میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تاریخ کی عدالت میں سیاستدان کھڑے ہیں!

تاریخ کی عدالت میں سیاستدان کھڑے ہیں!

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ جب بھی کسی قوم کا مقدمہ سنتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس کے سیاست دانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔ کسی بھی ریاست کی
خوشحالی یا بربادی محض اس کے وسائل، جغرافیے یا آبادی سے طے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کی قیادت کس ذہن، کس
کردار اور کس اخلاقی معیار کی حامل تھی۔ اہرامِ مصر، رومی سلطنت، یونان کی شہری ریاستیں، عباسی دور، یورپ کی نشاۃِ ثانیہ، صنعتی انقلاب،
جدید جمہوریتیں اور بیسویں صدی کی خون آشام آمریتیں یہ سب اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ سیاست دان صرف حکومتیں نہیں چلاتے، وہ
آنے والی نسلوں کی قسمت بھی لکھتے ہیں۔افلاطون نے اپنی شہر آفاق کتاب ری پبلک میں کہا تھا کہ اگر فلسفی حکمران نہ بنے، یا حکمران فلسفہ نہ
سیکھیں، تو ریاست کبھی انصاف کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ ارسطو نے سیاست کو اخلاقیات کا عملی اظہار قرار دیا۔ اس کے برعکس میکاولی نے
اقتدار کو ایک الگ دنیا بنا دیا، جہاں کامیابی کا معیار اخلاق نہیں بلکہ طاقت بن گیا۔ اسی کشمکش نے پوری انسانی تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔

سیاست دانوں کی پہلی قسم معمارِ ریاست ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کے
لیے اقتدار منزل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہوتا ہے۔ وہ قانون کو مضبوط کرتے ہیں، اداروں کو شخصیات سے بڑا بناتے ہیں، تعلیم، انصاف اور
مساوی مواقع کو ریاست کی بنیاد بناتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں خودنمائی نہیں بلکہ خدمت کا جذبہ غالب ہوتا ہے۔ تاریخ ان کے نام احترام
سے لیتی ہے، کیونکہ ان کے فیصلوں کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔

دوسری قسم اقتدار کے پجاری ہیں۔ ان کے نزدیک اقتدار ہی سچ، اخلاق، نظریہ اور مقصد ہے۔ نفسیات کی زبان میں یہ لوگ اکثر طاقت کے ذریعے اپنی اندرونی کمزوریوں کی تلافی کرتے ہیں۔ انہیں ہر مخالف دشمن، ہر سوال سازش اور ہر آزاد ادارہ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کا ایسا حصار بنا لیتے ہیں جس میں صرف تعریف داخل ہو سکتی ہے، تنقید نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقتدار انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔

تیسری قسم عوامی جذبات کے تاجر ہیں۔ یہ لوگ غربت، مذہب، قومیت، زبان، تاریخ اور محرومی کو عوام کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ اپنی سیاسی تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے جلسوں میں امید کے نعرے بلند ہوتے ہیں، مگر اقتدار میں آ کر انہی امیدوں کو سب سے پہلے فراموش کر دیا جاتا ہے۔ فلسفی ژاں ژاک روسو نے خبردار کیا تھا کہ جب عوام کی اجتماعی خواہش کو چند افراد کی ذاتی خواہش میں بدل دیا جائے تو جمہوریت صرف ایک ظاہری پردہ رہ جاتی ہے۔

چوتھی قسم موقع پرست سیاست دان ہیں۔ ان کے لیے نظریہ موسم کی طرح بدلتا ہے۔ آج وہ ایک پرچم کے نیچے ہوتے ہیں، کل دوسرے
کے۔ ان کی وفاداری اصول سے نہیں بلکہ فائدے سے ہوتی ہے۔ ایسے کردار وقتی طور پر کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن قوموں کے اجتماعی اعتماد
کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جب عوام سیاست پر یقین کھو دیتے ہیں تو ریاست کا اخلاقی ڈھانچہ بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔

پانچویں قسم اصولی سیاست دان ہیں۔ یہ تعداد میں ہمیشہ کم ہوتے ہیں، لیکن تاریخ میں سب سے زیادہ روشن نظر آتے ہیں۔ وہ اقتدار کے
لیے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے۔ انہیں جیل، جلاوطنی، ناکامی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، مگر وہ اپنے نظریات پر قائم رہتے ہیں۔ ان
کی اصل کامیابی انتخابات سے نہیں بلکہ تاریخ کے فیصلے سے طے ہوتی ہے۔نفسیات ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اقتدار انسان کی اصل شخصیت کو
بے نقاب کرتا ہے۔ جس کے اندر خوف ہوگا، وہ جبر پیدا کرے گا۔ جس کے اندر لالچ ہوگا، وہ کرپشن کو جنم دے گا۔ جس کے اندر احساسِ
برتری ہوگا، وہ عوام کو کمتر سمجھے گا۔ اور جس کے اندر خدمت ہوگی، وہ طاقت کو بھی امانت سمجھے گا۔کسی بھی قوم کے لیے سب سے خطرناک
سیاست دان وہ نہیں جو صرف جھوٹ بولتا ہے، بلکہ وہ ہے جو عوام کو سوچنے سے روک دیتا ہے۔ جو سوال ختم کر دیتا ہے، وہ مستقبل بھی ختم کر
دیتا ہے۔ تعلیم یافتہ اور باشعور معاشرہ سیاست دانوں کی اندھی تقلید نہیں کرتا، بلکہ ان کا احتساب کرتا ہے۔ یہی احتساب جمہوریت کی روح
ہے۔تاریخ کی عدالت میں نہ تخت باقی رہتے ہیں، نہ محلات، نہ قافلے اور نہ ہی محافظ۔ وہاں صرف کردار کھڑا ہوتا ہے۔ اس عدالت میں کسی سیاست دان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کتنے برس اقتدار میں رہا؛ اس سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ اس نے کتنے انسانوں کی زندگی بہتر بنائی، کتنے ادارے مضبوط کیے، کتنا انصاف قائم کیا، اور آنے والی نسلوں کے لیے کیسا معاشرہ چھوڑا۔

1947ء میں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے طور پر ابھرا۔ اس کے ساتھ لاکھوں انسانوں کی امیدیں، قربانیاں اور خواب
وابستہ تھے۔ لیکن آزادی کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک تلخ سوال بار بار سامنے آتا ہے: کیا ہمارے سیاست
دانوں نے ریاست کو عوام کی امانت سمجھا، یا اقتدار کو اپنی ذاتی ملکیت؟تاریخ کا انصاف جذبات سے نہیں بلکہ نتائج سے ہوتا ہے۔ آج
جب ہم تقریباً آٹھ دہائیوں کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ایسے رہنما بھی گزرے جنہوں نے
ادارے بنانے، آئین سازی اور قومی ترقی کی کوشش کی، اور ایسے بھی جن پر بدعنوانی، اقربا پروری، شخصی اقتدار یا اداروں کو کمزور کرنے جیسے
الزامات لگتے رہے۔ اس لیے کسی ایک فرد یا جماعت سے زیادہ، مسئلہ ایک وسیع سیاسی ثقافت کا بھی ہے جس کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شخصیت پرستی اکثر اداروں پر غالب آتی رہی۔ سیاسی جماعتیں کئی مواقع پر مضبوط اداروں کے بجائے مضبوط
شخصیات کے گرد گھومتی رہیں۔ جب شخصیت قانون سے بڑی ہو جائے تو آئین کمزور اور ریاست غیر متوازن ہونے لگتی ہے۔نفسیات کے
مطابق وہ سیاست دان جو ہر تنقید کو دشمنی اور ہر اختلاف کو سازش سمجھتا ہے، وہ عدمِ تحفظ کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں فیصلہ سازی محدود
ہو جاتی ہے، مشاورت کمزور پڑ جاتی ہے، اور خوشامد کو قابلیت پر ترجیح ملنے لگتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ رجحان کسی ایک دور یا ایک جماعت
تک محدود نہیں رہا۔پاکستان کی سیاست میں ایک اور نمایاں مسئلہ اقتدار کو خدمت کے بجائے غلبے کے طور پر دیکھنا رہا ہے۔ حکومتیں بدلتی
رہیں، لیکن کئی بنیادی مسائل تعلیم، صحت، انصاف، مقامی حکومت، روزگار، ٹیکس اصلاحات اور ادارہ جاتی استحکام مسلسل چیلنج بنے رہے۔ اس
سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری سیاست طویل المدت قومی حکمتِ عملی پر قائم رہی، یا زیادہ تر فوری سیاسی مفادات کے گرد گھومتی رہی؟
کارل پوپر نے کہا تھا کہ اچھی سیاست کی پہچان یہ نہیں کہ کامل حکمران مل جائے، بلکہ یہ ہے کہ ریاست میں احتساب اور پُرامن
تبدیلی کے مؤثر نظام موجود ہوں۔ پاکستان کی تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ مضبوط ریاستیں افراد سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، قانون کی
حکمرانی اور جواب دہی سے بنتی ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی قیادت کی نفسیات کا ایک پہلو یہ بھی رہا ہے کہ اقتدار اکثر ایک "صفر
جمع کھیل بن گیایعنی مخالف کی شکست ہی اپنی کامیابی سمجھی گئی۔ اس ذہنیت نے سیاسی مفاہمت، پالیسی کے تسلسل اور قومی اتفاقِ رائے کو
نقصان پہنچایا۔ نتیجتاً، ہر نئی حکومت نے اکثر پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کو ترجیح دی، جس سے ریاستی تسلسل متاثر
ہوا۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ریاستیں نعروں سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ قومیں جذباتی خطابات سے نہیں، بلکہ
شفاف حکمرانی، آزاد اداروں، غیر جانبدار قانون، معیاری تعلیم اور معاشی مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔پاکستان کو آج ایسے سیاست دانوں کی
ضرورت ہے جو اقتدار کو کامیابی نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں؛ جو اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کی علامت سمجھیں؛ جو اپنی جماعت سے
پہلے ریاست، اور ریاست سے پہلے عوام کے مفاد کو مقدم رکھیں۔تاریخ کی عدالت میں نہ کوئی انتخابی مہم پیش ہوتی ہے، نہ کوئی سیاسی نعرہ۔
وہاں صرف ایک سوال پوچھا جاتا ہے: آپ نے اقتدار سے اپنے لیے کیا لیا، اور قوم کے لیے کیا چھوڑا؟یہی سوال پاکستان کی گزشتہ سیاسی
تاریخ سے بھی پوچھا جا رہا ہے، اور یہی سوال آنے والی نسلیں بھی ہر نئی قیادت سے پوچھیں گی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں