میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مرد و عورت ،اخلاقیات و اہلیت

مرد و عورت ،اخلاقیات و اہلیت

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مردو عورت ماقبل وقت جس جبلت سے آشنا ہوئے وہ جنس کا جذبہ تھا۔قدیم اساطیر بہ شمول قرآنی تفاسیر یہی بتاتی ہیں کہ وہ گندم یا گیہوں کا ذائقہ نہیں تھا۔تہذیب و اخلاقیات کا سفر بڑی جوکھوں کا سفر ہے ۔تہذیب و اخلاق او رپیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور ضابطوں کی باریکیاں اور فرق جب عہدے داران کی فراست کا روگ نہیں بنتا تو اداروں کا روگ بن جاتا ہے اور پھر یہ روگ معاشرے کو لگ جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں کی خرابیوں میں (گنوانا مشکل ہے)مَیں طالب ِ علموں سے زیادہ اساتذہ کو ذمہ دار و قصور وار سمجھتی ہوں کہ بااختیار وہ ہوتے ہیں،شرارتی طالب علم کو سرزنش یا سزا دینے کا اختیار بھی ان کے پاس یا اس نظا م میں ہوتاہے ،یا مشاورت و فراست سے نظم کیا جاتا ہے، کیا جاسکتاہے اور یہ سب اساتذہ و منتظمین کا کام ہے۔

میں جنسی جذبے کے اظہار کو کئی ایک نوعیت کی رسمی پابندیوں سے آزاد سمجھتے ہوئے بھی اس کے گرد اخلاقیات کا ایک دائرہ ضرور قائم کروں گی۔میرے اس جملے سے بہت سوں کو آگ لگ سکتی ہے، لیکن ان کو اس معاشرے کے دہرے معیارات سے آگ نہیں لگتی جو مجھے جھلساتی ہے۔ میں مفتی عبد القوی کے قندیل بلوچ یارقص گاہوں میں جانے کے خلاف نہیں لیکن وہ اپنے اس عمل کو کوئی اور جامہ تو نہ پہنائیں، خود کو بچانے کے لیے غیرت کے نام پر قندیل بلوچ کے بھائی کو تونہ اکسائیں، یوں یہ افعال ‘کردار’ نہیں بنتے بلکہ سماج کے ناسور بنتے ہیں۔

عہدے داروں کی دوستیاں کیوں نہیں ہو سکتیں؟ بالکل ہوسکتی ہیں، جامعات سے وابستہ اساتذہ کی دوستیا ں کیوں نہیں ہوسکتیں ؟ بالکل ہو سکتی ہیں؛ لیکن کس قیمت پر؟ اگر یہ قیمت نوکری پر رکھے جانے والے استاد کی اہلیت پر سوال اٹھائے ؟ اگر یہ قیمت تحقیق کے معیار پر سوال اٹھائے تو قطعی نہیں ،بالکل نہیں اور کبھی نہیں؛ اسی پر تادیبی کارروائی عمل میں لانی جانی چاہیے، اس لیے کہ یہ تعلیمی اداروں ،طالب علموں اور معاشرے کے مستقبل کا سوال ہے، اور اس کے زوال کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے ۔سیاسی وابستگیوں اور جنسی تعلقات کی بنیاد پرشعبوں کے زوال کے ہم خود گواہ ہیں۔

میں نے مرد و عورت کی معیار پر ذرا سی بھی آنچ آئے بغیر خوب صور ت دوستیا ں بھی دیکھی ہیں۔یہ وہاں ہوتا ہے جہاں صحیح کو صحیح ملتاہے اور سچ کو سچ ملتاہے ، برعکس صورت حال وہاں ہوتی ہے جہاں غلط کو غلط، جھوٹ کو جھوٹ اور بد عنوان جنسی بھوکوں کو مادی خواہشوں اور دنیاوی کامیابیوں کے ہر قیمت پر حصول کے بھوکے مل جاتے ہیں۔ان معاملات کے حوالے سے ذمہ دار کا تعین ہوگا تو یقینا عہدے داران کو معتوب ٹھہرایا جائے گا ،وہ مرد بھی ہوسکتا ہے اور عورت بھی ۔ابراہیم جلیس کے افسانے میں پڑھا ہوا ایک جملہ یاد آرہاہے کہ ‘عورت جسم بیچتی نہیں ہے ، عورت جسم خریدتی بھی ہے’ ۔ لیکن ہمارے ہاں ابھی تک بڑے عہدوں پر زیادہ تر مرد ہی غالب ہیں ، اس لیے یہ بیوپاران ہی کے ہاتھوں پھل پھول رہا ہے۔

آج کل جامعہ کراچی کے شیخ الجامعہ خالد عراقی خبروں میں ہیں۔اس سے قبل جب وہ شیخ الجامعہ نہیں تھے تب بھی خبروں میں رہے ہیں۔ اس اہم اور عظیم عہدے پر تعیناتی کی اہلیت جانچنا جن افراد اور اداروں کا م ہوتاہے ،وہ وزیرِ اعلیٰ ہوں یا گورنر ،ایچ ای سی کے نمائندگان ہوں یا کوئی اور کمیٹی ،باڈی ،پالیسی ؛ ہمیں تو قدم قدم پر ایچ ای سی کی پالیسی یہ ایچ ای سی کی پالیسی وہ سننا پڑتاہے ۔بہرحال کسی کوبھی کسی کے اعمال و افعال کے ذاتی و سماجی پہلوؤں سے کوئی غرض نہیں لیکن ان کے پیشہ ورانہ حیثیت میں کیے گئے فیصلے اگر ان کے ذاتی تعلقات اور پسند و نا پسند کی بنیاد پر کیے گئے ہیں تو اب ہر سوچنے والے کو اس سے غرض ہے اور ہونی چاہیے لیکن سول سوسائٹی اور جیوری بیدار معاشروں میں پائے جاتے ہیں۔مجھے اس معاشرے کی نہ خواب ِ غفلت کی نیند سمجھ میں آتی ہے ،نہ بیداری ۔یہ عجب طرح کی غنودگی ہے۔ہم پس و پیش سے کام لیتے ہیں ،کتراتے ہیں ،دامن بچانے کی کوشش کرتے ہیں،کہتے ہیں کہ ہمیں کسی جھگڑے میں نہیں پڑنا(ویسے پڑنا تو مجھے بھی نہیں ہے)لیکن اس پیس و پیش کے پیچھے کوئی تو گتھی ہے جسے سلجھانے میں دِقّت ہے اور وہ دِقّت اور گتھی یہ ہے کہ ہم معاملات کو الگ الگ نہیں رکھ پاتے ،تناظر کو سمجھنے میں ٹھوکریں کھاتے ہیں، خود کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں ،اپنے ضمیر کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ حالاں کہ وہ معاملات اس طرح سے ہوتے ہی نہیں۔

پیشہ ورانہ دیانت و بد دیانتی الگ معاملہ ہے اور دوستی الگ ۔کوئی دیانت دار ہو تو کہے کہ ہاں آپ مجھے پسند ہیں لیکن یہ نوکری آپ کے لیے نہیں یا تحقیق کا مطلب تحقیق ہی ہے ۔

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

یہاں تو صورت حال یہ ہے بقول شوق بہرائچی

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

یہ الو بالکل نہیں ہیں ، نہ مشرقی علامت کے طور پراور مغربی علامت کے طور پرتو بالکل بھی نہیں۔یہ فراست سے عاری کرسی نشیں ہیں ۔ یہ نہ دل سے محسوس کرنے کا کام لیتے ہیں نہ دماغ سے سوچنے کا۔یہ محسوس کرتے اور سوچتے بھی (بقول منٹو ) وہیں سے ہیں۔ یہ عصمت چغتائی کا دوزخی منٹو بھی نا۔۔

اس بدترین صورت ِ حال کا انتہائی مکروہ اور بد صورت چہرہ یہ کہ جو نہیں چاہتیں وہ بھی ،جو اخلاص کے ساتھ تعلق میں آتی ہیں وہ بھی اور جو چاہتی نہیں ہیں وہ بھی ۔۔یہ سب بری طرح سے ترقی کے معاملات سے لے کر نفسیاتی مسائل تک کا شکار ہوجاتی ہیں۔ وہ لڑکیاں جو مضبوط معاشی پس منظر رکھتی ہیں ،جو پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بہرہ مند ہوتی ہیں اور جو اخلاقی طور پر بھی توانا ہوتی ہیں۔۔بس وہ ہیں جو سرکشت ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں