میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ،گلستانِ جوہر میں ضابطوں کو للکارتے تعمیراتی منصوبے

سندھ بلڈنگ،گلستانِ جوہر میں ضابطوں کو للکارتے تعمیراتی منصوبے

ویب ڈیسک
هفته, ۲۰ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

آصف شیخ کے سسٹم میں رعایتوں کے باعث خطرناک تعمیرات جاری، مکین عدم تحفظ کا شکار
کے ڈی اے اسکیم 36، بلاک 11کے پلاٹس بی 516، ایس بی34+35پر تعمیراتی لاقانونیت

گلستانِ جوہر کے رہائشی علاقوں میں تعمیراتی ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی اور عدم کارروائی شہری حلقوں میں تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے ۔ کے ڈی اے اسکیم 36، بلاک 11 میں واقع پلاٹ نمبر بی 516 اور ایس بی-34+35 پر تعمیر ہونے والی عمارتیں نہ صرف منظور شدہ قوانین کا مذاق اڑاتی دکھائی دیتی ہیں بلکہ ماہرین کے مطابق مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ تعمیرات میں سیٹ بیک، پارکنگ، نقشہ منظوری اور حفاظتی تقاضوں سمیت متعدد قواعد کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ شہریوں کے مطابق ان عمارتوں کی تعمیر کے دوران کئی بار متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی، تاہم مؤثر کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آصف شیخ کے دورِ انتظام میں بعض تعمیراتی منصوبوں کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں، جس کے نتیجے میں بلڈنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ممکن ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان عمارتوں کا تکنیکی اور قانونی جائزہ نہ لیا گیا تو مستقبل میں انسانی جانوں اور املاک کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شہری و سماجی حلقوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ پلاٹس پر تعمیر شدہ عمارتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔علاقہ مکینوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر قوانین صرف عام شہریوں کے لیے ہیں اور بااثر عناصر کو استثنیٰ حاصل رہے گا تو شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا ناسور مزید پھیلتا جائے گا، جس کے نتائج پورے شہر کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں