میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی، ہزاروں اسرائیلی آبادکاروں کا دھاوا

مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی، ہزاروں اسرائیلی آبادکاروں کا دھاوا

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مذہبی تہوار پر 3 ہزار سے زائدیہودی آبادکار داخل ہوئے، اردن اور حماس کی مذمت

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی آمد نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہودی مذہبی تہوار تشا بِآو کے موقع پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی میں 3 ہزار سے زائد اسرائیلی آبادکار مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے،

جبکہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی آمد نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ فلسطینی حکام نے اس اقدام کو مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، جبکہ اردن اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس کی شدید مذمت کی ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کے اسلامی وقف (اسلامک وقف) کے مطابق بدھ کی شام شروع ہونے والے تشا بِآو تہوار کے بعد سے اب تک 3 ہزار سے زائد اسرائیلی آبادکار سخت سکیورٹی حصار میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔

دوسری جانب فلسطین کے گورنریٹ برائے القدس (یروشلم) کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 2300 سے زائد آبادکاروں کو تقریباً 150، 150 افراد کے گروپوں کی صورت میں احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جہاں بعض آبادکاروں نے مذہبی رسومات ادا کیں، تفلین باندھے، سجدے کیے اور بلند آواز میں مذہبی نغمے بھی گائے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ کے تمام داخلی راستوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) میں سخت پابندیاں عائد کر دیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینی نمازی مسجد میں داخل نہ ہو سکے۔

متعدد طلبہ کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کئی نمازیوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور تشدد بھی کیا گیا۔یروشلم (بیت المقدس) کی فلسطینی گورنریٹ انتظامیہ نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی مسجدِ اقصیٰ آمد کو انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت اب ان اقدامات کی سرکاری سطح پر حمایت کر رہی ہے جو پہلے صرف انتہا پسند آبادکار گروہوں تک محدود سمجھے جاتے تھے۔

مسجدِ اقصیٰ سے متعلق کئی دہائیوں سے قائم تاریخی اسٹیٹس کو کے تحت اس مقام پر صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے، جبکہ غیر مسلم مخصوص اوقات میں صرف بطور سیاح داخل ہو سکتے ہیں۔

مسجدِ اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جبکہ یہ مقام یہودی مذہب میں بھی نہایت مقدس سمجھا جاتا ہے اور وہ اسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔اس واقعے پر اردن نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی حکام اور آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ میں داخلے کی شدید مذمت کی۔

اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان فواد المجالی نے کہا کہ یہ اقدامات مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری کارروائیاں روکی جا سکیں۔

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی واقعے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور مقدس مقامات کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام اور مزاحمت اپنی مقدس عبادت گاہوں کی بے حرمتی پر خاموش نہیں رہیں گے۔

مسجدِ اقصیٰ میں ہزاروں اسرائیلی آبادکاروں کے داخلے اور فلسطینی نمازیوں پر عائد پابندیوں نے ایک بار پھر مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جبکہ اس پیش رفت پر خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں