فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن
شیئر کریں
عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا
عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمیٹی کاخط بھجوایا ، جس کا اب تک جواب نہیں ملا، قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفرآباد کی طرف کل کا مارچ مؤخر کیا ہے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کا ویڈیو جواب دیا ہے اور حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی طرف سے تقریروں کی بنیاد پر ایکشن لیا جانا کیسے درست ردعمل ہے؟ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے اور آج ہم کیا کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردعمل بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہیٔے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے۔ عالمی سطح پر عالمی امن سے حکومت نیک نامی کما رہی ہے تو پاکستان میں نیک نامی گنوا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے، اپوزیشن کو مجبور نہ کریں، ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا، حکومتی پارٹی ایسے جلسے کرکے دکھا دے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی فوج کو سرحدوں میں ہونا چاہیے لیکن اسے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، اگر وہ انتخابات میں نتائج تبدیل کرتے ہیں تو پھر ہم جواب دیں گے، اگر وہ سیاست کریں گے تو ہم سیاست میں جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم گونگے نہیں ہیں اور گونگے شیطان نہیں بنیں گے، ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم بات کریں گے۔ اگر ادارے ٹیکس کے پیسے لیکر اس کا سیاسی استعمال کریں گے تو پھر اس ایوان میں جواب دیں گے۔امیر جے یو آئی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بتائیں گے کہ جب ہم کنٹینر پر ہوتے تھے تو کیا وہ آرمی چیف اور فوج کا نام نہیں لیتے تھے، کیا ان کے ساتھ اسٹیج سے فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا جاتا تھا۔


