سندھ بلڈنگ، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دعوے کاغذی کارروائی نکلے
شیئر کریں
وسطی میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات سے علاقہ تباہ حال،الطاف کھوکھر ملوث
ناظم آباد نمبر 5میں پلاٹ A-2/31پر 12دکانوں اور کمرشل یونٹس کی تعمیرات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی کے ضلع وسطی میں رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقے شدید مسائل اور تباہ حالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی کے دعوے محض اعلانات اور کاغذی کاروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ عملی طور پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ بلا خوف و خطر جاری ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ڈائریکٹر وسطی الطاف کھوکھر کی مبینہ ملی بھگت سے ناظم آباد نمبر 5 میں واقع پلاٹ نمبر A-2/31پر رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریباً 12دکانیں اور دیگر کمرشل یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی تعمیر کے باعث نہ صرف رہائشی ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ، سیوریج اور دیگر شہری سہولیات پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کاروائی نہیں کی گئی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بااثر عناصر کو قانون سے بالاتر سمجھا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ پلاٹ پر جاری غیر قانونی کمرشل تعمیرات کو فوری طور پر رکوایا جائے،
ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا ازالہ ہو سکے۔
ڈائریکٹر الطاف کھوکھر سے موقف لینے کے لئے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم خبر کی اشاعت تک رابطہ ممکن نہ ہو سکا ۔موقف موصول ہونے پر شامل اشاعت کیا جائے گا۔


