میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات، شوکاز نوٹس کی دھجیاں

سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات، شوکاز نوٹس کی دھجیاں

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

لیاقت آباد نمبر 4 پلاٹ نمبر 1146 کی پرانی عمارت میں تعمیرات نہ رک سکیں

شہریوں کا ڈی جی سے کارروائی کا مطالبہ ،اتھارٹی کی عملداری پر سوالیہ نشان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود لیاقت آباد بلاک 4 میں مبینہ غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں، جس سے اتھارٹی کی رٹ اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ضلع وسطی دفتر کی جانب سے 16جولائی 2026کو لیاقت آباد نمبر 4پلاٹ نمبر 1146 کے مالک کو جاری کردہ شوکاز نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موقع کے معائنے کے دوران پرانی دکانوں پر قائم دو منزلہ عمارت میں بغیر اجازت ردوبدل اور تعمیراتی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں،جو سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979/82 کی خلاف ورزی ہیں۔

نوٹس میں مالک کو فوری طور پر تعمیراتی سرگرمیاں بند کرنے اور دو روز کے اندر خلاف ورزی ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جرأت سروے کے مطابق نوٹس چسپاں ہونے کے باوجود تعمیراتی کام معمول کے مطابق جاری رہااور دو روز گزرنے کے بعد تعمیراتی ٹھیکیدار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوٹس دکانوں پر سے ہٹا دیا، جبکہ سندھ بلڈنگ کی جانب سے تاحال کسی عملی کارروائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر سرکاری احکامات پر بھی عمل درآمد نہ ہو تو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض بااثر عناصر کی پشت پناہی کے باعث غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائیاں صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود رہ جاتی ہیں۔

انہوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ شوکاز نوٹس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اور ضلع وسطی میں جاری غیر قانونی تعمیرات کا مؤثر سدباب کیا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں