ایان اور پنکی
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
میں اب پوری سنجیدگی سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں قانون صرف ان لوگوں کیلئے خطرناک ہے ، جو غلطی سے شریف رہ جاتے ہیں۔ اصل ” ذہین ” لوگ وہ ہیں جو سیدھا بڑا جرم کرتے ہیں، کیونکہ چھوٹا چور تھانے میں ذلیل ہوتا ہے ۔اوربڑا چور پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی پہنچتا ہے ۔ جیب کترو گے تو مار کھاؤ گے ، اربوں کا کھیل کھیلو گے تو ”معزز شخصیت ” کہلاؤ گے ،یہ دنیا اب ایماندار آدمیوں کیلئے نہیں رہی ،ایماندار آدمی فائلوں کے نیچے مرتا ہے ، جبکہ قابل آدمی بارگیننگ کرتا ہے ، چند کاغذوں پر دستخط کرتا ہے ، پھر باعزت بری ہوکر ایسے باہر نکلتا ہے جیسے قوم نے اس سے معافی مانگ لی ہو۔
میں تونوجوانوں کو یہی مشورہ دوں گا کہ اگر قسمت آزمانی ہے تو سیدھا بڑا ہاتھ ماریں ، کیونکہ اس ملک میں جرم کی عزت اس کے سائز
سے ہوتی ہے ، جتنا بڑا دھندا، اتنا بڑاعہدہ،جتنا بڑا سکینڈل، اتنی بڑی گاڑی۔اور جتنا بڑا فراڈ، اتنی بڑی سکیورٹی۔ پھردھندے کے پیسے سے
سیاست میں آجائیں ، ”عوامی خدمت ” کا نعرہ لگائیں، پارٹی بدلنے میں ہرگز شرم محسوس نہ کریں، کیونکہ نظریہ صرف غریب آدمی کیلئے ہوتا
ہے ، طاقتور آدمی کیلئے صرف حکومتی پارٹی ہوتی ہے ۔ لوگ اگر آپ کو لوٹا کہیں تو مسکرا دیں۔ یہ لفظ اب پاکستانی سیاست میں گالی نہیں،
قابلیت سمجھا جاتا ہے ، لوگوں کا کیاہے ،یہ وہی عوام ہیں جو پانچ سال گالیاں دیتے ہیں اور الیکشن والے دن بریانی کھا کر دوبارہ ووٹ بھی
ڈال آتے ہیں۔ پھرآہستہ آہستہ آپ سسٹم کو سمجھنا شروع کریں،آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اس ملک میں اصل قابلیت تقریر، تعلیم یا
دیانتداری نہیں۔بلکہ ” سیٹنگ ” ہے ۔ اگرسیٹنگ مضبوط ہو تو فائلیں بھی سلام کرتی ہیں، تفتیش بھی مؤدب ہوجاتی ہے ۔ اور اینکرحضرات بھی
چند ہفتوں بعد آپ کو اہم سیاسی شخصیت کہنا شروع کردینگے ۔پھرایک دن آپ اسمبلی پہنچ جائیں گے ۔ حیران مت ہوں، یہاں پہنچنے کیلئے
کردار نہیں، سرمایہ چاہیے ، اسمبلی میں داخل ہوتے ہی آپ کو احساس ہوگا کہ قوم کی خدمت واقعی بہت منافع بخش کاروبار ہے ، یہاں ہرشخص
عوام کی غربت پر تقریریں کرتا ہے اورتقریرختم ہوتے ہی دس گاڑیوں کے قافلے میں بیٹھ کر نکل جاتا ہے ،آپ جتنا زیادہ متنازع ہوں گے ،
اتنے ہی زیادہ اہم سمجھے جائیں گے ،ٹی وی چینلز آپ کے پیچھے بھاگیں گے ، صحافی آپ کے موقف کا انتظار کریں گے ۔اور وہی لوگ جو کبھی
آپ کو ڈاکو کہتے تھے ، اب آپ کو سینئر سیاستدان کہہ کر مخاطب کریں گے ،اس کے بعد دھندے کو مزید پھیلائیں۔ ہاؤسنگ، ٹینڈر، کمیشن،
فنڈز، ہر شعبے میں ہاتھ ڈالیں، کیونکہ اس ملک میں محنت سے زیادہ اہم ”رسائی ” ہوتی ہے ۔ اور ہاں، پارٹی فنڈز میں دل کھول کر حصہ
ڈالیں۔ یہ سرمایہ کاری کبھی ضائع نہیں جاتی۔ کل کو آپ بھی وزارت، سینیٹ یا کسی کارپوریشن کے چیئرمین بن سکتے ہیں۔
البتہ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا۔اس ملک میں کامیاب ہونے کیلئے قانون سے زیادہ ” تعلقات ” ضروری ہیں۔ اس لیے دھندے کی
کمائی میں سے کچھ حصہ ان دروازوں تک ضرور پہنچاتے رہیں جہاں سے اصل طاقت نکلتی ہے ، جو فائلیں کھولنے اور بند کرنے کا اختیار رکھتے
ہیں، ورنہ کسی صبح آپ کے دروازے پر بھی کیمرے کھڑے ہوسکتے ہیں۔ اورراتوں رات آپ محب وطن سے ”قومی خطرہ” بن سکتے ہیں۔
کیونکہ پاکستان میں عزت، حب الوطنی اور مقدمات، تینوں چیزیں موسم اور تعلقات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔اوراگرکبھی غلطی سے آپ
پکڑے جائیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ فوراً بیمار پڑ جائیں۔ یہ پاکستان کے بڑے لوگوں کا آزمودہ نسخہ ہے ۔ ، وہاں اے سی کمرہ،
خصوصی کھانا اور ملاقاتوں کا الگ انتظام ہوگا،چند دن بعد قوم کو بتایا جائے گا کہ آپ کی طبیعت نازک ہے اور انسانی ہمدردی کے تحت آپ کو
ریلیف دیا جارہا ہے ،پھربیرون ملک جانے کی تیاری کریں،علاج، تعلیم، سرمایہ کاری، جمہوریت کی بحالی،کوئی بھی خوبصورت سا بہانہ ڈھونڈ
لیں، یاد رکھیں، پاکستان میں جتنا بڑا آدمی ہوگا، اتنا ہی زیادہ اسے بیرون ملک علاج کی ضرورت پڑے گی،کچھ عرصہ خاموش رہیں، پھر وطن
واپسی کریں ،ائیرپورٹ پر کارکن جمع ہوں گے ، پھول برسیں گے ، ٹی وی چینلز ” اہم سیاسی پیش رفت ” کی ہیڈ لائن چلائیں گے ۔اور آپ
دوبارہ قوم کو بچانے نکل کھڑے ہوں گے ۔
بس یہی پاکستان میں کامیابی کا فارمولا ہے ، پہلے دھندا کریں، پھرسیاست کریں، پھراحتساب سے سمجھوتہ کریں، پھر دوبارہ دھندا
کریں۔ اوراگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلتا رہا تو ایک دن آپ بھی قوم کو ایمانداری، قربانی اورجمہوریت پر لیکچر دیتے نظر آئیں
گے۔ بس پھر زندگی مزے سے گزرے گی، آپ ٹی وی پربیٹھ کر قوم کو صبر، قربانی اور قانون کی بالادستی کے درس دیں گے ۔اور قوم تالیاں
بجائے گی،آپ کے بچے بیرون ملک پڑھیں گے ، کاروبار دبئی اور لندن میں ہوگا۔آخری بات،یاد رکھیں ۔پاکستان بڑا ”عظیم ” ملک ہے ،
یہاں جرم کرنا خطرناک نہیں،غریب ہونا خطرناک ہے ، یہاں قانون اندھا نہیں، صرف پہچان والا ہے ۔ یہاں انصاف کی دیوی کی
آنکھوں پرپٹی نہیں،ریٹ لسٹ بندھی ہوئی ہے ۔آخری بار پھرہدایت کر رہا ہوں، حصہ پہنچاتے رہنا ورنہ وہ ایک منٹ میں” ایان علی ” اور ”
انمول پنکی” بنا دیتے ہیں۔
٭٭٭


