میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

ویب ڈیسک
پیر, ۲۹ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں
جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین

کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، جسے پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں۔جماعت الاحرار کا نام عربی زبان سے لیا گیا ہے، جس کے معنی "آزاد لوگوں کی جماعت” ہیں، تاہم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس تنظیم کا نظریہ جمہوری اور آئینی نظام کو مسترد کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنے سخت گیر نظریات نافذ کرنے پر مبنی ہے۔ماہرین کے مطابق جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014 میں اس وقت رکھی گئی جب تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے اندر قیادت کے تنازع کے باعث مہمند ایجنسی کے کمانڈر عمر خالد خراسانی نے تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس وقت ٹی ٹی پی کی قیادت ملا فضل اللہ کے پاس تھی، جس کے بعد تنظیم کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے اور متعدد کمانڈرز نے ایک نئے دھڑے کی تشکیل کا اعلان کیا۔تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ نئی تنظیم کے قیام کا مقصد ٹی ٹی پی کے اندر تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات تھے۔ ان کے مطابق بعض مقامی اور غیر ملکی جنگجوں نے بھی اس نئے دھڑے کا ساتھ دیا، جسے بعد میں جماعت الاحرار کے نام سے جانا گیا۔تنظیم کے بانی عمر خالد خراسانی ماضی میں صحافت سے وابستہ رہے اور بعد ازاں شدت پسند سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔ ان پر امریکا نے انعام بھی مقرر کیا تھا، جبکہ اگست 2022 میں افغانستان میں ایک بم دھماکے میں ان کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان کے بعد تنظیم کی قیادت مختلف شدت پسند کمانڈرز کے پاس رہی اور بعدازاں عمر مکرم خراسانی کو تنظیم کا سربراہ قرار دیا گیا۔سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد پاکستان کے آئینی، جمہوری اور پارلیمانی نظام کو ختم کرکے اپنے نظریات کے مطابق نظام نافذ کرنا ہے۔ تنظیم ماضی میں اپنے بیانات اور لٹریچر میں ریاستی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے عزائم ظاہر کرتی رہی ہے۔پاکستان میں اس تنظیم پر متعدد بڑے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے، جن میں 2014 کا واہگہ بارڈر خودکش حملہ، لاہور کے یوحنا آباد میں گرجا گھروں پر حملے، پنجاب کے سابق وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر حملہ اور 2017 میں لاہور مال روڈ دھماکہ شامل ہیں، جن میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔پاکستان نے نومبر 2016 میں جماعت الاحرار کو کالعدم قرار دیا، جبکہ بعد ازاں امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی اسے عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس کے اثاثے منجمد کر دیے۔اپریل 2017 میں تنظیم کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور تنظیم سے متعلق کئی اہم انکشافات کیے، تاہم وہ فروری 2020 میں سرکاری تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔اسی برس اگست 2020 میں جماعت الاحرار نے دوبارہ تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ اگرچہ اس کے بعد یہ ایک الگ تنظیم کے طور پر سرگرم نظر نہیں آئی، تاہم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس کے جنگجو اور کمانڈر ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں میں بدستور


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں