میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
صرف ایک چراغ

صرف ایک چراغ

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہرصبح جب ہم اخبار کھولتے ہیں یا موبائل کی اسکرین پر نظریں دوڑاتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا سے اچھائی کا چراغ بجھنے لگا ہو۔

کہیں ظلم کی خبر ہے، کہیں دھوکے کی داستان، کہیں طاقتورکمزور کو روند رہا ہے اور کہیں مفاد، انسانیت پرغالب آ چکا ہے۔

ایسے میں دل بے اختیار سوال کرتا ہے کہ کیا واقعی اس دنیا میں اچھے لوگ ختم ہو گئے ہیں؟ میرا جواب ہے ، نہیں۔‘‘ ایک اچھا انسان ابھی زندہ ہے ’’۔  وہ شاید خبروں کی زینت نہیں بنتا، اس لیے ہمیں نظر نہیں آتا۔ وہ کسی ٹیلی ویژن کی بریکنگ نیوز میں نہیں آتا، اس کے نام پر سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ نہیں چلتے، اس کی تصویر کسی اشتہار میں نہیں لگتی۔ وہ خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتا ہے ، کسی کے آنسو پونچھتا ہے ، کسی اجنبی کی مدد کرتا ہے ، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ، کسی بیمار کے لیے دوا خرید دیتا ہے اور پھر کسی صلے یا تعریف کی خواہش کے بغیر اپنے راستے پرچل پڑتا ہے ۔

دنیا کی خوبصورتی ہمیشہ شور مچانے والوں نے نہیں بچائی، بلکہ خاموشی سے نیکی کرنے والوں نے بچائی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے صرف بڑے حکمرانوں، دولت مندوں یا طاقتور لوگوں کے سہارے قائم نہیں رہے ، بلکہ اُن گمنام انسانوں کے دم سے زندہ رہے جنہوں نے اپنی ذات سے پہلے دوسروں کے دکھ کو اہمیت دی۔آج بھی اگر غور سے اپنے اردگرد دیکھا جائے تو ایسے لوگ موجود ہیں۔ وہ شاید تعداد میں کم ہوں، لیکن انہی کی وجہ سے انسانیت کا رشتہ ابھی تک قائم ہے ۔ جب کوئی ایمانداری سے اپنا فرض نبھاتا ہے ، جب کوئی راستے میں گرے ہوئے اجنبی کو اٹھاتا ہے ، جب کوئی اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دیتا ہے ، تو وہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اندھیروں کے باوجود روشنی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ اچھا انسان کبھی اپنی نیکی کا اعلان نہیں کرتا۔ وہ اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے ، اپنے الفاظ سے نہیں۔ وہ لوگوں کو بدلنے کے دعوے نہیں کرتا بلکہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ شاید اسی لیے وہ شور مچانے والوں کی بھیڑ میں اکثر گم ہو جاتا ہے ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اصل سرمایہ وہی لوگ تھے جنہوں نے خاموشی سے انسانیت کی خدمت کی۔سوچیے ، اگر ایک استاد پوری دیانت داری سے صرف ایک بچے کی زندگی سنوار دے ، اگر ایک ڈاکٹر ہر روز ایک مریض کا علاج صرف انسانیت کی خاطر کر دے ، اگر ایک پولیس اہلکار ایک بے گناہ کو ظلم سے بچا لے ، اگر ایک دکاندار ناپ تول میں ایمانداری اختیار کر لے ، اگر ایک سرکاری ملازم رشوت لینے سے انکار کر دے ، اگر ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کے دکھ میں شریک ہو جائے ، تو یہ سب معمولی واقعات نہیں رہتے ۔ یہی چھوٹے چھوٹے کردار مل کر ایک بڑے معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ہم اکثر دنیا کو بدلنے کی بات کرتے ہیں، لیکن دنیا ہمیشہ ایک انسان سے بدلنا شروع ہوتی ہے۔ ہر بڑے انقلاب کی جڑ میں کسی ایک شخص کا سچا کردار، مضبوط ایمان اورنیک نیتی ہوتی ہے ۔

ایک چراغ پورے آسمان کو روشن نہیں کر سکتا، مگر وہ اپنے اردگرد کے اندھیرے کو ضرور شکست دیتا ہے ، اور پھر اسی چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں برائی کی ایک خبر سیکڑوں بار دہرائی جاتی ہے ، جبکہ اچھائی کے ہزاروں واقعات خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ہر طرف صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے ہسپتالوں، اسکولوں، عدالتوں، بازاروں، کھیتوں، فیکٹریوں اور گلی محلوں میں آج بھی بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے ضمیر کا سودا کیے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ شاید انہی کی وجہ سے اس معاشرے کی سانس ابھی تک قائم ہے ۔اس لیے امید کا چراغ بجھنے نہ دیجیے ۔ جب تک ایک بھی اچھا انسان زندہ ہے ، انسانیت زندہ ہے ۔ جب تک ایک بھی دل دوسروں کے درد پر دھڑکتا ہے ، اس دنیا میں خیر باقی ہے ۔ اور جب تک خیر باقی ہے ، مستقبل سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

اسلامی تاریخ میں بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے انسان کی عظمت کو اس کے نسب، دولت یا طاقت سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، دیانت اور رحم دلی سے جوڑا۔ آپؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ دنیا میں صرف اچھے حالات ہوں گے ، بلکہ یہ سکھایا کہ برے حالات میں بھی اچھا انسان بن کر رہنا ہی اصل کامیابی ہے ۔ یہی وہ تعلیم ہے جس نے بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک امت میں بدل دیا اور دشمنوں کے دل بھی جیت لیے ۔آج بھی اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسے کردار مل جائیں گے جن کے نام شاید کسی کو معلوم نہ ہوں، مگر ان کی نیکی سینکڑوں زندگیوں میں روشنی بانٹ رہی ہوتی ہے ۔ کوئی نوجوان اپنی جیب خرچ سے کسی غریب طالب علم کی فیس ادا کر دیتا ہے ، کوئی خاتون خاموشی سے ضرورت مند خاندان تک راشن پہنچا دیتی ہے ، کوئی مزدور اپنی غربت کے باوجود راستے میں ملی امانت اس کے مالک تک واپس پہنچا دیتا ہے ، اور کوئی شخص کسی اجنبی کے لیے صرف اس لیے آسانی پیدا کرتا ہے کہ وہ بھی ایک انسان ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی شکست نہیں کھائی۔شاید دنیا کو آج ایک اور بڑی تقریر کی نہیں، بلکہ ایک اچھے انسان کی ضرورت ہے ۔ ایک ایسا انسان جو سچ بولے ، انصاف کرے ، وعدہ نبھائے ، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کرے کہ اچھائی ابھی زندہ ہے ۔ کیونکہ معاشرے قانون سے ضرور چلتے ہیں، مگر زندہ کرداروں سے سنورتے ہیں۔

آخرمیں صرف اتنی سی گزارش ہے کہ اگر کبھی آپ کو یوں محسوس ہو کہ دنیا سے اچھائی ختم ہو گئی ہے ، تو اپنے فیصلے میں جلدی نہ کیجیے ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی گلی میں، آپ کے دفتر میں، کسی ہسپتال کے ایک وارڈ میں، کسی سرکاری دفتر کی ایک میز کے پیچھے ، کسی سکول کی ایک کلاس میں یا کسی کھیت میں پسینہ بہاتے ہوئے ایک ایسا انسان موجود ہو جو اپنے کردار سے اس دنیا کو خوبصورت بنا رہا ہو۔یاد رکھیے ، معاشرے اس دن تباہ نہیں ہوتے جب برے لوگ طاقتور ہو جاتے ہیں، بلکہ اس دن کمزور پڑنے لگتے ہیں جب اچھے لوگ اپنی اچھائی پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔ ایک اچھا انسان صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ اپنے اردگرد امید، اعتماد اور بھروسے کی ایک پوری دنیا آباد کر دیتا ہے ۔شاید آپ بھی کسی کی زندگی میں وہ ایک اچھے انسان ثابت ہو سکتے ہیں، جس کا انتظار اسے برسوں سے ہو۔ کسی کے لیے آسانی پیدا کر دیجیے ، کسی کی عزت بچا لیجیے ، کسی کے آنسو پونچھ دیجیے ، کسی ناامید شخص کو حوصلہ دے دیجیے ۔ ہوسکتا ہے آپ کا ایک چھوٹا سا عمل کسی کی پوری زندگی کا رخ بدل دے ۔ اوریہی اس کالم کا حاصل ہے کہ اس دنیا میں برائیاں اپنی جگہ موجود ہیں، مشکلات بھی ہیں، ناانصافیاں بھی ہیں، لیکن جب تک ایک بھی اچھا انسان زندہ ہے ، انسانیت زندہ ہے ۔امید زندہ ہے ۔ اوراس دنیا کے خوبصورت ہونے کی وجہ بھی زندہ ہے ۔ ایک اچھا انسان ابھی زندہ ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں