چین کا ڈیجیٹل دور میں عالمی انٹرنیٹ گورننس پر اپنا پوزیشن پیپر جاری
شیئر کریں
اقوام متحدہ کے عالمی سائبر سیکیورٹی کے مستقل میکانزم کا پہلا اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران چینی وفد نے عالمی سائبر سیکیورٹی میکانزم کو ”گلوبل سائبر گورننس ان دی ڈیجیٹل اینڈ انٹیلیجنٹ ایرا”سے متعلق چین کا پوزیشن پیپر پیش کیا۔
سائبر خودمختاری کے اصول پر زور دینے کے بعد چین نے اس بار ڈیجیٹل خودمختاری کے اہم اصولوں کو پیش کیا ہے۔ یہ اقدام گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو آگے بڑھانے اور سائبر اسپیس میں ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے چین کی جانب سے ایک تازہ کوشش کی نمائندگی کرتا ہے۔
پوزیشن پیپر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے تمام ممالک کو سائبر اسپیس میں اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک کو اپنی قومی صورتحال اور ترقی کی ضروریات کے مطابق مصنوعی ذہانت سمیت ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجیز کی ترقی کا راستہ خود منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور خدمات کا آزادانہ انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو فریق بننے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔


