ماہ صفرالمظفر ۔۔۔۔ فضائل و احکام وحقیقت
شیئر کریں
مولاناقاری محمد سلما ن عثمانی
قرآن حکیم میں ارشادباری تعالیٰ ہے۔‘‘بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اورزمین بنائے ان میں سے چارحرمت والے ہیں یہ سیدھادین ہے توان مہینوں میں اپنی جا ن پرظلم نہ کرواور مشرکوں سے ہروقت لڑو جیسا وہ تم سے ہروقت لڑتے ہیں اورجان لوکہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(سورۃ التوبہ پارہ10آیت نمبر32)
ماہ صفر کے متعلق ایک طرف تو بہت سی توہمات اور بدشگونیاں اور دوسری طرف اس کے بارے میں خود ساختہ حل بھی تلاش کر لئے گئے ہیں، مثلاً اس ماہ میں شادی نہ کرنا،سفر نہ کرنا،کاروبار کا آغاز نہ کرنا۔اس ماہ کو مردوں پر بھاری سمجھنا اس کی تیرہ تاریخ کو منحوس سمجھنا وغیرہ وغیرہ، اس مہینے میں مختلف چیزیں پکا کر محلے میں بانٹنا کہ ہماری بلائیں ٹل جائیں یا دوسروں کی طرف چلی جائیں لیکن دین اسلام میں ان تمام باتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
بعض لوگ اس ماہِ صفر میں شادی بیاہ یا کوئی خوشی کا کام نہیں کرتے حالانکہ اس ماہِ صفر المظفر سن 7 ہجری میں حضور نبی کریمﷺ نے ام المومنین حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرمائی تھی۔قارئین کرام سوچئے! اگر ماہِ صفر میں شادی کرنا منحوس ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ کیوں شادی فرماتے؟ بلکہ ماہِ صفر ہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے اور حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو فتحِ خیبر سے نوازا(البدایہ و النہایہ)
عربی میں نحوست کیلئے لفظ طیرہ استعمال ہوتا ہے جو طیر سے نکلا ہے جس کے معنی پرندے کے ہیں۔اہل عرب چونکہ پرندے کے اڑانے سے
فال لیتے تھے اسی لئے طائر بدفالی کیلئے استعمال ہونا لگا یعنی بدشگون لینا۔دین اسلام میں کوئی دن،مہینہ، جگہ یا انسان منحوس نہیں بلکہ دراصل
وہ انسان کا اپنا طرزِ عمل،رویہ،اخلاق اور طریقہ ہوتا ہے جو اس کیلئے مختلف آزمائشوں کا سبب بن جاتا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
ترجمہ!کوئی بھلائی جو تمہیں پہنچے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کوئی برائی جو تمہیں پہنچے تو وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہے(سورۃ النساء) ایسا شخص جو بدشگون(بدفالی) لیتا رہا اس کے بارے میں حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو کسی چیز سے بدفالی پکڑ کر اپنے مقصد
سے لوٹ آیا اس نے شرک کیا(صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا) یا رسول اللہﷺ! اسکا کفارہ کیا ہو گا،ارشاد فرمایا!وہ کہے اے اللہ!تیری دی ہوئی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں اور تیری فال کے سوا کوئی فال نہیں اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں(مسند احمد)
وساوس اور توہمات سے شیطان انسان کو شرک میں مبتلا کر کے اس کے اعمال ضائع کرواتا ہے،یہ توہمات و بدشگونیاں انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات پر پختہ ایمان و توکل انسان کو جرأت،بہادری اور اعتماد دیتا ہے،اُسے جینے کا ڈھنگ
سکھاتا ہے۔ چنانچہ ان توہمات اور بدشگونیوں سے دل کو پاک وصاف رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھنا
چاہئے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا بدشگونی شرک ہے،بدشگونی شرک ہے،بدشگونی شرک ہے تین بار ارشاد فرمایا اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر (اُسے وہم ہو جاتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے
اسے دور کر دیتا ہے(سنن ابی داؤد)حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مرض کا لگ
جانا،نحوست اور اُلّو اور صفر کچھ نہیں اور جذامی سے اس طرح بچو جس طرح شیر سے بچتے ہو۔(بخاری شریف) اور سنن ابی داؤد میں حضرت
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا! کوئی بیماری متعدی نہیں،نہ اُلّو کا نکلنا کچھ ہے،نہ کسی ستارے کی کوئی
تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔ معلوم ہوا کہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اُذن کے بغیر کوئی چیز نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتی،نہ ہی کوئی
جراثیم نہ ہی کوئی وباء۔ یعنی پہلے مریض کو بیماری جہاں سے آئی ہے،یعنی اللہ کے اُذن سے،باقی لوگوں کو بھی وہی سے آئے گی۔ البتہ انسان
احتیاط کا دامن نہ چھوڑے کیونکہ تدبیر اختیار کرنے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے۔ اسباب کو اختیار کرنے ہوئے توکل و بھروسہ صرف اللہ
تعالیٰ پر ہی ہو۔اسی طرح ستاروں میں اثرات سمجھنا یا ان کو منحوس سمجھنا اسی طرح تاریخوں کو منحوس سمجھنا،زائچے نکلوانا یہ سب چیزیں وہمی
خیالی اور باطل ہے انکا حقائق سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔البتہ اچھی چیزوں کو اپنے لئے خوش بختی کی علامت سمجھنے میں کوئی حرج نہیں
جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں اور نہ بدفالی کوئی چیز ہے اور نیک
فال یعنی اچھا کلمہ مجھے پسند ہے(بخاری شریف) حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا،ترجمہ! حمد وثنا کے بعد(لوگو یاد رکھو!)بہترین کتاب
تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید)ہے اور سب سے بہترین طریقہ تمہارے لئے وہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہﷺ کا طریقہ
ہے اور بدترین کام وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے جائیں گے، ایسے سب نئے کام بدعت ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر ایک گمراہی
دوزخ میں لے جانے والی ہے(مسلم و نسائی)اور اسی طرح حضور نبی کریمﷺ نے رحلتِ طیبہ سے پہلے اپنی امت کو وصیت فرمائی۔
ترجمہ!میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک اُن پر عمل درآمد کرو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے، ایک اللہ کی کتاب قرآن مجید
ہے اور دوسری چیز میری سنت ہے(مؤطا امام مالک)
ماہ صفرالمظفرکی تاریخی حیثیت مسلمہ ہے۔غزوہ ودان (2ہجری) غزوہ بئرمعونہ (4ہجری)وفدبنی عذرہ کاقبول اسلام (9ہجری) لشکراسامہ بن زیدکی روانگی(11ہجری)فتح مدائن (16ہجری) اور دیگر اہم اسلامی اورتاریخی واقعات اورغزوات کے اس ماہ میں پیش آنے کی وجہ سے کوئی بھی اہل بصیرت اس کی تاریخی اہمیت وافادیت کا انکارنہیں کرسکتا۔
البتہ قرآن وسنت کی روسے اس مہینے کی کوئی خاص فضیلت ثابت ہے اورنہ ہی اس میں کوئی مخصوص عبادت مسنون اورمشروع ہے۔
اس مہینے کی نحوست ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا‘‘جس نے مجھے صفرکے گزرجانے کی بشارت دی میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا’’۔ اس حدیث کی اسنادی حیثیت اس درجہ کی نہیں ہے کہ اس سے استدلال کیاجاسکے، چنانچہ ملاعلی قاری نے ‘‘الموضوعات الکبری’’میں اور دیگر کبار محدثین نے اپنی تصنیفات میں اس روایت کو موضوع اورمن گھڑت قرار دیا ہے۔
فضائل اوروعیدات کے باب میں باتفاق روایات ضعیف روایات توقابل قبول ہیں،وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ ضعف شدید نہ ہو، لیکن اس کے لیے موضوع روایات کاسہارانہیں لیاجاسکتا۔ماہ صفر کے ساتھ ایک اورجھوٹے واقعے کومنسلک کرکے ایک بدعت کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ بہت سے لوگ اس مہینے کے آخری بدھ کوسیروسیاحت کے لیے تفریحی مقامات پر گھومنے پھرنے کے لیے نکل پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اس دن اپنی بیماری سے شفا یاب ہوکرچہل قدمی کے لیے اپنے حجرہ اقدس سے باہرتشریف لائے تھے۔یہ امرواقعہ نہیں، بلکہ خلاف حقیقت ہے،اس لیے کہ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کریم ﷺ اس دن بیماری سے شفا یاب نہیں ہوئے تھے، بلکہ اس دن تو آپ ﷺکے مرض الوفات کا آغازہواتھا،چنانچہ استاذ المحدثین مولانامحمد ادریس کاندھلوی نے سیرۃ المصطفے میں البدایۃ والنہایہ کے حوالہ سے نقل کیا ہے‘‘ماہ صفر کے اخیر عشرہ میں آ پ ﷺایک بار شب کو اٹھے اوراپنے غلام ابومویہبہ کوجگایااور فرمایا مجھ کو حکم ہوا ہے کہ اہل بقیع کے لیے استغفار کروں،وہاں سے واپس تشریف لائے تودفعۃً مزاج ناسازہو گیا،سر میں درد اور بخار کی شکایت پیدا ہو گئی،یہ ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ کی باری کا دن تھااور بدھ کا روز تھا’’۔لہٰذاخاص طورپر اس مہینہ کے آخری بدھ کو اہتمام کرکے سیر وسیاحت کے لیے نکلنا اوراس عمل کوسنت سمجھنا غلط ہے، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺایامِ بیض کے روزے سفر و اقامت میں نہیں چھوڑتے تھے(نسائی)حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
سرکارمدینہﷺ نے فرمایا‘‘جس نے ہرماہ تین روزے رکھے اس نے گویاپوری زندگی کے روزے رکھے۔کیونکہ اللہ عزت وجلال والے نے اپنی کتاب میں اس کی تصدیق کی ہے۔(ابن ماجہ،باب الصوم)نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔‘‘جو شخص ایامِ بیض کا روزہ رکھے گا وہ سال بھر روزہ رکھنے والا قرار پائے گا’’(بخاری شریف)اس مہینے میں چاہیے کہ ہر پیر، جمعرات، جمعہ اور13.14.15 تاریخوں میں روزہ رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ان حقائق کی روشنی میں یہ امر واضح ہوگیاکہ صفرکامہینہ نحوست سے پاک ہے،اس کو منحوس سمجھناجاہلانہ ذہن کی عکاسی کرتاہے۔ فی نفسہ کسی بھی وقت اور زمانے میں نحوست نہیں ہوتی،بلکہ اصل میں نحوست انسان کے اعمال بد میں ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے کرتوتوں کاملبہ زمانے پر ڈال کرخود کو بری الذمہ کرلیتاہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولائے کریم تواہم پرستی ،بدعات ،خرافات سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے اور سنت پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہو نے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭٭٭


