ڈیمولیشن معمہ، نوٹس جاری مگر کارروائی غائب
شیئر کریں
لطیف آباد یونٹ نمبر 11میں متعدد پلاٹس پر نوٹس، دھندے بازی عروج پر
ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی روانگی سے قبل ریکوری تیز ، تحقیقات کا مطالبہ
……………………..
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) کی جانب سے لطیف آباد یونٹ نمبر 11میں مختلف تعمیرات کے خلاف ڈیمولیشن نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر عملی کارروائی نہ ہونے پر شہریوں اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ تعمیرات قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب تھیں تو نوٹس جاری ہونے کے بعد انہدامی کارروائی کیوں عمل میں نہ لائی گئی، جبکہ اگر معاملات قانونی طور پر حل ہو چکے تھے تو اس کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق دانش (پلاٹ نمبر 396)، حسین، حازیق( (A-752پارٹ)، سعید (536)، فخرالدین (369)، شفقت، نعمان (29 بلاک C-2)، حنیف (B-148)، عدنان (A-312) اور کاشف (60) کے پلاٹس ڈیمولیشن نوٹس کی فہرست میں شامل تھے ،
تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد مقامات پر مؤثر کارروائی نہ ہونے سے شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے ۔ادھر شہری حلقوں میں یہ دعوے بھی زیر گردش ہیں کہ ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول اورنگزیب رضی کی ممکنہ روانگی سے قبل مبینہ طور پر ڈیمولیشن نوٹس حاصل کرنے والے بعض افراد سے ریکوریوں کا عمل تیز کر دیا گیا۔ ان دعوؤں میں انسپکٹر شہاب الدین زرداری کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے ۔
شہریوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب قائم خانی اور انسپکٹر شہاب الدین زرداری سے متعلق سامنے آنے والے تمام الزامات اور دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام ڈیمولیشن نوٹس، فیلڈ رپورٹس، کارروائی کی تفصیلات اور متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سندھ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، تمام حقائق منظرعام پر لائے جائیں،
اور اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا اختیارات کے غلط استعمال کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


