میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گلشن معمار میں گھر میں گھس کر مبینہ اجتماعی زیادتی

گلشن معمار میں گھر میں گھس کر مبینہ اجتماعی زیادتی

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

18 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج، پولیس نے تفتیش شروع کر دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلشن معمار کے علاقے میں ایک 18 سالہ لڑکی کے ساتھ گھر میں گھس کر مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے،

جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ لڑکی کے والد جاوید اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا، جنہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ بہادر گوٹھ میں واقع ایک قالین کی دکان پر ملازمت کرتے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ گھریلو ملازمہ ہیں۔

23 جولائی کی صبح دونوں اپنے اپنے کام پر چلے گئے تھے اور اس دوران ان کی 18 سالہ بیٹی گھر میں اکیلی موجود تھی۔

مدعی کے مطابق صبح تقریباً سوا نو بجے دو نامعلوم نوجوان زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ ان کے بقول دونوں افراد شلوار قمیض میں ملبوس تھے اور متاثرہ لڑکی انہیں سامنے آنے پر شناخت کر سکتی ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر لڑکی کو زبردستی کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور بعد ازاں موقع سے فرار ہو گئے۔

مدعی نے بیان دیا کہ واقعے کے فوراً بعد ان کی بیٹی نے فون کے ذریعے انہیں اطلاع دی، جس پر وہ اور ان کی اہلیہ فوری طور پر گھر پہنچے۔ بعد ازاں مددگار 15 کو اطلاع دی گئی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

گلشن معمار پولیس نے واقعے کا مقدمہ نمبر 356/2026 تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت دو نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے مزید تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دی ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کی شناخت و گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آنے پر قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں