میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاک کروشیا تعلقات پر نظر

پاک کروشیا تعلقات پر نظر

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۲ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

کروشیارقبے اورآبادی کے حوالہ سے کوئی بہت بڑا ملک نہیں ،لیکن جنوب مشرقی اور وسطی یورپ کا یہ ملک پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔ اِس ملک میں پاکستان اور پاکستانی محنت کشوں کی بہت عزت ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے بطور ثالث جو عزت اور نیک نامی حاصل کی ہے اُس کا عالمی سطح پر بہت چرچا ہے اور دنیا سمجھنے لگی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور عالمی امن کے لیے اُس کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔پاکستان کایہ مثبت تاثر دنیاکو متوجہ کرنے کاباعث ہے ۔ اِن حالات میں رواں ماہ 9؍جولائی کو کروشین وزیرِ خارجہ ویورپی امور گورڈن گرلیچ راڈان کا ایک روزہ سرکاری دورہ پاکستان اہمیت کے لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ انھوں نے اپنے دورہ کے دوران تعلقات وتجارت بڑھانے کے لیے گراں قدرگرمجوشی دکھائی۔ یہ دورہ تجارتی اور معاشی حوالے سے ددررس نتائج کاحامل ہو سکتا ہے کیونکہ اِس دورے سے نہ صرف پاک کروشین تعلقات اعلیٰ سطحی سے لیکر عوامی اور کاروباری شعبوں تک وسیع ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے بلکہ یورپی یونین میں پاکستان کو ایک اور اچھااورباعتماد دوست ملنے کا امکان پیداہوگیا ہے ۔
کروشیا کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جن سے تجارتی توازن مکمل طورپر پاکستان کے حق میں ہے۔ اگر صرف گزشتہ برس کے تجارتی حجم کا جائزہ لیں تو پاکستان کے لیے بہت منافع بخش دکھائی دیتاہے ۔گزرے برس پاکستان نے 29.9 ملین ڈالر کی اشیاکروشیا کو برآمدکیں جن میں ٹیکسٹائل مصنوعات ،چمڑے کاسامان ،تیارملبوسات ،طبی اور کھیلوں کا سامان سرِ فہرست رہا، جب کہ کروشیا سے6.35 ملین ڈالر کا ایلومینیم،مشینری اور دیگر صنعتی سامان درآمدکیا۔اِس طرح پاکستان نے 23.6ملین ڈالر کامنافع کمایا۔اب جبکہ دونوں ممالک نے بزنس ٹو بزنس اور نجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے تو امید ہے کہ کروشیا نہ صرف پاکستانی سامان کی مزید منافع بخش منڈی بنے گا بلکہ پاک کروشیا بہتر تعلقات یورپی یونین سے خیر سگالی بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوں گے جو اِس وقت بھارت سے آزادانہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے اُس کے حق میں ہیں۔گورڈن گرلیچ راڈان کروشیا کے پہلے وزیرِ خارجہ ہیں جنھوں نے پاکستان کاسرکاری دورہ کیا ہے۔ اِس دورے میں انھوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جو مستقبل میں بہتر تعلقات کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔اِ س دورے میں دونوں ممالک نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں ۔

اول: سفارتی پاسپورٹ کو ویزہ اسے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ سفارتی تربیتی اِداروں کے درمیان مفاہمت کوبھی حتمی شکل دینے پر اصولی اتفاق ہوچکاہے۔ اِس حوالے سے مفاہمتی ایم او یوتیاری کے حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد ہی دستخط کا امکان ہے دوم: تجارت ،سرمایہ کاری سیاحت،بندرگاہی روابط اور دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے نتیجہ خیزاقدامات پر دونوں ملک متفق ہوئے ہیں مزید یہ کہ کروشیا نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پاکستان اُسے ہُنر مند افرادی قوت فراہم کرے اب یہ اربابِ اختیار کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے دوست ملک کی خواہش کااحترام کرے اور بھرپور فائدہ اُٹھائے تاکہ برآمدات کی طرح ترسیلاتِ زرمیں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو ۔

کروشیا کی کُل آبادی محض 39لاکھ 20ہزار ہے کُل آبادی کا بیس فیصد دارالحکومت زغرب میں رہائش پزیر ہے جس کی آبادی چھ لاکھ سے تجاوزکرچکی ہے ۔تعلیم اور صحت کی بہترین سہولتوں کے باوجود اِس ملک کوشرح پیدائش میں مسلسل کمی کاسامنا ہے جس کی وجہ سے کروشیا صنعتی پہیے کو رواں رکھنے کے لیے غیرملکی ہُنرمندوں کے لیے ویزہ کا حصول آسان بنارہا ہے ۔خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس افرادی قوت کا خزانہ ہے اگر پاکستانی قیادت توجہ دے تو کروشیا کی افرادی قوت کے حوالے سے ضروریات باآسانی پوری کی جا سکتی ہیں ایسا ہی موقع صدر ایوب خان کے دور میں جرمنی کی طرف سے پاکستان کودیا گیا لیکن پاکستان نے بارہ کروڑ قرض دیکرا فرادی قوت فراہم کرنے سے معذرت کرلی جبکہ ترکیہ نے جرمنی کی ایسی پیشکش سے فائدہ اُٹھایا اور آج جرمنی میں ترک نژاد ایک بڑی سیاسی اور کاروباری قوت ہیں، جس کے ترکیہ کو معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں ۔ضرورت اِ س امر کی ہے کہ پاکستانی قیادت دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھائے اور حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دورکرتے ہوئے بیرونِ ملک جانے والوں کو سہولتیں دے۔

دوعشروں کی خونریز لڑائی کے بعد کروشیا نے جب 25جون1991کو یوگوسلاویہ سے الگ ملک بننے کا اعلان کیا تو ابتدامیں اُسے خاطر خواہ عالمی حوصلہ افزائی نہ ملی۔ اِس لیے علیحدگی کے اعلان پر 8؍اکتوبر1991کو عملدرآمد ہوا۔یہی وجہ ہے کہ کروشیا اپنایومِ آزادی آٹھ اکتوبر کو مناتا ہے پاکستان نے کروشیاکو اٹھارہ اکتوبر1992کوآزاد اور خود مختار ملک تسلیم کیا اور اسی برس ہی دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات بھی قائم ہوگئے ۔کروشیا نے یکم جولائی 2013میں یورپی یونین کی رُکنیت حاصل کرلی جس پر دارالحکومت زغرب سمیت پورے ملک میں جشن منایا گیاکروشین لوگ ہنوز جنگ کی خونریزی کو بھول نہیں سکے۔ اِس لیے قیادت سمیت عام شہری بھی قومی سلامتی کے حوالے سے بہت حسا س ہے۔ وہ ملکی دفاع مضبوط تربنانے کے خواہشمندہیں یہاں بھی پاکستان کے لیے اچھا موقع ہے کہ دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ ایسا کرنے سے کروشیا کو سستا اور معیاری دفاعی سامان ملے گا اور پاکستان کو اپنی معیشت بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔

کروشیا نہ تو بہت ہی زیادہ امیر ملک ہے اور نہ اِس کا شمار غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے لیکن اگر فی کس آمدن اور مستحکم معیشت کے تناظر میں دیکھیں تو اِس کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے ایک ہزار سے زائر جزائر کی ملکیت کا حامل یہ ملک ہر سال سیاحت سے بھاری رقوم حاصل کرتاہے ۔پاکستان کے پاس چاروں موسم ہیں۔ طویل ترین ساحلی پٹی اِسے مزید جاذبِ نظر بناتی ہے۔ پاکستان بھی ذرائع آمد ورفت بہتر بناکراور سیاحوں کو سہولتیں دیکر عالمی سیاحت میں اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اِس حوالے سے کروشین طریقہ کارسے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اب یہ پاکستانی قیادت کی فہم و فراست کا امتحان ہے کہ وہ دستیاب مواقع سے کتنااور کیسے فائدہ اٹھاتی ہے؟ بہتر عالمی ساکھ سے فائدہ اُٹھاکر معاشی استحکام کی منزل حاصل کرنا زیادہ مشکل یاناممکن نہیں اگر محنت،لگن اور دیانتداری سے کام کیا جائے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں