پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
شیئر کریں
حکومت نے ہفتہ وار کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پرغور شروع کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت نے ہفتہ وار کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار پرغور شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی میں ایک بار پھر بے یقینی پیدا کر دی۔
آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صرف چند روز میں امریکی خام تیل تقریبا 82ڈالر اور برطانوی برینٹ 84ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔کچھ عرصہ پہلے یہی قیمتیں 68اور 71ڈالر کے قریب تھیں۔
ماہرین کے مطابق تیل کی درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصا پاکستان، اس اضافے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور شروع کر دیا ۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پیٹرولیم کی قیمتوں کے لیے اصلاحات کمیٹی اجلاس میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین، پر غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی جن کی روشنی میں پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔


