میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 مبینہ زیادتی کے بعد ڈھائی سالہ بچی کا قتل، کپڑوں سے 3 افراد کا ڈی این اے مل گیا

 مبینہ زیادتی کے بعد ڈھائی سالہ بچی کا قتل، کپڑوں سے 3 افراد کا ڈی این اے مل گیا

جرات ڈیسک
منگل, ۲۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مقتولہ کے کپڑوں اور بوری سے متعدد افراد کا مکسچر ڈی این اے ملا،

الگ پروفائل نہ بننے کے باعث مشتبہ افراد سے میچ نہ ہو سکا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قائد آباد میں قتل ہونے والی تین سالہ بچی کلثوم کے بہیمانہ قتل کیس کی ڈی این اے رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے کپڑوں اور جس بوری میں لاش برآمد ہوئی تھی، وہاں سے متعدد افراد کا مکسچر ڈی این اے ملا ہے، تاہم نمونوں کی کم مقدار کے باعث الگ الگ ڈی این اے پروفائل تیار نہیں کی جا سکی۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کی شرٹ سے کم از کم تین افراد کا مکسچر ڈی این اے ملا، جبکہ ٹراؤزر سے دو افراد کا مکسچر ڈی این اے حاصل ہوا۔

اسی طرح جس بوری میں بچی کی لاش بند تھی، اس سے بھی مکسچر ڈی این اے کے شواہد ملے۔رپورٹ کے مطابق حاصل ہونے والے ڈی این اے نمونے اتنی مقدار میں نہیں تھے کہ ان سے علیحدہ علیحدہ پروفائلز تیار کیے جا سکیں، جس کے باعث انہیں کسی بھی مشتبہ شخص کے ڈی این اے سے حتمی طور پر میچ نہیں کیا جا سکا۔

لیبارٹری ریکارڈ کے مطابق کیس کی تفتیش کے دوران مقتولہ کی لاش، کپڑوں اور بوری سے مجموعی طور پر 25 فرانزک سیمپل حاصل کیے گئے۔ ابتدائی مرحلے میں 14 افراد کے ڈی این اے نمونے لیے گئے، جبکہ بعد ازاں مزید افراد کے نمونے بھی حاصل کیے گئے۔

یہ تمام سیمپل 24 اور 25 جون کے علاوہ 3 جولائی کو فرانزک لیبارٹری میں جمع کرائے گئے، جبکہ کیس سے متعلق ایک کیمیائی تجزیاتی رپورٹ تاحال موصول ہونا باقی ہے۔

یاد رہے کہ تین سالہ کلثوم کی تشدد زدہ لاش 23 جون کو قائد آباد سے ایک بوری میں بند حالت میں برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد اس دلخراش واقعے نے شہر بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

پولیس اس کیس میں مقتولہ کی سگی چچی کو گرفتار کر چکی ہے، جبکہ پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کا بھائی نادر بھی دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک اور دیگر شواہد کی روشنی میں کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جا سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں