے نے شاید پہلی بار اس سیاسی نظام کے سامنے ایسا مضبوط سیاسی مقابلہ کھڑا کیا ہے جس نے روایتی سیاست دانوں کو
دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر اصول سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔

عمران خان ایک عظیم لیڈر ہے ، صحت کے حوالے سے وہ اپنے ہی ملک کے ہسپتال میں علاج کا خواہاں ہے ، علاج کے لیے نہ اس کے
پلیٹ لیٹس کم ہوئے ہیں کہ وہ لندن چلا جائے نہ اس کی شوگر بڑھی کہ وہ دبئی چلا جائے، ن لیگ والوں کا تو حق بنتا ہے کہ وہ تنقید کریں لیکن
افسوس ہے پیپلز پارٹی کے ان لوگوں پر جو اپنے آپ کو جمہوری اور عاصمہ جہانگیر مرحومہ کا پیروکار سمجھ کر بڑی تقریر کرتے ہیں انسانی حقوق
کی۔ اور کچھ سرائیکی لسٹ ہیں جو احساس محرومی کی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن آج یہی لگا کہ وہ نہ جمہوری ہیں نہ انسانی حقوق کے علمبردار ، نہ
وہ سرائیکی لسٹ ہیں بلکہ وہ خر کے گوش ہیں جو دور سے مفادات کو خطرہ دیکھ کر گھبرا چکے ہیں اور کان کھڑا کر کے سرخ رنگت میں پریشان ہیں
کہ کہیں ہماری باری نہ چلی جائے ۔باقی ظلم جبر کی سیاہ رات کبھی نہ کبھی طلوع آفتاب سے ختم ہوکر اجالا بکھرجاتا ہے ، اب ہر عام پاکستانی
جان چکا ہے تم کو سمجھ چکا ہے کہ عوام ذلیل اور خوار آپ ہی کی وجہ سے ہیں،لوگوں کو بھٹو کی شہادت بتاتے ہو، عمران خان کی صحت کے پورے
معاملے میں سب سے اہم اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ عمران خان یا ان کے اہلخانہ کی طرف سے ملک سے باہر جانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جا
رہا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ماضی میں کئی رہنما علاج کی غرض سے بیرونِ ملک، بالخصوص لندن یا یوکے کا رخ کرتے
رہے ہیں، جس پر اکثر عوامی اور سیاسی سطح پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ تاہم، اس کیس میں صورتحال بالکل مختلف ہے؛ یہاں صرف اور صرف
پاکستان کے اپنے معتبر اور معروف ہسپتال میں علاج کی بات کی جا رہی ہے۔ جب ایک سابق وزیراعظم ملک کے اندر ہی موجود طبی
سہولیات سے استفادہ کرنے کا تقاضا کر رہا ہو، تو اس پر لیت و لعل سے کام لینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ علاج کی سہولت ہر شہری اور قیدی
کا بنیادی اور آئینی حق ہے، اور جب بات پاکستان کے اندرونی ہسپتال کی ہو تو اس میں کسی قسم کا اعتراض یا خوف سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر
نیت صرف صحتیابی ہے اور تمام عمل پاکستان کی حدود اور قانون کے دائرے میں ہونا ہے، تو پھر کسی کے علاج سے خوفزدہ ہونے کی کیا تک
بنتی ہے؟

ریاست اور عدالت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام سیاسی اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانی اور قانونی نقطہ نظر کو ترجیح دیں۔
پاکستان کے کسی ہسپتال میں عمران خان کو مکمل اور شفاف طبی معائنے کی اجازت دینے سے نہ صرف قانونی تقاضے پورے ہوں گے بلکہ اس
سے ملکی سطح پر پائی جانے والی تشویش بھی ختم ہوگی۔ اب وقت ہے کہ اس معاملے کو سیاسی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے ایک قیدی کے بنیادی
انسانی حق کے طور پر دیکھا جائے اور انہیں پاکستان ہی کے ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جائے۔ رہی بات ن لیگ کی تو سپریم کورٹ پر
حملہ کرنے والوں کو آپ مہرے کہہ سکتے ہو؟جوسیاست کے نام پر دھبہ ہیں ،جن میں اخلاقی جرات ہی نہیں کہ اپنے مخالفین کیلئے ظرف کا
مظاہرہ کرسکیں،شاید انکا پہلی بار مقابلہ ایک جینوئن سیاست دان عمران خان سے ہوا ہے، ان کے اوسان خطا ہوچکے ہیں۔ ابھی ایک اہم
مرحلہ باقی ہے سپریم کورٹ سے سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا عدالتی حکم ایسے وقت میں
آیا ہے جب عمران خان کی صحت، طویل قید اور ان کے علاج سے متعلق سوالات پہلے ہی ملک کے سیاسی تنازع کا حصہ بن چکے ہیں۔ فیصلے
پر عمل درآمد اب حکومت کے لیے فوری انتظامی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک اہم سیاسی امتحان بھی ہے۔لیکن اس فیصلے کی اہمیت صرف
عمران خان کے اسپتال پہنچنے تک محدود نہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی تقسیم میں عدالت کا یہ حکم ایک ایسے مقام پر آیا ہے جہاں ایک طبی
معاملہ بھی ریاست اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد، سیاسی انتقام کے تاثر اور ادارہ جاتی کشمکش سے جڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے
دنوں میں اصل توجہ خود عدالتی حکم سے زیادہ اس پر ہوگی کہ مختلف سیاسی قوتیں اس کا جواب کس انداز میں دیتی ہیں۔

حکومت یاریاست بنیادی حقوق اور عدالتی احکامات سے بالاتر نہیں۔ اس کے برعکس اگر انتظامی سطح پر غیرضروری تاخیر، ابہام یا رکاوٹ
سامنے آتی ہے تو ایک طبی مسئلہ فوراً سیاسی انتقام کے بیانیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔مسلم لیگ ن کے لیے یہی اصل آزمائش ہے۔ عمران خان
ان کا سب سے بڑا سیاسی حریف ہو سکتاہے ، مگر ایک سیاسی حریف کے حقوق تسلیم کرنا اس کی سیاسی طاقت تسلیم کرنا نہیں۔ جمہوری حکومت کی
اصل ساکھ اس وقت بنتی ہے جب وہ اپنے مخالف کے لیے بھی وہی قانونی معیار برقرار رکھے جس کا مطالبہ وہ اپنے لیے کرتی ہے۔اس لیے
حکومت اگر عدالتی حکم کو ایک سیاسی رعایت سمجھنے کے بجائے ریاستی ذمہ داری کے طور پر دیکھے تو اس کے لیے بھی سیاسی فائدہ نکل سکتا ہے۔
ایک شفاف اور باوقار طبی عمل تحریک انصاف کے اس بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے کہ ریاست عمران خان کے ساتھ محض سیاسی دشمنی کی بنیاد پر
سلوک کر رہی ہے۔ دوسری طرف معمولی سی انتظامی سختی بھی اس بیانیے کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے لیے یہ صورتحال ایک مختلف نوعیت کی سیاسی گنجائش پیدا کرتی ہے۔ اتحادی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی
کے پاس مسلم لیگ ن کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ سیاسی فاصلہ رکھنے کی گنجائش ہے۔ اگر وہ عدالت کے حکم کی حمایت اور عمران خان کے علاج
کے حق کو انسانی اور آئینی مسئلے کے طور پر سامنے لاتی ہے تو وہ ایک بار پھر مفاہمت اور سیاسی برداشت کی آواز بننے کی کوشش کر سکتی ہے۔

تحریک انصاف کے لیے عدالت کا حکم فوری طور پر ایک نفسیاتی ریلیف ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق مسلسل خدشات نے پارٹی
کارکنوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ اسپتال منتقلی سے یہ دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے اور پارٹی کو اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے
کا موقع مل سکتا ہے۔لیکن تحریک انصاف کے لیے بھی اصل سوال یہی ہے کہ وہ اس موقع کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ اگر اسے صرف اپنی
سیاسی فتح کے طور پر پیش کیا گیا اور عدالتی فیصلے کو ایک نئے تصادم کا نقطہ آغاز بنا دیا گیا تو سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کی گنجائش پھر ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر پارٹی اسے قانونی جدوجہد اور سیاسی رابطوں کے لیے ایک وقفے کے طور پر استعمال کرے تو اس کے سیاسی اثرات
زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

اس پورے معاملے کا ایک بڑا فائدہ ریاستی اداروں کو بھی ہو سکتا ہے۔ عمران خان کی مسلسل قید نے سیاسی دباؤ کو ایک ہی مرکز پر مرکوز کر
رکھا ہے، جبکہ ان کی صحت سے متعلق ہر تشویش اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ عدالت کا حکم اس بحران سے نکلنے کا ایک ایسا راستہ فراہم
کرتا ہے جس میں کسی فریق کو باضابطہ طور پر پسپائی اختیار نہیں کرنا پڑتی۔ حکومت کہہ سکتی ہے کہ اس نے عدالت کے حکم کی تعمیل کی، تحریک
انصاف اسے اپنے قائد کے لیے قانونی ریلیف قرار دے سکتی ہے، اور ریاستی ادارے سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کا موقع حاصل کر سکتے
ہیں۔ یوں کوئی فریق اپنی بنیادی سیاسی پوزیشن ترک کیے بغیر کشیدگی میں کمی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ تاہم یہ موقع محدود ہے۔

پاکستان کا سیاسی بحران عمران خان کی ذات سے کہیں بڑا ہے۔ یہ سیاسی مینڈیٹ، اداروں کے کردار، احتساب، ریاستی اختیار اور سیاسی
اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے متعلق بنیادی سوالات کا مجموعہ ہے۔ اسپتال منتقلی ان مسائل کا حل نہیں، لیکن یہ ضرور بتا سکتاہے
کہ سیاسی نظام کسی ایک معاملے پر قانون اور ادارہ جاتی عمل کو تصادم پر ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔اصل امتحان اس لیے عمران
خان کے اسپتال پہنچنے کا نہیں، اس کے بعد کے سیاسی رویے کا ہے۔اگر حکومت اسے قانون کی بالادستی کا مظاہرہ بناتی ہے، تحریک انصاف
اسے مزید محاذ آرائی کے بجائے سیاسی گنجائش میں بدلتی ہے اور دیگر سیاسی قوتیں مفاہمت کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو یہ فیصلہ شاید پاکستان کے
بڑے سیاسی بحران کو ختم نہ کرے، مگر اس میں ایک وقفہ ضرور پیدا کر سکتا ہے۔اور موجودہ سیاسی ماحول میں، جہاں ہر اختلاف فوراً محاذ آرائی
میں بدل جاتا ہے، شاید ایک وقفہ ہی کسی بڑی سیاسی پیش رفت کی پہلی شرط کے لیے سب سے اہم مرحلہ اب اس حکم پر عمل درآمد ہے۔ اگر
عمران خان کو بلا تاخیر مناسب طبی سہولت فراہم کر دی جاتی ہے تو حکومت کے پاس یہ دکھانے کا موقع ہوگا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن
ہم نے انسانی تقاضوں کو پوراکیا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں