ایران ،امریکہ دوبارہ آمنے سامنے
شیئر کریں
آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی فوج کی جانب سے ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کرنے کے بعد ایران کے علاقے سریک اور بندعباس کو دوبارہ نشانہ بنائے جانے اور اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعدخطے میں ایک دفعہ پھر کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ان واقعات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طورپر ایران سے جنگ کے خاتمے کے لیے کی گئی مفاہمتی یادداشت ختم ہو نے کااعلان کردیا ہے۔
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے انھوں نے ایرانی رہنماؤں پر رکیک حملے کئے اور یہاں تک کہا کہ ذہنی بیمار لوگ ایران کی قیادت کر رہے ہیں۔ میں ان سے مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔ امریکی صدر نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی قیادت پر کیچڑ اچھالنے کے باوجود یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق ‘بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں تجارتی عملے کو نشانہ بنانے کی ایران کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ مستقل معاہدے پر مذاکرات کے لیے 60 دن کا وقت فراہم کیا جا سکے۔
اے ایف پی کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں جب سیزفائر کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘جہاں تک میرا تعلق ہے تو وہ ختم ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان سے بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کے بحری جہازوں پر حملے کیے تھے جس کے جواب میں امریکی فوج نے کارروائی کر کے ایران کی فوجی طاقت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شاید اپنے بہترین مذاکرات کاروں کو ایران سے بات چیت جاری رکھنے کی اجازت دے دوں تاہم محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ‘دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا۔ ہم گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔، ایران کے ا سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی حملے کو گذشتہ ماہ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران فیصلہ کن اقدامات اٹھائے گا۔۔اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے ہی اتحادی نیٹو ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ٹرمپ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نیٹو کی ہرممکن مدد کر رہا ہے اور سب سے زیادہ فنڈز بھی امریکہ ہی دیتا ہے، لیکن نیٹو کی جانب سے ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کی گئی۔ برطانیہ نے اپنے تمام فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور اٹلی نے تو اڈوں کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ دینے میں بہت ہی برا رویہ اپنایا۔اپنے روایتی انداز میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو امریکہ کا ایک مشکل ترین پارٹنر ہے اور ہم نے نیٹو کو روس سے بچانے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر خرچ کیے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بتایاکہ انہوں نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کی گئی۔روئٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے بحرین میں بندر سلمان، امریکی بحریہ کے ففتھ نیول ڈسٹرکٹ اور کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر واقع اہم امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملے کییاور اس کارروائی میں مداخلت کی کوشش کرنے والے ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ایران کی وزارت نے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ایران معاہدے کی امریکی خلاف ورزی کے نتائج کے بارے میں سنجیدہ انتباہ جاری کر رہا ہے اور اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔یہ حملے اس پیش رفت کے کچھ ہی دیر بعد کیے گئے جب واشنگٹن نے
ایرانی تیل سے متعلق پابندیوں میں دی گئی عارضی چھوٹ ختم کر دی، جس سے تنازعے کے حتمی تصفیے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کرنے والے تہران پر دباؤ مزید بڑھ گیا ۔ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایاکہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات امریکہ کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ قبول تھے ۔تاہم عہدیدار نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار اب بھی ‘نیک نیتی کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر ان حملوں نے، جن سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کی نسبتاً خاموشی ختم ہوگئی، بحری آمدورفت کی آزادی کے بارے میں خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ اس سے قبل امریکہ کے ساتھ نازک جنگ بندی کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔حالیہ کشیدگی سے تیل کی قیمتوں میں2فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا کیونکہ نئے حملوں سے عالمی توانائی کی رسد کے بارے میں خدشات دوبارہ بڑھ گئے اور امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے۔گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی تھی، تاہم ایران کا اصرار ہے کہ جنگ سے پہلے کے انتظامات کی طرف واپسی نہیں ہوگی، جن کے تحت جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزر سکتے تھے۔امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور عمان، جو آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کے تعین کے لیے مذاکرات کریں گے۔قطر نے اس سے قبل ایران کی بمباری کے دوران ثالثی سے انکار کر دیا تھا،تاہم اس کے بعد دوحہ نے زیادہ فعال کردار اختیار کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی۔آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ متعدد تیل اور گیس بردار ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے، ہزاروں سمندری کارکن خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ ماہرین نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خامیوں کو موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این ’ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قری3 بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کے بعد تیل اور گیس بردار کم از کم 4 ٹینکروں نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا۔‘رائٹرز’ نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنیوں کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ الغریہ، دحیل اور الرویس نامی 3 ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہے تھے، تاہم انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تینوں ٹینکر قطر انرجی کے زیر انتظام تھے اور خالی حالت میں قطر کی راس لفان برآمدی تنصیب جا رہے تھے، جہاں انہیں مائع قدرتی گیس کی کھیپ لادنی تھی۔ ادھر بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر لیلا وڈینار، جو کویت سے تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہا تھا، آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل سے واپس مڑ گیا۔اس سے ایک روز قبل قطر نے آبنائے ہرمز کے قریب قطری ایل این جی
ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کے نائب سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ قطر نے اس حملے کو بین الاقوامی بحری جہاز رانی، عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران سے ایسے اقدامات فوری طور پر
روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود بعض آئل ٹینکر بدستور اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
مرکری ہوپ نامی ایک بڑے خام تیل بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات کے 20 لاکھ بیرل خام تیل کے ساتھ بدھ کو آبنائے ہرمز عبور کر
لی، جب کہ جاپانی آئل ٹینکر ٹینجن بھیگزشتہ شب اس راستے سے گزر گیا۔ اسی طرح انڈونیشیا کا سپر ٹینکر پرتامینا پرائیڈ بھی2 ملین بیرل خام تیل
لے کر آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا، تاہم اس دوران اس کا ٹرانسپونڈر بند تھا۔دوسری جانب بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی
تجزیاتی کمپنی کپلر کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں جزوی بہتری دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کے 36 کے مقابلے میں 41 بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرے۔تاہم عمان کے قریب ٹینکروں سے متعلق2 نئے واقعات اور ایران سے وابستہ تجارت پر امریکی پابندیوں کے مزید سخت ہونے کے بعد بحری سلامتی، پابندیوں کی پاسداری اور بحری راستوں کے خطرات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ کپلر کے مطابق اب توجہ صرف بحری ٹریفک کی بحالی پر نہیں بلکہ سیکورٹی، قانونی تقاضوں اور بحری راستوں کے خطرات کے مؤثر انتظام پر بھی مرکوز ہو گئی ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، بحری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6 ہزار سمندری کارکن اب بھی خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ان کے مطابق حالیہ حملوں نے پہلے سے موجود خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور نفسیاتی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز محفوظ طریقے سے خلیج فارس سے باہر نہیں نکل پا رہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بحران نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی کمزوریاں بھی نمایاں کر دی ہیں۔واشنگٹن میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر ٹریٹا پارسی کے مطابق بنیادی اختلاف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے طریقہ کار پر ہے۔ ایران کا مؤقف
ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم عبوری مدت کے دوران تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت ایران کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے ہونی چاہیے، جب کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ جہاز ایرانی یا عمانی بحری راستوں سے بغیر ایرانی اجازت کے بھی گزر سکتے ہیں۔
ٹریٹا پارسی کے مطابق ایران کو خدشہ ہے کہ امریکہ اس مفاہمت کو آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس
سے مستقبل میں ایران اپنی اہم تزویراتی برتری کھو سکتا ہے۔ادھر کنگز کالج لندن کے ماہر بین الاقوامی امور آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ موجودہ مفاہمتی انتظام میں دونوں ممالک کی قابل قبول کارروائیوں کی حدود واضح نہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال زیادہ عرصے تک برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔موجودہ کشیدہ صورت حال دنیا کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس صورت حال کے جاری رہنے سے امریکی مفادات کو خاص طورپر دھچکا لگنے کے خدشات کو رد نہیں کیاجاسکتا کیونکہ ایران نے ثابت کیاہے کہ وہ کسی طورکمزوری نہیں دکھائے گا جبکہ یہ صورت حال جاری رہنے کی صورت میں امریکہ کی عالمی ساکھ مزید خراب ہوسکتی ہے جس سے امریکہ کی اسلحہ سا ز صنعتیں جن کا ملک کی جی ڈی پی میں بڑا حصہ ہے بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اس لئے دانشمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ ٹرمپ اپنی روایتی اکڑ اور ضد چھوڑ کر ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کیلئے اپنے رویئے میں نرمی پیدا کریں اور جیو اور جینے دو کے آفاقی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پوری دنیا کو امن وسکون کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع دیں۔
٭٭٭


