ہماری کہانی کبھی نہیں بدلی!
شیئر کریں
انسان کی زندگی شاید اتنی سادہ نہیں جتنی وہ خود سمجھتا ہے۔ ہم خود کو اپنے فیصلوں کا مالک، اپنے خیالات کا خالق اور اپنی قسمت کا معمار
تصور کرتے ہیں، مگر کارل جنگ کے نزدیک حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پراسرار ہے۔ انسان کے وجود میں ایک ایسی خاموش دنیا آباد ہوتی ہے جو اس کی آنکھوں سے اوجھل مگر اس کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ لاشعور کی دنیا ہے؛ ایک ایسی دنیا جہاں دبی ہوئی خواہشات، بھولے ہوئے زخم، بچپن کے تجربات، نامکمل خوف اور ان گنت جذبات دفن ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں بظاہر خاموش رہتی ہیں، لیکن خاموشی کا مطلب بے اثری نہیں ہوتا۔ اکثر زندگی کی سب سے طاقتور قوتیں وہی ہوتی ہیں جو نظر نہیں آتیں۔
کارل جنگ کا خیال تھا کہ ہماری زندگی کا زیادہ تر حصہ ان قوتوں کے زیر کنٹرول ہے جنہیں ہم اپنے اندر پوری طرح سے نہیں سمجھتے۔ پوشیدہ خوف، حل نہ ہونے والے زخم، دبی ہوئی خواہشات، بچپن کے تجربات اور لاشعوری نمونے خاموشی سے ہمارے فیصلوں کو ہر روز متاثر کرتے ہیں۔ ہم تصور کرتے ہیں کہ ہم آزادانہ اور عقلی طور پر کام کر رہے ہیں، لیکن اکثر ہم ان اسکرپٹس کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے شعور میں آنے سے بہت پہلے لکھے جا چکے ہوتے ہیں۔انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ خود کو جانتا ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے، دنیا کے بارے میں نظریات بنا لیتا ہے، خدا، سیاست، تاریخ اور معاشرے پر گفتگو کر لیتا ہے، مگر اپنے ہی اندر موجود تاریکیوں سے ناواقف رہتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے واقعات کو تقدیر کا نام دیتا ہے، حالانکہ اکثر ان واقعات کی جڑیں اس کے اپنے لاشعور میں پیوست ہوتی ہیں۔ وہ بار بار ایک جیسے رشتوں میں داخل ہوتا ہے، ایک جیسی غلطیاں دہراتا ہے، ایک ہی قسم کے دکھوں کا شکار ہوتا ہے، مگر اسے محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی بیرونی جبر کا نہیں بلکہ اپنے اندر چھپے ہوئے نمونوں کا قیدی ہے۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنگ نے کہا تھا:”جب تک آپ لاشعور کو ہوش میں نہیں لاتے، یہ آپ کی زندگی کو ہدایت دے گا اور آپ اسے قسمت کہیں گے۔”
یہ محض ایک نفسیاتی جملہ نہیں بلکہ انسانی وجود کے بارے میں ایک گہرا فلسفیانہ انکشاف ہے۔ جنگ گویا یہ کہہ رہا ہے کہ انسان اکثر تقدیر سے نہیں ہارتا بلکہ اپنے غیر دریافت شدہ نفس سے ہارتا ہے۔ جن خوفوں کو وہ قسمت سمجھتا ہے، وہ اس کے اندر کے زخم ہوتے ہیں۔ جن ناکامیوں کو وہ بدقسمتی کہتا ہے، وہ اس کے لاشعور کے دہرائے ہوئے نمونے ہوتے ہیں۔ اور جن رکاوٹوں کو وہ دنیا کی سازش قرار دیتا ہے، ان میں سے بہت سی اس کے اپنے وجود کے اندھیروں سے جنم لیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خود شناسی ہمیشہ ایک تکلیف دہ عمل رہی ہے۔ دوسروں کو جاننا آسان ہے، اپنے آپ کو جاننا مشکل۔ دنیا کو بدلنے کا خواب دیکھنا آسان ہے، اپنے اندر جھانکنا مشکل۔ انسان سمندروں کو عبور کر سکتا ہے، پہاڑ سر کر سکتا ہے، چاند تک پہنچ سکتا ہے، مگر اپنے وجود کی گہرائیوں میں اترنے سے خوفزدہ رہتا ہے۔ کیونکہ وہاں اسے وہ چہرے نظر آتے ہیں جنہیں اس نے برسوں سے نظرانداز کر رکھا ہوتا ہے۔ وہاں اسے اپنی کمزوریاں، اپنی خود غرضیاں، اپنے خوف، اپنی محرومیاں اور اپنے وہ زخم ملتے ہیں جنہیں وہ وقت کے پردے میں چھپا دینا چاہتا تھا۔مگر حقیقی آزادی کا آغاز بھی یہی سے ہوتا ہے۔ جنگ کے مطابق آزادی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے سایوں کو پہچان لیتا ہے۔ جب وہ اپنے خوفوں سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرتا ہے۔ جب وہ اپنی ناکامیوں کا الزام دنیا پر ڈالنے کے بجائے اپنے وجود کے ان حصوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے بار بار ایک ہی راستے پر لے جاتے ہیں۔ اس لمحے تقدیر کا تصور بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جو کبھی ناگزیر محسوس ہوتا تھا وہ ایک انتخاب بن جاتا ہے، جو کبھی بدقسمتی لگتی تھی وہ ایک نفسیاتی نمونہ بن کر سامنے آتی ہے، اور جو کبھی ایک پراسرار حادثہ دکھائی دیتا تھا وہ سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ شاید انسان کی سب سے بڑی دریافت امریکہ، یورپ، چاند یا مریخ نہیں، بلکہ خود اس کا اپنا باطن ہے۔ کیونکہ دنیا کے تمام راز جان لینے کے باوجود اگر انسان اپنے آپ سے ناواقف رہے تو وہ ایک اجنبی ہی رہتا ہے۔ کارل جنگ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سب سے بڑا اسرار ہمارے اردگرد کی دنیا نہیں بلکہ ہمارے اندر کی غیب دنیا ہے۔
جب تک ہم اس دنیا کو دریافت کرنے کی ہمت نہیں کرتے، ہم اپنی زندگی کو قسمت کا نام دیتے رہیں گے، حالانکہ حقیقت میں ہماری تقدیر کا ایک بڑا حصہ ہمارے اپنے لاشعور کے ہاتھوں تحریر ہو رہا ہوتا ہے۔ اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی المیہ اور سب سے بڑی امید بھی ہے کہ وہ اپنے اندر اتر کر خود کو دوبارہ تخلیق کر سکتا ہے۔
کارل جنگ کا یہ خیال کہ ”جب تک آپ لاشعور کو ہوش میں نہیں لاتے، یہ آپ کی زندگی کو ہدایت دے گا اور آپ اسے قسمت کہیں گے”۔ صرف ایک فرد کی نفسیات کی تشریح نہیں کرتا، بلکہ پوری قوموں، تہذیبوں اور معاشروں کی نفسیات کو سمجھنے کی ایک کنجی بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر اس نظریے کو پاکستان کی تاریخ، پاکستانی سماج اور پاکستانی انسان پر منطبق کیا جائے تو ایک نہایت تلخ اور بے آرام کن حقیقت سامنے آتی ہے: شاید پاکستان بھی اپنے اجتماعی لاشعور کا قیدی ہے۔ہر انسان کی طرح ہر قوم کا بھی ایک لاشعور ہوتا ہے۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جن کا سامنا کرنے سے وہ گھبراتی ہے، کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں وہ دفن کر دیتی ہے، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وہ بھرنے کے بجائے چھپاتی رہتی ہے۔ مگر دفن شدہ چیزیں ختم نہیں ہوتیں؛ وہ واپس لوٹتی ہیں، نئے چہروں اور نئے حادثوں کی صورت میں۔
پاکستان کی تاریخ کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی زندگی میں بہت سے سوالوں کو کبھی پوری دیانت داری سے پوچھا ہی نہیں۔ ہم نے اپنے زخموں کو سمجھنے کے بجائے ان پر نعرے چسپاں کر دیے، اپنے تضادات کو حل کرنے کے بجائے انہیں حب الوطنی، مذہب یا قومی مفاد کے پردوں میں چھپا دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ جو مسائل ماضی میں پیدا ہوئے تھے، وہ مختلف ناموں کے ساتھ بار بار لوٹتے رہے۔ سیاسی عدم استحکام، طاقت کی مرکزیت، جمہوری کمزوری، طبقاتی تقسیم، تعلیمی پسماندگی، مذہبی انتہاپسندی، صوبائی محرومیاں اور ادارہ جاتی کشمکش۔۔یہ سب محض حادثات نہیں لگتے بلکہ ایک ایسے اجتماعی نفسیاتی نمونے کا حصہ محسوس ہوتے ہیں جو دہائیوں سے خود کو دہرا رہا ہے۔ پاکستانی انسان کا سب سے بڑا المیہ شاید غربت نہیں، بلکہ خود فریبی ہے۔ اسے بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اس کی تمام ناکامیوں کی ذمہ داری ہمیشہ کسی اور پر ہے۔ کبھی بیرونی طاقتیں، کبھی سیاست دان، کبھی حکمران، کبھی دشمن، کبھی تاریخ۔ یقینا ان عوامل کا کردار موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے اندر جھانک کر یہ پوچھا کہ ہماری اپنی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں قانون توڑنے والا خود کو چالاک سمجھتا ہو، رشوت دینے والا خود کو مجبور اور رشوت لینے والا خود کو حق دار، وہاں مسئلہ صرف حکمران نہیں ہوتے؛ مسئلہ ایک اجتماعی نفسیات بھی ہوتی ہے۔پاکستانی سماج ایک عجیب تضاد میں زندہ ہے۔ ہم انصاف کی بات کرتے ہیں مگر اپنے مفاد کے وقت انصاف بھول جاتے ہیں۔ ہم دیانت داری کا درس دیتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں بددیانتی کو معمول سمجھتے ہیں۔ ہم مساوات کے نعرے لگاتے ہیں مگر ذات، خاندان، زبان، برادری اور طبقے کی دیواروں کو مضبوط کرتے رہتے ہیں۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن اپنی سوچ بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ گویا ہم ایک ایسی قوم بن گئے ہیں جو نتائج بدلنا چاہتی ہے مگر اسباب کو چھیڑنا نہیں چاہتی۔
کارل جنگ شاید کہتا کہ پاکستان کی سب سے بڑی لڑائی بیرونی دشمنوں سے نہیں بلکہ اپنے ”سائے” سے ہے۔ نفسیات میں سایہ (Shadow) شخصیت کے ان حصوں کو کہا جاتا ہے جنہیں انسان تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔ قوموں کے بھی سائے ہوتے ہیں۔ پاکستان کا سایہ شاید وہ تمام سچائیاں ہیں جن کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے: طاقت کے سامنے ہماری خاموشی، شخصیت پرستی کی ہماری عادت، تنقیدی سوچ سے ہمارا خوف، اور ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی ہماری خواہش۔یہی وجہ ہے کہ ہماری تاریخ میں چہرے بدلتے رہے مگر کہانیاں نہیں بدلیں۔ نعرے بدلتے رہے مگر مسائل وہی رہے۔ حکمران آتے اور جاتے رہے مگر عام انسان کی محرومی، بے یقینی اور بے بسی اپنی جگہ قائم رہی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک قوم بار بار ایک ہی خواب دیکھ رہی ہو اور ہر بار اسے نئی حقیقت سمجھ رہی ہو۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سماج کو شاید سب سے زیادہ نقصان دشمنوں نے نہیں بلکہ ان جھوٹوں نے پہنچایا ہے جو اس نے اپنے بارے میں خود گھڑے۔ کوئی قوم صرف اس وجہ سے عظیم نہیں بن جاتی کہ وہ خود کو عظیم کہتی رہے۔ کوئی معاشرہ صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتا۔ اور کوئی تاریخ صرف فخر کے ابواب سے نہیں بنتی؛ اس میں اعتراف کے ابواب بھی شامل ہوتے ہیں۔جب تک پاکستان اپنے اجتماعی لاشعور کا سامنا نہیں کرتا، اپنے تاریخی زخموں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتا اور اپنے تضادات کو تسلیم نہیں کرتا، تب تک وہ انہی دائروں میں گھومتا رہے گا جنہیں وہ قسمت، سازش یا بدقسمتی کا نام دیتا ہے۔ کیونکہ قوموں کی زندگی میں بھی وہی اصول کارفرما ہوتا ہے جو جنگ نے فرد کے لیے بیان کیا تھا:”جب تک آپ لاشعور کو ہوش میں نہیں لاتے، یہ آپ کی زندگی کو ہدایت دے گا اور آپ اسے قسمت کہیں گے”۔
شاید پاکستان کی اصل تقدیر ابھی لکھی نہیں گئی۔ شاید وہ آج بھی اپنے ماضی کے غیر حل شدہ سوالات، اپنے اجتماعی خوفوں اور اپنے لاشعوری رویّوں کے ہاتھوں لکھی جا رہی ہے۔ اور شاید نجات کا راستہ کسی نئے نعرے، کسی نئے مسیحا یا کسی نئے خواب میں نہیں، بلکہ اس دیانت دار لمحے میں پوشیدہ ہے جب ایک قوم آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر پہلی بار اپنے چہرے کو بغیر کسی پردے، بغیر کسی بہانے اور بغیر کسی خود فریبی کے دیکھنے کی ہمت کرے۔ تب ہی تقدیر بدلتی ہے؛ ورنہ تاریخ صرف خود کو دہراتی رہتی ہے۔
٭٭٭


