میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پیپلزپارٹی کا 24 جولائی کو احتجاجی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ

پیپلزپارٹی کا 24 جولائی کو احتجاجی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ

جرات ڈیسک
پیر, ۲۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

نثار کھوڑو نے دریائے سندھ کے پانی پر مبینہ ڈاکے کیخلاف دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا

مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں کے نعرے کے تحت سندھ ہر فورم پر بھرپور آواز بلند کرے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نے دریائے سندھ کے پانی پر مبینہ ڈاکے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔

پارٹی نے "مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں” کے نعرے کے تحت 24 جولائی (جمعہ) کو سندھ بھر کے تمام اضلاع کی تحصیلوں میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ پارٹی کے تمام ضلعی، تحصیل اور مقامی عہدیداران و ذمہ داران اپنے اپنے علاقوں میں احتجاجی ریلیوں کی قیادت کریں گے اور عوام کی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں گے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارتی آبی دہشت گردی اور دریائے سندھ کے پانی پر کسی بھی قسم کے ڈاکے کے خلاف سندھ ہر فورم پر بھرپور آواز بلند کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکہ دراصل ملکی معیشت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے، کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اور کسی کو بھی سندھ کے عوام سے ان کے پانی اور زندگی کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے جلال پور کینال کے معاملے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے حتمی فیصلے سے قبل جلال پور کینال کو ٹیسٹنگ کی بنیاد پر چلانا آئین اور وفاقی نظام کے تقاضوں کے منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلال پور کینال سے متعلق سندھ کے اعتراضات پر مبنی سمری اس وقت بھی سی سی آئی میں زیر التوا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی عملی پیش رفت مناسب نہیں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ ماضی میں ایکنک کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے سندھ کے اعتراضات کی بنیاد پر جلال پور کینال کا معاملہ سی سی آئی کے فیصلے تک مؤخر کرایا تھا،

لہٰذا موجودہ صورتحال میں بھی آئینی تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے سی سی آئی کے فیصلے کا انتظار کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل جلال پور کینال کو ٹیسٹنگ کی بنیاد پر چلائے جانے کے اقدام کا فوری نوٹس لے، کیونکہ سی سی آئی کے فیصلے سے قبل اس منصوبے کو چلانا آئینی ادارے کی حیثیت اور اختیار پر سوالیہ نشان ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں