میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
این آئی سی وی ڈی میں ہراسگی، بلیک میلنگ اور ملازمت سے برطرفی کا تنازع

این آئی سی وی ڈی میں ہراسگی، بلیک میلنگ اور ملازمت سے برطرفی کا تنازع

ویب ڈیسک
منگل, ۲۳ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسسٹنٹ منیجر نرس کے خاتون نرس اور ڈائریکٹر نرسنگ پر سنگین الزامات،غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ
خاتون نرس فریال راجپر اور ڈائریکٹر نرسنگ شمسی سمانی کیخلاف سنگین الزامات عائد ،مقدمہ درج کرادیا

(رپورٹ: افتخار چوہدری) نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (این آئی سی وی ڈی)میں اسسٹنٹ منیجر نرس جئے کمار نے خاتون نرس فریال راجپر اور ڈائریکٹر نرسنگ شمسی سمانی کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے صدر تھانے میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔جئے کمار کے مطابق وہ گزشتہ 10 برس سے این آئی سی وی ڈی میں بطور اسسٹنٹ منیجر نرس خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ چند ماہ قبل فریال راجپر نے واٹس ایپ کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ کنٹریکٹ بنیادوں پر نرس کے طور پر بھرتی ہوئی ہیں۔مدعی کے مطابق بعد ازاں فریال راجپر نے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے اور مسلسل رابطے میں رہیں۔ جئے کمار کا الزام ہے کہ اس دوران خاتون نرس کی جانب سے انہیں نامناسب نوعیت کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بھیجی جاتی رہیں۔جئے کمار کے مطابق 18 مارچ کو فریال راجپر نے ان سے قرض کی مد میں 5 لاکھ روپے طلب کیے، جس پر 3 اپریل کو دفتر آ کر رقم وصول کی گئی۔ ان کا مزید دعوی ہے کہ بعد ازاں خاتون نرس نے مزید 20 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف شکایت کر کے ملازمت ختم کروانے کی دھمکی دی۔مدعی کے مطابق 6 اپریل کو فریال راجپر نے ڈائریکٹر نرسنگ شمسی سمانی کے ساتھ مل کر ان کے خلاف ہراسگی کی شکایت درج کروائی، جس کے بعد بغیر کسی ثبوت کے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، جس سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ اور کیریئر کو شدید نقصان پہنچا۔جئے کمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا اور عدالتی کارروائی کے دوران خاتون نرس کی جانب سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، جس کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں پولیس نے 10 جون کو مقدمہ درج کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ این آئی سی وی ڈی انتظامیہ تفتیشی افسر پر دبا ؤڈال رہی ہے اور مقدمے کی شفاف تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ جئے کمار کے مطابق انہوں نے انکوائری کمیٹی میں شمسی سمانی کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا تھا، تاہم ان کے اعتراض کو نظر انداز کر دیا گیا۔جئے کمار نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کروائی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں