میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نوٹیفکیشن کے بغیر حکومتی یقین دہانی قبول نہیں، ٹرانسپورٹرز کا دوٹوک مؤقف

نوٹیفکیشن کے بغیر حکومتی یقین دہانی قبول نہیں، ٹرانسپورٹرز کا دوٹوک مؤقف

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ٹرانسپورٹرز مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے خواہاں ہیں 

امید ہے حکومت  مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی، ملک شہزاد اعوان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ تحریری نوٹیفکیشن کے اجرا کے بغیر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی محض یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں کیا جائے گا، تاہم امید ہے کہ حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کا قابلِ قبول حل نکال لیا جائے گا۔

ملک شہزاد اعوان نے اپنے بیان میں کہا کہ گورنر ہاؤس میں وفاقی حکومت، حکومت سندھ اور حکومت پنجاب کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے، جن میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر، گورنر سندھ، وزیر مواصلات و ٹرانسپورٹ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے تمام زیرِ التوا مسائل حل کیے جائیں تاکہ ملک میں ترسیلِ سامان کا نظام بحال ہوسکے، تاہم محض زبانی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی۔ مطالبات پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی ہڑتال ختم کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

ملک شہزاد اعوان کے مطابق وفاقی حکومت، وزارت مواصلات، وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم سے متعلق مطالبات پر تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ بعض دیگر معاملات پر مذاکرات کے باوجود ڈیڈلاک برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ لوڈ ایکسل کے نفاذ، کسٹمز کے ایس آر او، ودہولڈنگ ٹیکس، یومیہ بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کے تعین سمیت دیگر مطالبات ٹرانسپورٹرز کے بنیادی مسائل میں شامل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے بغیر ملک گیر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے باعث ملک بھر میں اشیا کی ترسیل، درآمدی و برآمدی سامان اور بندرگاہوں سے کنٹینرز کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے خواہاں ہیں اور امید ہے کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے گی، تاکہ ملک میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ دوبارہ رواں ہوسکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں