ڈاکٹر آکاش قتل کیس، تفتیش میں اہم پیش رفت، واردات کا ماسٹر مائنڈ بے نقاب
شیئر کریں
گرفتار تین ملزمان کے دورانِ تفتیش واردات کی منصوبہ بندی، گینگ کے سربراہ اور لوٹی گئی رقم کی تقسیم سے متعلق اہم انکشافات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر آکاش کے قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گرفتار تین ملزمان نے دورانِ تفتیش واردات کی منصوبہ بندی، گینگ کے سربراہ اور لوٹی گئی رقم کی تقسیم سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں، جبکہ پولیس نے گینگ کے مزید ارکان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان نے بتایا کہ ڈکیت گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا ہے، جو قائد آباد کا رہائشی ہے اور واردات کے روز ایک کار میں سوار ہو کر اپنے ساتھیوں کو ہدایات دے رہا تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ کار میں اسلم عرف بابا، دیگر ملزمان اور ایک خاتون بھی موجود تھی، جبکہ اسی گاڑی کے ذریعے ڈاکٹر آکاش کی گاڑی کا تعاقب کیا گیا۔
تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ واردات کے فوراً بعد لوٹی گئی رقم آپس میں تقسیم کر لی گئی۔ ایک ملزم کے حصے میں ایک لاکھ 25 ہزار روپے آئے، جبکہ ملزم رام چند کو 70 ہزار روپے ملے۔
رام چند نے ان میں سے 30 ہزار روپے اپنے مکان مالک کو ادا کیے، جبکہ لوٹی گئی رقم اپنے بھائی کشور کے پاس گاؤں بھیجنے کے لیے ایزی پیسہ سروس استعمال کی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم رام چند نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اس کی گینگ کے سرغنہ اسلم عرف بابا سے ملاقات 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی، جہاں دونوں کے درمیان دوستی ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے ڈکیتیوں کے لیے گینگ تشکیل دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ رام چند بھی قائد آباد کا رہائشی ہے اور فرمان نامی شخص کے گھر کرائے پر رہتا ہے۔ اس نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ صرف رواں ماہ کے دوران گینگ نے بینکوں کے باہر شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے تین وارداتیں کیں۔
پولیس حکام نے کہا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مرکزی ملزم اسلم عرف بابا سمیت دیگر مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کو امید ہے کہ آئندہ چند روز میں گینگ کے باقی ارکان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔


