میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری

امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران اور عراق کے درمیان واقع شلامچہ سرحدی گزرگاہ کے قریب ایک علاقے کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا

کویت میں فضائی دفاعی نظام متحرک، ایرانی ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعوی،عوام افواہوں پر کان نہ دھریں ،کویتی فوج کی اپیل

امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی مالی سال 2027 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کی منظوری دے دی

وائٹ ہاؤس کاایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع پر غور،

مشرق وسطی میں اضافی فوجی، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دئیے،امریکی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے مسلسل 12 ویں روز ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں جبکہ مشرقِ وسطی میں مزید فوجی دستے، جنگی سازوسامان اور طبی عملہ بھی روانہ کر دیا گیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی فوجی اہداف کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایران اور عراق کے درمیان واقع شلامچہ سرحدی گزرگاہ کے قریب ایک علاقے کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

میڈیا نے حملے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں تاہم حملے کی نوعیت نقصان یا دیگر تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

دریں اثناء کویت نے دعوی کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرون حملوں کا بروقت جواب دیتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کے لیے کارروائی کی۔

حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے مبینہ جارحیت کے بعد کی گئیں۔کویتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہے اور دشمن ڈرونز کو روکنے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔

فوج نے واضح کیا کہ مختلف علاقوں میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملہ آور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں آئیں۔

فوجی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور اپنی حفاظت کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

کویتی حکام نے حملوں کی مزید تفصیلات، ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کیں، تاہم صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہائوس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع پر غور کر رہا ہے جس کے پیش نظر امریکا نے مشرق وسطی میں اضافی فوجی، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز خطے میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ مشرقِ وسطی کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ امریکا اور برطانیہ میں موجود فضائی اڈوں پر بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔

ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی مالی سال 2027 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت دفاعی اخراجات کے لیے ریکارڈ 1.15 ٹریلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

بل 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور ہوا۔ اگرچہ ڈیموکریٹک ارکان نے اس کے بھاری اخراجات اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ پینٹاگون کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی شق پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم بل کو ریپبلکن اکثریت کی حمایت حاصل رہی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں