لانڈھی اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات شروع، پانچ رکنی انکوائری کمیٹی قائم
شیئر کریں
انکوائری کمیٹی 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی، لیبارٹری رپورٹس، انفیکشن کنٹرول اور ممکنہ ذرائع کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوشل سکیورٹی لانڈھی اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو سات روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
کمیٹی اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کی نوعیت، ممکنہ ذرائع، انفیکشن کنٹرول کے انتظامات اور طبی طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لے کر ذمہ دار عناصر کے تعین اور مستقبل کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر نائلہ ظہیر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسپتال میں رپورٹ ہونے والے تمام ایچ آئی وی کیسز اور متعلقہ لیبارٹری رپورٹس کی تصدیق کرے۔
اس کے علاوہ متاثرہ مریضوں، سوشل سکیورٹی سے منسلک ورکرز اور ان کے اہل خانہ کا ریکارڈ بھی جانچا جائے گا تاکہ بیماری کے ممکنہ ذرائع اور وبائی روابط کا درست تعین کیا جا سکے۔
کمیٹی اسپتال میں انجکشن لگانے کے طریقہ کار، ڈسپوزیبل سرنجوں کے استعمال، ادویات اور طبی سامان کی خریداری و دستیابی، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول اقدامات، بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ اور متعلقہ ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی آڈٹ کرے گی۔
اس کے ساتھ متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کا مکمل ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ تحقیقات کو جامع اور شفاف بنایا جا سکے۔تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ میں ممکنہ ذمہ دار افراد یا اداروں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے عملی اقدامات بھی تجویز کرے گی جن کے ذریعے مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام اور اسپتال کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
دوسری جانب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سوشل سکیورٹی لانڈھی اسپتال ڈاکٹر ظفر نے موقف اختیار کیا ہے کہ متاثرہ بچوں کو ایچ آئی وی وائرس اسپتال سے منتقل نہیں ہوا بلکہ وہ پہلے ہی باہر سے متاثر تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال سے ملحقہ آبادیوں میں غیر قانونی کلینکس اور بلڈ بینکس بڑی تعداد میں کام کر رہے ہیں، جن کے خلاف مؤثر کارروائی سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی طبی مراکز اور بلڈ بینکس کے خلاف فوری اور مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ شہریوں کو ایسے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔


