میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محکمہ ورکس میں بااثر من پسند ٹھیکیداروں کی چاندی

محکمہ ورکس میں بااثر من پسند ٹھیکیداروں کی چاندی

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

177 ترقیاتی اسکیموں کے لئے صرف ایک ہزار روپے مختص، ٹھیکیداروں کا احتجاجی دھرنا

با اثر ٹھیکیدار سیکریٹری ورکس سے قریبی تعلقات پر فوائد سمیٹ رہے ہیں، کنٹریکٹرز کا الزام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محکمہ ورکس اینڈ سروسز، پبلک ہیلتھ میں بااثر من پسند ٹھیکیداروں کی چاندی ہو گئی، مخصوص اسکیموں کے لئے سو فیصد رقم مختص کرنے کا انکشاف ہوا ہے ، 177 ترقیاتی اسکیموں کے لئے صرف ایک ہزار روپے مختص، ٹھیکیداروں نے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ ورکس اینڈ سروسز سندھ میں ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم، مبینہ خفیہ ٹینڈرز اور کرپشن کے خلاف کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف سندھ نے شدید احتجاج کیا ہے، کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے مطابق 177 ترقیاتی اسکیموں کے لیے پورے مالی سال کا بجٹ صرف 1,000روپے مقرر کرنا چھوٹے اور پیشہ ور ٹھیکیداروں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے، جس سے ان منصوبوں کی تکمیل عملی طور پر ناممکن ہو جاتی ہے،

اس کے برعکس چند بااثر اور بااختیار ٹھیکیداروں کی اسکیموں پر مکمل بجٹ مختص کیا گیا ہے ، یہ طرزِ عمل وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے ۔ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے مطابق ایک الزام یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض بااثر ٹھیکیدار سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنیاد پر غیر معمولی فوائد حاصل کر رہے ہیں، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں،

ایجوکیشن ورکس اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بھی کنٹریکٹرز کے ساتھ بڑا ظلم کیا ہے . ایسوسی ایشن نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ SPPRA میں مبینہ طور پر جاری کیے جانے والے خفیہ ٹینڈرز اور ان میں ممکنہ ملی بھگت کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا سرکاری خریداری کے قوانین اور شفافیت کے تقاضوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔

ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ اور ورکس اینڈ سروسز کے بعض متعلقہ افسران کی جانب سے مبینہ طور پر پسندیدہ ٹھیکیداروں کی اسکیموں کو مکمل بجٹ دیا جاتا ہے ، جبکہ دیگر سینکڑوں اسکیموں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ اگر ان الزامات میں حقیقت پائی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔

کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف سندھ نے مطالبہ کیا ہے کہ ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کی موجودہ بجٹ تقسیم کو فوری طور پر روکا جائے ، اے ڈی پی بک میں فوری ترمیم کر کے تمام ترقیاتی اسکیموں کو مساوی اور منصفانہ بنیادوں پر بجٹ فراہم کیا جائے ۔ سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز، متعلقہ P&D افسران، SPPRA کے ذمہ دار اہلکاروں اور ان تمام افراد کے کردار کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے جن پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ہیں۔
محکمہ ورکس


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں