بحریہ ٹاؤن سے ایف بی آر کو ٹیکس وصولی جاری رکھنے کی اجازت
شیئر کریں
توہین عدالت درخواست مسترد، نیب کی عارضی ضبطگی واپس لینے کے بعد عدالتی حکم غیر مؤثر قرار
دوران سماعت احتساب عدالت کراچی کا فیصلہ، ایف بی آر کی کارروائی قانون کے مطابق قرار
………………………………………………
احتساب عدالت کراچی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے نیب اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر کو قانون کے مطابق ٹیکس واجبات کی وصولی کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
دوران سماعت بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت راولپنڈی میں 527 کنال اراضی کی عارضی ضبطگی کے لیے عدالت سے اجازت حاصل کی تھی، جس کے بعد جائیداد عدالتی تحویل میں آچکی تھی، لہٰذا ایف بی آر کی جانب سے نیلامی کی کارروائی عدالتی حکم میں مداخلت اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔
ایف بی آر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات سے آگاہ ہونے پر ادارے نے کارروائی روک دی تھی اور 26 ارب 46 کروڑ روپے سے زائد کے ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے عدالت سے باقاعدہ اجازت طلب کی گئی۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر نے مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر قانون کے مطابق عارضی ضبطگی کا حکم واپس لے لیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت عارضی ضبطگی کے لیے پیشگی عدالتی اجازت ضروری ہے، تاہم ضبطگی واپس لینے کے لیے دوبارہ عدالت سے اجازت لینا لازمی نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ضبط شدہ جائیداد تفتیشی افسر کی تحویل میں رہتی ہے، اسے عدالتی تحویل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایف بی آر نے عدالتی احکامات سے آگاہ ہونے پر کارروائی روک کر عدالت سے رجوع کیا، اس لیے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی۔


