میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زمین سے کائناتی چیز کے ٹکراؤ کا قدیم ترین نشان تقریباً سوا تین ارب سال پرانا ہے، نئی دریافت

زمین سے کائناتی چیز کے ٹکراؤ کا قدیم ترین نشان تقریباً سوا تین ارب سال پرانا ہے، نئی دریافت

جرات ڈیسک
هفته, ۲۷ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایک نئی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ زمین پر کسی نیزے (شہابِ ثاقب) کے ٹکراؤ کا قدیم ترین معلوم نشان تقریباً 3.024 ارب سال پرانا ہے ۔

یہ دریافت ہے  زمین کی تاریخ کے قدیم ترین صفحات میں سے ایک پر روشنی ڈالتی ہے اور سیارے کے آغاز کو سمجھنے کے لیے  نئی کھڑکی کھولتی ہے۔

ویب سائٹ "دا کنورسیشن” کے مطابق محققین چٹانوں کے اندر موجود خورد بینی معدنیات کا تجزیہ کر کے اس ٹکراؤ کی عمر کا درست تعین کرنے میں کامیاب رہے جو زمین پر گزرنے والے شدید ترین ادوار میں سے ایک کا ایک نادر ثبوت ہے ۔

یہ آتش فشاں چٹانیں، جو تقریباً 3.5 ارب سال پہلے وجود میں آئی تھیں، مغربی آسٹریلیا کے علاقے”نارتھ پول ڈوم” میں واقع ہیں۔

یہ چٹانیں کٹاؤ کے عمل اور ارضیاتی سرگرمیوں سے محفوظ رہی ہیں جنہوں نے قدیم زمین کے بیشتر آثار کو مٹا دیا تھا اور انہوں نے قدیم ترین دور (آرکئین عہد) میں ہونے والے ایک کائناتی ٹکراؤ کے واضح نشانات کو اپنے اندر محفوظ رکھا ہوا ہے ۔

سائنسدانوں نے 2025 میں اس علاقے میں ایک قدیم ٹکراؤ کے گڑھے (کریٹر) کی موجودگی کے اشارے ملنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کی عمر بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔

جریدے ’’ جیولوجی‘‘ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق نے چٹانوں کے اندر موجود معدنیات کے تجزیے کے لیے جدید ترین تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کر دیا ہے ۔

ارضیاتی گھڑیاں؟

محققین نے زرکون (Zircon) اور ایپی ٹائٹ (Apatite) معدنیات کے باریک کرسٹلز کے تجزیے پر انحصار کیا جو "ارضیاتی گھڑیوں” کے طور پر کام کرتے ہیں اور اربوں سالوں کے دوران چٹانوں پر گزرنے والے واقعات کا ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں۔

زرکون کے اندر یورینیئم کے ایٹم ہوتے ہیں جو ایک مستقل شرح سے بتدریج سیسے (Lead) میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے سائنسدانوں کو کرسٹلز کی عمر اور ان پر گزرنے والے بڑے ارضیاتی واقعات کے وقت کا حساب لگانے میں مدد ملتی ہے ۔

تجزیوں سے معلوم ہوا کہ زرکون کے کچھ کرسٹلز کی عمر 3.4 ارب سال سے زیادہ تھی جبکہ دیگر کرسٹلز نے ایسے آثار ظاہر کیے جو براہ راست تقریباً 3.024 ارب سال پہلے ہونے والے ٹکراؤ کے واقعے سے جڑے ہوئے ہیں۔

نتائج کی تصدیق کے لیے محققین نے ایپی ٹائٹ معدنیات کا بھی تجزیہ کیا جس نے تقریباً وہی عمر ریکارڈ کی ۔ اس سے ایک آزاد ثبوت ملا جس نے اندازوں کی درستی کو مزید تقویت دے دی۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسکووائٹ (Muscovite)معدنیات بعد کے ارضیاتی واقعات کے نتیجے میں تقریباً 1.66 ارب سال پہلے وجود میں آئیں لیکن اس کا تعلق ٹکراؤ کے وقت سے نہیں ہے بلکہ یہ چٹانوں کی تاریخ کے ایک جدید تر مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے ۔

ایک نادر ریکارڈ

محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ دریافت "نارتھ پول ڈوم” کے علاقے کو زمین پر موجود قدیم ترین معلوم ٹکراؤ کا گڑھا بناتی ہے اور یہ واحد تصدیق شدہ گڑھا ہے جس کا تعلق آرکئین عہد سے ہے جو چار ارب سے ڈھائی ارب سال پہلے تک پھیلا ہوا ہے ۔

یہ وہ دور تھا جس میں زمین کی پہلی اوپری تہہ (قشر) بنی اور زندگی کی ابتدا ہوئی۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کا نشان ملنا ایک غیر معمولی امر ہے کیونکہ زمین ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت، کٹاؤ اور حرارت کی وجہ سے مسلسل اپنی سطح کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔

اس کے نتیجے میں اس کی تاریخ کے آغاز میں شہابِ ثاقب کے چھوڑے ہوئے زیادہ تر گڑھے غائب ہو چکے ہیں۔

یہ دریافت محققین کو ایک ایسے مرحلے کا مطالعہ کرنے کا نادر موقع فراہم کر رہی ہے جس کے دوران زمین کائناتی ٹکراؤ کی بوچھاڑ کی زد میں تھی اور یہ وہ واقعات ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انہوں نے زمین کی اوپری تہہ کی تشکیل میں حصہ لیا اور شاید زندگی کے ظہور سے پہلے کے حالات سازگار بنانے میں مدد کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں